
Highlights From The Novel
” تم یہ سیاہ رنگ پہن لو، آج تمہارے شوہر کی دوسری شادی ہے۔۔” اور وہ اپنا بے پروا حسن لئے وہی رنگ پہن کر گھر کے کاموں میں لگی تھی۔ سب کی نظریں پھٹ پھٹ کر اس پر اٹھ رہی تھیں، خاص طور مردوں کی، زین شاہ کے ساتھ اس یتیم کا زبر دستی دادا نے نکاح کروا دیا تھا تاکہ ان کے بعد وہ اکیلی نہ ہو، لیکن زین شاہ اسے ایک نگاہ اٹھا کر دیکھتا تک نہیں تھا، اور آج اپنی من پسند لڑکی سے شادی بھی کر رہا تھا۔ آئمہ اسکے کپڑے کمرے میں رکھ کر جونہی پلیٹی، زین شاہ کے دوست کی نیت اس پر خراب ہوئی تھی اور وہ اسکے ساتھ زبردستی کرنے لگا۔ اسی وقت زمین شاہ کمرے میں آیا تو سامنے کا منظر دیکھ کر اسکی رگوں میں خون دوڑ گیا۔ ” تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کو ہاتھ لگانے کی۔”وہ اسے بری طرح مارنے لگا اور ایک تماشا لگ گیا۔۔ وہ زین کے سینے سے لگی بری طرح رو رہی تھی کہ سب کمرے میں۔۔۔۔
تم یہ سیاہ رنگ پہن لو آج تمہارے شوہر کی دوسری شادی ہے ” نوشین بیگم نے سیاہ رنگ کا بالکل سادہ اور بے رونق سوٹ آئمہ کے منہ پر پھینکتے ہوئے زہر آلود لہجے میں کہا تھا۔ “ہاں بالکل ویسے بھی تمہاری اس گھر میں حیثیت ایک نحس وجود سے زیادہ تھوڑی ہے۔ زین شاہ کا دل تو آج آباد ہونے جارہا ہے تم اپنے نصیب کا ماتم اس سیاہ لباس میں ہی مناؤ تو بہتر ہو گا” قریب ہی کھڑی پھوپھو نے بھی تیکھے تیوروں کے ساتھ اپنے حصے
کی آگ لگائی۔ آئمہ نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ اس نے نیچے جھک کر وہ سیاہ کپڑے اٹھائے اپنی جھیل سی گہری آنکھوں کو جھکایا اور خاموشی سے اپنے چھوٹے سے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
اس کے لرزتے ہونٹوں پر نہ کوئی شکوہ تھا نہ ہی آنکھوں میں کوئی التجا۔۔ شاہ ولا میں آج جشن کا سماں تھا۔ روشنیاں پھولوں کی سجاوٹ اور مہمانوں کا شور ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔ زین شاہ یعنی اس کا شوہر جو اس کے مرحوم چاچا کا بیٹا بھی تھا آج اپنی پسندیدہ لڑکی مہوش سے شادی کرنے جار ہا تھا۔ آئمہ کے لیے اس گھر میں انکار یا بغاوت کا کوئی حق نہیں تھا، وہ تو بس ایک اُمید پر جی رہی تھی جو دادا جان کے جانے کے ساتھ ہی ختم ہو چکی تھی۔ تھوڑی دیر بعد جب آئمہ اپنے کمرے سے باہر نکلی تو وقت جیسے ایک لمحے کے لیے تھم گیا۔ سیاہ سادہ سوٹ میں بغیر کسی میک اپ کے کھلے سیاہ بالوں اور زرد چہرے کے ساتھ وہ بے پر واحسن کا ایک ایسا شاہ کار لگ رہی تھی جسے دیکھ کر ہر دیکھنے والے کی سانسیں اٹک جائیں۔
اس کا معصوم افسردہ لیکن باوقار روپ سیاہ رنگ کے اندر مزید نکھر کر سامنے آرہا تھا۔ گھر میں موجود تمام مہمانوں اور خصوصا مردوں کی نظریں بھٹک کر اس کے وجود پر ٹک گئیں۔ “دیکھو تو سہی یتیم ہے لیکن اتراتی ایسے ہے جیسے شاہ ولا کی مالکن ہو ” ایک رشتہ دار عورت نے حسد سے کہا۔ آئمہ نے کسی کی پروا کیے بغی باورچی خانے کے کاموں میں خود کو مصروف کر لیا۔ وہ خاموشی سے مہمانوں کے لیے چائے اور شربت کے ٹرے اٹھائے پھرتی رہی لیکن ہر گندی نظر اس کا تعاقب کر رہی تھی۔ انہی مردوں میں زین کا ایک بگڑا ہوا دولت مند دوست فرمان بھی شامل تھا۔۔۔۔
جو کافی دیر سے آئمہ کی خوبصورتی کو ہوس بھری نگاہوں سے گھور رہا تھا۔ ” آئمہ ذرا زین کے استری شدہ کپڑے لے کر اس کے کمرے میں رکھ آؤ بارات کا وقت ہو رہا ہے۔” پھوپھونے دور سے حکم دیا۔ ” جی پھوپھو ابھی رکھتی ہوں۔” آئمہ نے ہلکی سی آواز میں کہا اور سائیڈ ٹیبل پر رکھے زین کی شاہانہ شیروانی اور کپڑے سنبھال کر اوپر کی منزل کی طرف بڑھ گئی۔ فرمان نے موقع تاڑ لیا۔ جیسے ہی آئمہ اوپر کے راستے پر گئی وہ بھی چپکے سے اس کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ آئمہ نے زین کے کمرے کا دروازہ دھکیلا اور اندر داخل ہو کر کپڑے بیڈ پر سجانے لگی۔ کمرے میں زین کی مخصوص تیز پر فیوم کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی جو آئمہ کے دل میں ایک عجیب سی چبھن پیدا کر رہی تھی۔
