Highlights From The Story

“ذرا میرے شوز تو اتاردو۔” اسے دیکھتے ہی حکم ہوا۔
“کیا؟” اس سے ازحد حیرت ہوئی تھی۔
“میں نے کہا ہے ‘میرے جوتے اتاردو۔’ اب کی بار وہ سختی سے بولا تو حوریہ نے عمل میں دیر نہیں لگائی۔
جوتے اتار کر وہ ہٹنے ہی لگی تھی کہ سلیمان نے اس کی کلائی پکڑلی حوریہ کا دل بےتال ہوا۔ چہرہ سرخ ہو گیا۔
“آخر کار محترم کو میرا خیال آ ہی گیا۔” وہ نازاں سی ہو گئی۔ سلیمان نے اسے اپنی طرف کھینچا تو وہ اس کے پاس جاگری۔ اس کی جادو گر گہری آنکھیں حوریہ کی آنکھوں سے ملیں۔
“بہت شور کرتی ہیں تمہاری چوڑیاں۔ اتارو انہیں میں ڈسٹرب ہوتا ہوں۔”
“اف!” کوئی خواب چکنا چور ہوا۔ اس نے ساری چوڑیاں اتار دیں۔ کتنے چاؤ سے اس نے سوٹ کے ساتھ میچنگ چوڑیاں پہنی تھیں۔ آئینے نے اسے کتنی بار سراہا تھا ۔ وہ تو دل میں رکھنے کے لائق تھی اور یہ اسے قدموں میں بھی جگہ نہیں دے رہا تھا۔
“بیویوں والی کوئی ادا نہیں ہے تم میں۔ حالانکہ میں نے تمہیں تمہاری خواہش کے مطابق رکھا ہوا ہے۔ کوئی جبر نہیں کیا تم گاؤں میں رہنا چاہتی تھیں’ میں نے تمہاری یہ خواہش بھی پوری کی’ تم میرے جیسے آرمی آفیسر سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھیں میں نے کی کیونکہ دیکھنا چاہتا تھا کہ۔۔۔”
اس نے بات ادھوری چھوڑ دی تو حوریہ کو آگ لگ گئی۔
“کون کہتا ہے کہ میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی؟” اس کے دل نے دہائی دی پر سب خاموش رہے۔
“میں نے بھی سوتے سے تمھیں نہیں اٹھایا۔” ایک اور احسان کا اضافہ۔ وہ اٹھ کر بیٹھا اور پہنی ہوئی ٹی شرٹ اتار کر اس کی طرف پھینکی۔
“اتنے عرصے بعد گھر آیا ہوں۔ تمھیں خوشی نہیں ہوئی؟” ایک اور حملہ وہ تمسلائی تھی ۔ ٹی شرٹ لے جا کر باتھ روم میں لٹکائی خود کپڑے بدل کر آئی تو سلیمان سو رہا تھا۔ صاف لگ رہا تھا سونے کی اداکاری کر رہا ہے۔ وہ بھی دوسرا تکیہ لے کر بیڈ کے دوسرے کونے پہ جا کر لیٹ گئی۔
“آئندہ ڈسٹرب میں گھر آؤں تو تمھیں گھر پہ ہی ہونا چاہیے۔” اندھیرے میں اس کی آواز ابھری تو با وجود ضبط کے حوریہ کی آنکھیں نم ہوئیں۔

Story From The Novel

The story follows Hooriyaa newly married woman who hopes for warmth and affection from her husband, Suleman when he finally returns home after a long time. Instead of greeting her lovingly, he coldly orders her to remove his shoes. Thinking his stern behavior might soon change, she obediently does as he asks, believing he is finally about to show her some affection.

For a brief moment, Hooriya’s hopes rise when Suleman pulls her closer, but her happiness is shattered when he simply tells her to remove her bangles because their sound annoys him. The request deeply hurts her, as she had carefully chosen those matching bangles with excitement and pride. Suleman then criticizes her, saying she lacks the qualities of a proper wife, while reminding her that he had fulfilled her wishes by allowing her to stay in the village and marrying her despite believing she did not want him.

As the conversation ends, Suleman casually asks if she was happy to see him after so long, but his cold attitude leaves Hooriya unable to express her feelings. After changing his clothes, she finds him pretending to be asleep. She quietly lies down on the other side of the bed, holding back her tears. Before falling silent, Suleman tells her that whenever he comes home in the future, she must already be there, leaving Hooriya feeling lonely, unappreciated, and emotionally heartbroken.Download Novel By Clicking Download Button Below DOWNLOAD

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *