
Scene From The Novel
” شروع کے تین سال میں اگر تم نے مجھے تین لڑکے پیدا کر کے نہیں دیے تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔” میرب اس سفاک کی باتیں سنتے کانپی تھی۔ ” م۔۔ مجھے سب قبول ہے بس میری ماں کا علاج کروادیں۔۔۔۔” وہ حسام وجدان کے آگے گڑ گڑائی تھی۔ ” ٹھیک ہے کل تیار رہنا نکاح کر کے تمہیں فلیٹ پر لے کے جاؤں گا۔۔۔۔” میرب کا ساتواں مہینہ چل رہا تھا۔ سیڑھیوں سے گرنے کی وجہ سے اسے ایمر جنسی میں ہاسپٹل لے گئے۔ ” سوری سر آپ کی وائف کے پرانے الٹراساؤنڈ رپورٹس میں ایک ہی بچہ آیا تھا ابھی پتہ چلا ہے کہ ان کے پیٹ میں تین بچے ہیں لیکن ام میچیور ڈلیوری کی وجہ سے ہم کسی ایک کی جان ہی بچا سکتے ہیں۔ ان پیپرز پہ سائن کر دیں۔” آپریشن ٹھیٹڑ کے باہر حسام بے جان کھڑا تھا۔ اچانک میرب کی ایک خوفناک چیخ نکلی اور تین بچوں کے رونے کی آواز کانوں سے ٹکرائی۔۔
۔ پورے ہسپتال میں سکوت کا عالم تھا گھڑی کی سوئی کی ٹک ٹک حسام کے دماغ میں کسی ہتھوڑے کی طرح بج رہی تھی وہ خاموش تھا مگر ہسپتال کے کمرے کے باہر ایک نوجوان شخص عجیب بےبسی کا شکار تھا۔ حسام وجدان جس کے ایک اشارے پر شہر کی بڑی بڑی ڈیلز طے پا جاتی تھیں، جو اپنی ضدی اور سفاک طبیعت کے لیے مشہور تھا بہت سی کمپنیاں جو حسام سے ڈیل کرنے کو ترستی لیکن سب جانتے تھے کہ حسام سے جو ایک مرتبہ ڈیل کر لیتا پھر وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتا تھا۔۔۔کیونکہ پھر پیچھے ہٹنے والے کو وہ تباہ و برباد کر دیتا تھا پورا شہر اس کی دہشت میں تھا ہر کوئی اس کا نام سنتے ہی تھر تھر کانپنے لگتا وہ جہاں قدم رکھتا وہاں پر جیسے ایک نئی دنیا آباد ہو جاتی ہر کوئی سہم کراس کی طرف دیکھتا اور آج وہ خود کسی لڑکی کے لیے بے چین ہو رہا تھا پریشان ہو رہا تھا جیسے اس کا کچھ رک سا گیا تھا۔
آج ہسپتال کی ٹھنڈی دیوار سے ٹیک لگائے بے جان سا کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں ڈاکٹر کی دی ہوئی وہ فائل تھی جس پر اس کے دستخط میرب یا اس کے بچوں کی زندگی اور موت کا فیصلہ کر سکتے تھے۔” شروع کے تین سال میں اگر تم نے مجھے تین لڑکے پیدا کر کے نہیں دیے تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا!۔۔۔ ” اس کے اپنے ہی کہے ہوئے الفاظ اس کے کانوں میں ہتھوڑے کی طرح بج رہے رہے تھے۔ کیا اس کے الفاظ اس کے سامنے آ رہے تھے اس کی آنکھوں میں آنسو تھے تبھی اسے میرب کے آنسو یاد آئے اس دن میرب کے آنسو، اس کا خوف سے کانپتا وجود، اس کی گڑ گڑاہٹ… “مم۔ مجھے سب قبول ہے بس میری ماں کا علاج کروا دیں… ” حسام نے اس کی بےبسی کا بھر پور فائدہ اٹھایا تھا اور اس وقت اسے اس پر ترس بھی نہ آیا اسے اس بات کا اندازہ ہی نہ ہوا کہ وہ کتنی بڑی غلطی کرنے جا رہا ہے۔۔۔۔
یقینا اس کے بعد اسے اپنی غلطی پر پچھتاوا ہونا تھا کیونکہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا جو شخص اڑنے کی کوشش کرتا ہے پھر وقت اسے گرا بھی دیتا ہے اور اوندھے منہ گراتا ہے کہ انسان نہ سیدھا ہونے کے قابل رہتا ہے اور نہ ہی گرے رہنے کے اور پھر وہ وقت آیا جہاں پہلے وہ میرب پر قابض تھا لیکن آج، جب وہ خود اس موڑ پر کھڑا تھا جہاں اس کی ضد پوری ہو رہی تھی مگر آج نہ تو وہ مغرور تھا اور نہ ہی بادشاہ وہ تو بس بے بسی سے کھڑا تھا۔۔۔۔تین بچے! تو اس کے اندر کا غرور چور چور ہو رہا تھا۔”سر فائل پر سائن کر دیں، وقت بہت کم ہے!” ڈاکٹر نے مضطرب ہو کر حسام کے شانے کو ہلایا۔ ” ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا، بچوں کی سانسیں اکھررہی ہیں اور میرب بی بی کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک گر چکا ہے۔ پیشنٹ کی جان بھی خطرے میں ہے!” حسام نے کپکپاتے ہاتھوں سے پین اٹھایا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے میرب کا وہ معصوم چہرہ گھوم گیا جو پچھلے سات مہینوں سے خاموشی سے اس کے ہر حکم کی تعمیل کر رہا تھا۔ وہ فلیٹ کی تنہائی میں گھٹتی رہی، اس کے تلخ رویے سہتی رہی، لیکن اس نے کبھی شکایت نہیں کی تھی۔ ” میں…” حسام کی آواز حلق میں اٹک گئی۔ ” میں میرب کو نہیں کھو سکتا۔ مجھے میری بیوی چاہیے! ڈاکٹر، مجھے میرب زندہ چاہیے، سن رہے ہیں آپ؟”ڈاکٹر نے جلدی سے فائل اس کے ہاتھ سے جھپٹی اور آپریشن تھیڑ کا بھاری دروازہ بند ہوگیا۔
وقت جیسے تھم گیا تھا۔ ہسپتال کی راہداری میں لگی گھڑی کی ٹک ٹک حسام کے دل کی دھڑکنوں سے مقابلہ کر رہی تھی۔ حسام نے اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا۔۔۔۔ آج اسے پہلی بار احساس ہوا تھا کہ میرب اس کے لیے صرف ایک معاہدہ نہیں تھی، وہ خاموشی سے اس کی زندگی کے تانے بانے میں بن چکی تھی۔ اس کا صبح کا چائے کا کپ، اس کے کپڑے سنبھالنا، اس کے ڈر کر پیچھے ہٹنا۔۔۔۔۔حسام کے پیچے بھاگنا دل میں ایک عجیب سا درد اٹھا۔ “یا اللہ۔۔۔۔۔” حسام نے اپنی زندگی میں شاید پہلی بار اتنی عاجزی سے ہاتھ اٹھائے تھے۔ ” میں نے اس پر ظلم کیا۔ میں نے اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھایا۔ مجھے معاف کر دے… میری میرب کو بچا لے۔۔۔۔ ” ابھی وہ دعا مانگ ہی رہا تھا کہاچانک آپریشن تھیٹر کے اندر سے میرب کی ایک خوفناک چیخ ابھری! حسام کا دل سینے سے نکل کر حلق میں آگیا۔ اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر دروازے کا شیشہ دیکھا۔ اندر افرا تفری مچی ہوئی تھی۔ اور پھر… ایک کے بعد ایک، لیکن تین بچوں کے رونے کی آوازیں آنے لگیں
Story From The Novel
This scene reaches a highly emotional turning point. Hesam, who had once treated Meher as nothing more than part of a contract and cruelly demanded three sons from her, is now terrified of losing her. For the first time, he realizes how deeply his words and actions had hurt her and understands that he had taken advantage of her helplessness when she agreed to the marriage only to secure treatment for her mother.
As Meher is rushed into emergency surgery during her seventh month of pregnancy, the doctors discover that she is carrying triplets. Because of the premature delivery, they initially warn Hesam that they may only be able to save one life. Faced with an unbearable decision, Hesam refuses to think about the children alone and desperately begs the doctors to save his wife.
While waiting outside the operating room, he remembers Meher’s fear, her silent obedience, and all the times she endured his harsh behavior without complaining.Then Meher’s cry suddenly echoes through the hospital, followed by the cries of three newborn babies. For the first time, Hesam’s pride and arrogance completely disappear.
The powerful man whom everyone feared stands helplessly outside the operating room, realizing that Meher has become an irreplaceable part of his life. The birth of the three children becomes the moment that forces him to confront his cruelty, regret his actions, and finally understand the value of the woman he once treated as a mere obligation.Download Novel By Clicking Download Button Below