وہ جیسے ہی پلٹ کر باہر نکلنے لگی اچانک سامنے فرمان کو کھڑا دیکھ کر ٹھٹھک ” فرمان صاحب؟ آپ یہاں۔۔۔؟” آئمہ نے گھبرا کر پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔ فرمان نے ایک خبیث مسکراہٹ کے ساتھ اندر قدم رکھا اور پیچھے ہاتھ لے جاکر کمرے کا دروازہ زور سے بند کر کے لاک کر دیا۔
” اتنی جلدی کیا ہے آئمہ؟ ” فرمان کی آواز میں نیت کی خرابی صاف جھلک رہی تھی۔ ” آج تو تمہارے شوہر کی سہاگ رات کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ زین تو تمہیں ایک نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا پھر اس خوبصورتی کا کیا فائدہ جو بند کمرے میں گھٹ رہی ہو؟ ” ” آپ کی ہمت کیسے ہوئی اندر آنے کی؟ باہر نکلیں یہاں سے ” آئمہ کا دل خوف سے دھڑ کنے لگا۔۔۔۔
اس کا رنگ مزید زرد پڑ گیا۔ ” ارے اتنی بے مروتی نہ دکھاؤ۔۔۔” فرمان نے آگے بڑھ کر بڑھ کر آئمہ کا بازو سختی سے جکڑ لیا اور اسے اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کی۔ “چھوڑیں مجھے چھوڑیں “آئمہ خوف اور دہشت سے چیخ اٹھی۔ اس نے اپنی پوری طاقت سے خود کو چھڑانے کی کوشش کی لیکن فرمان کی گرفت مضبوط تھی۔ اس نے آئمہ کا دوپٹہ کھینچتے ہوئے اسے دیوار سے جا لگایا اور زبردستی کرنے لگا۔ آئمہ نے اپنی پوری قوت سے ایک دلدوز چیخ ماری “زین۔۔۔” اسی لمحے کمرے کا دروازہ ایک زور دار دھماکے کے ساتھ کھلا۔ آگے زین شاہ کھڑ ا تھا۔ وہ اپنی شادی کی تیاری کے لیے کمرے میں آرہا تھا لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر اس کے قدم زمین میں گڑ گئے۔
اس کی بیوی اس کے نام سے منسوب عورت ایک غیر مرد کے حصار میں سسک رہی اور وہ شخص اس پر دست درازی کر رہا تھا۔ ایک پل کے لیے زین شاہ کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا سانسیں رک گئیں اور پھر اگلے ہی لمحے جیسے اس کی رگوں میں کھولتا ہوا لاوا دوڑ گیا۔ “تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کو ہاتھ لگانے کی “زین کی آواز میں ایک ایسا جلال تھا کہ فرمان کانپ اٹھا۔ وہ تیزی سے جھپٹا اور فرہان کو آئمہ سے الگ کر کے اس کے منہ پر ایک خونخوار مکا جڑ دیا۔ فرمان چکرا کر دور جاگرا لیکن زمین پر وحشت سوار ہو چکی تھی۔ اس نے فرمان کا گریبان پکڑا اسے زمین سے اٹھایا اور بار بار دیوار کے ساتھ اس کا سر پیٹنے لگا
۔ “زین چھوڑ دوا سے۔۔۔ وہ مر جائے گا ” آئمہ نے خوف سے کانپتے ہوئے اپنے ہاتھ سینے پر باندھے اور روتے ہوئے التجا کی لیکن زین اس وقت کچھ سننے کے موڈ میں نہیں تھا۔ زین کے مکے لاتیں اور غصہ فرمان پر برس رہے تھے۔ فرمان کا منہ ناک اور پیشانی خون سے لت پت ہو چکی تھی اور وہ رحم کی بھیک مانگ رہا تھا۔ زین کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ آج اس شخص کو جان سے مار دے۔ “تو نے زین شاہ کی بیوی پر ہاتھ ڈالا؟؟؟؟ ” زین اس کی چھاتی پر سوار ہو کر اسے وحشیانہ انداز میں پیٹ رہا تھا اس کے اپنے ہاتھوں کی ہڈیاں بھی زخمی ہو چکی تھیں لیکن اسے کوئی ہوش نہیں تھا۔۔۔۔
شور چیخ و پکار کی آوازیں سن کر نیچے سے مہمان اور گھر والے ہڑبڑا کر اوپر بھاگے۔ آئمہ جو شدید صدمے اور خوف سے ڈھیر ہو رہی تھی اپنی ٹانگوں پر کھڑی نہ رہ سکی۔ اس کے جسم سے جان ختم ہو رہی تھی۔ زین نے جیسے ہی فرمان کو ادھ موا کر کے سائیڈ پر پھینکا اس کی نظر آئمہ پر پڑی جو زمین پر گرنے ہی والی تھی۔ زین نے تڑپ کر آگے بڑھ کر آئمہ کو گرنے سے پہلے ہی اپنی
