
Scene From The Novel
“بتائیں سب کو پروفیسر حنان کہ پولیس والوں نے غلط فہمی میں ہمارا زبردستی نکاح کروایا ہے۔ ” وہ روتے ہوئے بولی۔ وہ یونی سے لیٹ ہوگئی تھی تیز بارش کہ وجہ سے مجبوراً پروفیسر حنان سے لفٹ لی تھی کہ راستے میں انہیں ڈیٹ سمجھتے پولیس والوں نے ان کا زبردستی نکاح کر دیا ۔پر پتھر ہوگئی جب حنان نے نفی میں سر ہلایا۔ ” جھوٹ کیوں بول رہی ہو۔۔۔اگر گھر والوں کا اتنا ڈر تھا تو نہ کرتی مجھ سے بھاگ کے شادی۔ ” اپنے پروفیسر کے کہنے پر وہ بے یقینی سے انہیں دیکھنے لگی پر نہیں جانتی تھی نکاح کا سارا کھیل حنان نے بچھایا تھا۔”بب۔۔بکواس کر رہے ہیں یہ۔۔۔کس چیز کی دشمنی اتار رہے ہیں آپ؟ ” وہ چلائی پر اس کے گھر والوں نے اسے دھکے دیتے گھر سے نکال دیا جب پروفیسر حنان نے نفرت سے اس کا بازو دبوچتے اسے گاڑی میں بٹھایا۔ “ابھی تو امتحان شروع ہوا ہے لٹل گرل۔۔۔ “
“رول نمبر 33 آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں گھر نہیں جانا کیا آج آپ کو ” حورب بیچاری پریشان سی یونیورسٹی کے باہر کچھ فاصلے پر ایک شیڈ کے نیچے کھڑی انتہائی تیز برستی بارش کو دیکھ رہی تھی۔ جب پیچھے سے آتی گھمبیر بھاری آواز پر وہ چونک کر مڑی اور اپنے سامنے پروفیسر حنان کو دیکھ کر اس کے چہرے کی رنگت آڑی تھی۔ وہ ان کی یونیورسٹی کا سب سے زیادہ سخت اور کھڑوس پروفیسر تھا۔ وہ بیچاری تو ان کو دیکھ کر ہی ڈر جاتی تھی۔ پھر جب جب وہ اسے دیکھتے تو ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی پراسراریت ہوتی۔ وہ انہیں نہیں جانتی تھی لیکن اس کے باوجود بھی انہیں دیکھ کر اس کے اندر ایک عجیب سا احساس پیدا ہوتا ۔وہ اسے ایسے دیکھتے تھے جیسے آنکھوں سے ہی راکھ کر دیں گے۔
ویسے تو وہ سب کے ساتھ ہی انتہائی سخت تھے لیکن کبھی کبھی حورب کو لگتا تھا کہ وہ اس پر بلا وجہ کی سختی کرتے ہیں۔ آج بھی وہ انہی کی وجہ سے لیٹ ہوئی تھی ان کے لیکچر کے دوران غائب دماغی کا مظاہرہ کرنے پر انہوں نے لیکچرز ختم ہونے کے بعد اس کی ایک ایکسٹرا کلاس لی تھی۔ جس کی وجہ سے وہ بیچاری لیٹ ہو گئی تھی اور اب جیسے ہی وہ بھاگتے ہوئے باہر آئی تھی تو اس کا ڈرائیور جا چکا تھا۔ اور باہر اس قدر تیز برستی بارش دیکھ کر وہ بیچاری پریشان سی یونیورسٹی کے دروازے سے کچھ ہی فاصلے پر موجود بس سٹینڈ کے شیڈ کے نیچے کھڑی ہوگئی۔ فون نکالا تو خراب موسم کی وجہ سے سنگل ہی نہیں تھے۔ اسے کافی دیر ہو گئی تھی۔ یونیورسٹی کی بس بھی نکل چکی تھی۔ وہاں کھڑے کھڑے اسے آدھا گھنٹہ گزر گیا تھا جب اچانک پروفیسر کی آواز پر وہ خوفزدہ نظروں سے انہیں دیکھنے لگی۔
“وہ پروفیسر میں کیب کرانے کا سوچ رہی تھی لیکن سنگلز نہیں آ رہے ” نظریں جھکائے ہوئے وہ دھیمے انداز میں بولی تھی۔ ” آپ کو لگتا ہے مس حورب کہ اس موسم میں آپ کو کوئی کیب ملنے والی ہے ایسی حرکتیں نہ کیا کریں جس کے بعد آپ مصیبت میں پڑیں ” ان کے سخت انداز میں کہتے ہی حورب نے آنکھیں میچ کر خود پر قابو پایا۔ پتہ نہیں اس بندے کی اس سے کیا پرسنل دشمنی تھی۔ کبھی کبھی اسے ایسا لگتا تھا جیسے وہ کوئی پرانے بدلے لے رہا ہو حالانکہ وہ تو اس شخص کو جانتی تک نہیں تھی۔ وہ روہانسی انداز میں اپنے پاؤں کو گھور رہی تھی۔
” فلحال چلیں میں آپ کو آپ کے گھر چھوڑ دوں گا کیونکہ جیسا موسم نظر آرہا ہے بارش اگلے کچھ گھنٹوں تک جاری رہے گی اور تب تک آپ کو کوئی سواری نہیں ملے گی آپ کو یہیں کھڑے کھڑے شام ہو جائے گی “پروفیسر کی بات پر وہ احتجاجی نظروں سے انہیں دیکھنے لگی۔ وہ کسی صورت پروفیسر حنان کے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی لیکن ان کی بات بھی اپنی جگہ پر صحیح تھی۔ بارش پتہ نہیں کب رکتی اور پھر وہ یہاں بالکل اکیلی تھی اس لیے نا چاہتے ہوئے بھی اسے حامی بھرنی پڑی۔ پروفیسر ایک نظر اس پر ڈالتا اب یونیورسٹی کی پارکنگ کی جانب بڑھ گیا کچھ ہی دیر بعد ان کی گاڑی حورب کے بالکل سامنے آ کر رکی حنان نے گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہی فرنٹ پیسنجر سیٹ کا دروازہ کھولا تو وہ اندر بیٹھ گئی۔ پروفیسر حنان نے ایک گہری گمبھیر نظر اس لڑکی کے جھکے ہوئے سر پر ڈالی اور پھر گاڑی آگے بڑھا دی۔پروفیسر حنان کے پوچھنے پر ابھی حورب ان کی جانب دیکھتی انہیں اپنا ایڈریس بتا ہی رہی تھی۔۔۔۔
Story From The Novel
The story centers on Hoorab and Professor Hanan, whose relationship begins with fear, misunderstanding, and a carefully planned betrayal. Hoorab is stranded outside university during a heavy storm after an extra class, so Hanan offers her a ride home. When the car suddenly stops and he pulls her back to prevent her from hitting the dashboard, police officers misunderstand the situation and accuse them of being romantically involved.
Despite Hoorab’s desperate protests that Hanan is merely her professor and that she is already engaged to someone else, the officers forcibly arrange their marriage.The situation becomes even more devastating when Hanan deliberately refuses to tell Hoorab’s family that the marriage was forced. Instead, he claims that Hoorab married him willingly because she loved him.
Her furious family, more concerned about the business deal connected to her engagement, refuses to believe her and throws her out of the house. Hoorab is left heartbroken and completely helpless, while Hanan’s cold behavior reveals that the entire situation may have been part of his plan from the beginning.As Hanan takes Hoorab away in his car, he tells her that she has nowhere else to go because her family has rejected her.
Hoorab realizes that the man she once feared as her strict professor has deliberately destroyed her life and trapped her in a marriage she never wanted. The story sets up a tense revenge-driven drama in which Hanan’s mysterious hatred toward Hoorab—and the reason he engineered their forced marriage—remains the central mystery.Download Novel By Clicking Download Link Below