
Highlights From The Novels
” صاحب کی لائبریری میں آنے کی اجازت نہیں ہے!۔۔۔” سب کو پتہ تھا کہ ابریش روحان کی انچاہی بیوی ہے۔ ” میں صاحب کی بیوی ہوں سمجھ آئی۔۔۔۔” ابریش لائبریری میں کتابیں پڑھتی وپیں سوگئی۔۔۔ روحان اس کے قریب آکر کھڑا ہو گیا۔ نیند میں گہرے سانس لے رہی تھی۔ سینا اوپر نیچے ہو رہا تھا۔ ابریش کی آنکھ کھلی ” ارے جلاد تم خواب میں آگئے۔ تم بہت ہینڈ سم ہو دل کرتا ہیں بلڈنگ سے دھکا دے دوں! لیکن ابھی تو میرے بچے بھی دنیا میں نہیں آئے۔۔۔ تم جلاد پاس آؤ گے تو بچے ہونگے نا۔۔۔” وہ انگڑائی لیتی الٹی ہوگئی۔ اسکی جسم کے رائنیاں دیکھ خر روحان نے اسے سیدھا کیا۔ اور اس ایک دھڑکن کو دباتا دوسرا کاٹنے لگا۔ ابریش سسکیاں لیتی نیند ے بیدار ہوئی۔ اسے گود میں اٹھاتا ٹیبل پر بیٹھایا۔ بچے چاہیے نا؟؟؟ یہ کہتا وہ۔۔۔۔
وہ اس وقت روحان خانزادہ کی لائبریری میں موجود تھی وہاں پر موجود کتابوں کی کلیکشن کو دیکھ کر اس کا دل خوشی سے جھوم اٹھا تھا۔۔۔چلو ایک بات تو اس دشمن جان میں کامن تھی کہ ان دونوں کی پسند ایک جیسی تھی دونوں ہی کو کرائم اور تھرل بیسڈ ناول پسند تھے اور اس کے ساتھ ساتھ وہاں پر سیاست کے حوالے سے بھی ڈھیر ساری کتابیں موجود تھیں جو چیخ چیخ کر روحان کے ذوق کا بتا رہی تھیں۔۔ ” اب مجھے پتہ چل رہا ہے کہ یہ اتنا کھڑوس کیوں ہے؟؟ ” اس نے برا سا منہ بناتے ہوئے دل ہی دل میں سوچا اسی وقت ہی ملازمہ ہانپتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔۔ ” بی بی صاحبہ آپ یہاں سے چلیں۔۔۔۔” وہ کافی زیادہ گھبرائی ہوئی تھی اس کی بات سن کر ابریش کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے۔۔۔
” کیوں کیا یہاں بھی تمہارے صاحب کا نام لکھا ہوا ہے؟؟ ” نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے لبوں سے تلخ جملہ نکل گیا تو ملازمہ نے فورا سے سر جھکا لیا۔۔ “وہ بی بی صاحبہ اصل میں یہ سر کا پرائیویٹ روم ہے یہاں پر کسی کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے ان کو پتہ چلا تو وہ بہت زیادہ ناراض ہوں گے اور مجھ پر غصہ کریں گے۔۔” یہ سن کر ابریش کے لبوں پر تنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی۔” تم شاید بھول رہی ہو کہ میں تمہارے صاحب کی بیوی ہوں اور اگر میں نے ان کو تمہاری شکایت لگا دی تو تمہارا اس حویلی میں آخری دن ہو سکتا ہے اور پھر شاید اس کے بعد تمہیں دوبارہ کبھی اس کمرے کی رکھوالی کرنے کی بھی زحمت نہ کرنی پڑے۔۔۔” ابریش اپنے انداز پر خود حیران رہ گئی تھی۔۔۔
جبکہ دوسری طرف ملازمہ کے چہرے کی ہوائیاں اڑ چکی تھیں اسے باقی ملازموں سے پتہ چلا تھا کہ ابریش صاحب کی ان چاہی بیوی ہے وہ ان کے پاس جانا تو دور کی بعد ان سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور جب بھی حویلی آتے ہیں اپنا سارا وقت اسی کمرے میں ہی گزارتے ہیں لیکن یہاں پر ابریش کا لب و لہجہ اور اس کا انداز تو کچھ اور ہی کہانی سنا رہا تھا وہ فورا سے معذرت کر کے کمرے سے باہر نکلی تھی جبکہ دوسری طرف کھڑی ابریش کا دل عجیب سے انداز میں دھڑکا تھا اور اس کا پورا وجود خوف سے بھر گیا تھا۔۔۔۔
” کیا مجھے یہاں سے چلے جانا چاہیے کیونکہ اگر یہ اس دشمن جان کا پرائیویٹ روم ہے تو وہ واقعی میں مجھے جان سے مار دے گا۔۔۔ ” وہ دل ہی دل میں اپنے آپ سے سوال جواب کر رہی تھی ” بس تھوڑی دیر اور رکتی ہوں پھر چلی جاؤں گی۔۔۔” اس نے اپنے دل و دماغ سے روحان کا ڈر جھٹکنے کی کوشش کی اور ایک کتاب اٹھا کر صوفے پر پڑھنے کے لیے بیٹھ گئی وہ اس کام میں اتنی مگن تھی کہ اسے اندازہ ہی نہ ہوسگا کہ کب روحان اندر داخل ہوا۔۔۔۔
دوسری طرف جب روحان خانزادہ نے کمرے میں لیڈیز پرفیوم کی مہک محسوس کی تو وہ اپنی جگہ پر ٹھٹکا تب ہی اس کی نظر سفید ٹانگوں پر پڑی جوکہ صوفے سے نیچے ڈھلک رہیں تھیں لمحے کے ہزارویں حصے میں ساری کہانی اس کی سمجھ میں آچکی تھی وہ تیز قدم اٹھاتا ہوا ابریش کی طرف بڑھا لیکن سامنے اس کا بے ڈھنگا وجود دیکھ کر وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی جگہ پر رک گیا تھا کتاب پڑھتے پڑھتے کب ابریش کی آنکھ لگی اسے اندازہ ہی نہ ہو سکا اب وہ کتاب زمین پر پڑی ہوئی تھی یہ دیکھ کر روحان نے مضبوطی سے اپنےلب بھینچے تھے کیونکہ اسے کتاب بے حد پسند تھی اور وہ ان کو بہت سنبھال سنبھال کر رکھتا تھا۔۔۔
اس نے جھک کر کتاب اٹھائی اور سائیڈ پر پڑے میز پر رکھی اور پھر اسی تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔”رضیہ کہاں ہو تم۔۔۔” وہ اونچی اونچی آواز میں ملازمہ کا نام لے رہا تھا اگلے کچھ ہی لمحوں میں وہ بوتل کے جن کی طرح اس کے سامنے حاضر ہوئی۔۔ “جی جی صاحب جی۔۔۔” اس کا غصہ دیکھ کر ہی رضیہ کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔ ” میں نے جب تمہیں کہا تھا کہ میری غیر موجودگی میں کوئی بھی میرے روم کو اوپن نہیں کرے گا تو پھر کیا سوچ کر تم نے بی بی صاحبہ کو اندر جانے کی اجازت دی؟” وہ ایک ایک لفظ چباتے ہوئے بولا۔۔۔
یہ سن کر رضیہ نے اپنا سر جھکایا اور سہمے ہوئے لہجے میں بولی۔۔” صاحب جی میں نے بی بی صاحبہ کو منع کیا تھا لیکن انہوں نے مجھے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ وہ آپ کی بیوی ہیں اور ہر چیز پر اتنا ہی حق رکھتی ہیں جتنا حق آپ کا ہے اور اگر میں نے آپ کو بتانے کی کوشش کی تو وہ مجھے نوکری سے نکلوا دیں گی۔۔۔” چونکہ رضیہ روحان کی سب سے پرانی خاص اور وفادار ملازمہ تھی وہ اس سے کچھ بھی نہیں چھپاتی تھی ابھی بھی اس نے سب کچھ اگل دیا تھا دوسری طرف روحان کا منہ حیرت کے مارے کھلا کا کھلا رہ گیا تھا۔۔۔
” کیا یہ سب کچھ تمہیں بی بی صاحبہ نے کہا ہے؟” اس نے تصدیق کرنے کے لیے دوبارہ سے سوال پوچھا تو رضیہ پوری قوت سے ہاں میں گردن ہلانے لگی۔۔۔” جی صاحب جی انہوں نے کہا ہے اور اس کے علاوہ وہ یہ بھی۔۔۔” ” بس دوبارہ مجھے اس کی شکایت مت لگانا مجھے چغلی کرتی ہوئی عورتوں سے شدید نفرت ہے اب جاؤ یہاں سے” وہ ہاتھ اٹھا کر اسے وہاں سے بھیج چکا تھا اور خود ایک بار پھر سے روم میں داخل ہو گیا تھا اس بار اس کا ابریش کو دیکھنے کا انداز کافی الگ تھا وہ بہت ہی غور سے اس کے چہرے کا طواف کر رہا تھا اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ ابریش بے حد حسین تھی وہ کسی کا بھی ایمان ڈگمگانے کی صلاحیت رکھتی تھی۔۔۔۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ معصوم تھی اور پاک دامن تھی وہ عورت کسی کا بھی خواب ہو سکتی تھی روحان کی نظریں اس کے چہرے سے بھٹکتی ہوئی اس کی گردن پر جا کر رک گئیں تھیں جہاں پر ایک کالے رنگ کا تل اس کی توجہ کھینچ رہا تھا وہ نیند میں گہرے گہرے سانس لے رہی تھی اس کا سینه مسلسل اوپر نیچے ہو رہا تھا روحان اب اس کے دھڑکنوں کا طواف کر رہا تھا اگلے ہی پل ابریش نے سوتے ہوئے ہی ایک بھرپور انگڑائی لی اور الٹی ہو کر لیٹ گئی تھی اس کی بیک شرٹ کی زپ کھلی ہوئی تھی۔۔۔
Story From The Novel
Abrish wandered into Rohan Khanzada’s private library and was instantly captivated by its vast collection of crime, thriller, and political books. As she admired the shelves, she realized that despite being enemies, they shared the same taste in literature. A nervous maid rushed in and begged her to leave, explaining that no one was ever allowed inside Rohan’s personal library. Refusing to back down, Abrish reminded the maid that she was Rohan’s wife and had every right to be there. Although she spoke with confidence, fear lingered in her heart because she knew how furious Rohan could become if he found her there.
Determined to enjoy the books for a little longer, Abrish sat on the sofa and soon became so absorbed in reading that she fell asleep. Later, Rohan returned to his library and immediately noticed the unfamiliar scent of women’s perfume. Realizing someone had entered his private space, he walked over and found Abrish sleeping peacefully with a book lying on the floor. Instead of waking her in anger, he quietly picked up the book, placed it safely on the table, and left the room. He then confronted the maid, demanding to know why she had allowed anyone into the library. Trembling with fear, she admitted that Abrish had insisted on staying, saying she had the same rights as his wife that he had as the owner of the house.
After hearing the explanation, Rohan returned to the library and stood silently beside the sleeping Abrish. For the first time, he looked at her carefully instead of with resentment. He noticed her innocence, her peaceful expression, and the quiet vulnerability she carried. His anger gradually faded, replaced by confusion and curiosity. Though he still considered their marriage unwanted, this unexpected moment made him see Abrish differently, hinting that the distance between them might not remain the same forever.Download Novel By Clicking Download Button Below