مضبوط باہوں میں بھر لیا۔ آئمہ نے بغیر کچھ سوچے شدید دہشت کے عالم میں زین کے سینے میں اپنا چہرہ چھپالیا۔ اس کے ننگے شانے اور پورا وجود برف کی طرح ٹھنڈا پڑچکا تھا اور وہ بری طرح کانپ رہی تھی۔ اس کی ہچکیاں پورے کمرے میں گونجنے لگی تھیں۔ زین نے اپنے دونوں بازو اس کے گرد لپیٹ لیے۔
اس نے اپنے مضبوط حصار میں آئمہ کو اس طرح بھینچ لیا جیسے وہ دنیا کی تمام برائیوں کو اس سے دور کر دینا چاہتا ہو ۔ اس کا اپنا سینہ دھونکنی کی طرح چل رہا تھا اور آنکھوں سے غصے کے شعلے نکل رہے تھے۔ ” بس آئمہ ۔۔۔ بس میں ہوں نہ کوئی تمہیں ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ “زین کی آواز میں غصے اور عجیب سے تڑپتے ہوئے درد کی آمیزش تھی وہ اسے خود سے مزید قریب کرتے ہوئے اس کے سر پر اپنے لب رکھ رہا تھا اسے ڈھارس بندھا رہا تھا۔ اسی لمحے نوشین بیگم پھو پھ وزین کے والد اور درجنوں مہمان روازے کے پاس پہنچے۔ تمام لوگ کمرے کی حالت دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ زمین پر لہولہان پڑا فرمان کراہ رہا تھا کمرے کا سامان بکھر اہوا تھا اور کمرے کے وسط میں شاہ ولا کا وارث زین شاہ اپنے جسم سے لگی سیاہ لباس میں ملبوس بری طرح کانپتی اور روتی ہوئی اپنی بیوی کو اپنے حصار میں لیے غصے سے پھنکار رہا تھا۔ ہر ایک کی نظریں حیرت صدمے اور خفت سے پھٹ چکی تھیں۔۔۔۔۔
Story From The Novel
The Shah family villa is preparing for Zain Shah’s second wedding to the woman he truly loves, while his first wife, Aima—an orphan forced into marriage with him by their grandfather for her protection—is treated like an unwanted burden. His mother and relatives humiliate her by making her wear a plain black outfit, mocking her as a symbol of bad luck. Despite their cruel words, Aima quietly accepts the insults and continues serving the wedding guests. Ironically, her simple appearance and natural beauty draw everyone’s attention, even though she never seeks it.
While carrying Zain’s wedding clothes to his room, Aima is cornered by one of Zain’s wealthy friends, who tries to take advantage of her after locking the door. Terrified, she struggles to escape and calls out for help. At that moment, Zain walks into the room and is horrified to see his wife in danger. Overcome with anger and protective instinct, he immediately pulls the man away from Aima and attacks him, furious that anyone dared threaten his wife.
The commotion brings the entire household upstairs. Shaken by fear and emotional shock, Aima nearly collapses, but Zain catches her before she falls and holds her protectively, reassuring her that she is safe. The guests are stunned to see the man who had always ignored his wife now standing fiercely by her side, while his injured friend lies on the floor. In that single moment, the family’s perception changes, and it becomes clear that despite his cold behavior in the past, Zain cannot bear to see Aima harmed. The incident marks a turning point in their relationship and raises questions about whether his hidden feelings for her have finally begun to surface.Download Novel By Clicking Download Button Below