
Highlights From The Novel
جرگے میں زیادہ تر ساحر کی برادری کے ہی لوگ تھے۔ اسید کی طرف سے صرف اس کے ماموں اور دور کے ایک چاچو اپنے جوان بیٹوں کے ہمراہ شریک ہوئے تھے۔ اسید کے قرآن پاک پہ ہاتھ رکھ کر قسم کھانے نے سب کے چہروں کو قدرے اطمینان بخشا تھا مگر پھر ساحر اور دوسرے محلے والوں کی گواہی سے یہ اطمینان جاتا رہا تھا۔
سحر گاڑی میں ہی بیٹھی یہ سارا منظر دیکھ رہی تھیں۔ ان کی نگاہیں صفا پہ جمی تھیں۔ وہی ان کے اور ان کے بیٹے کے کردار کو بچا سکتی تھی، ان کے دامن پہ گرے چھینٹے صاف کر سکتی تھی۔ لیکن اس وقت وہ چونکیں، جب برادری کی عورتوں نے صفا کو قرآن پاک کی قسم کھانے کے لیے آگے کیا۔ انہوں نے واضح طور پہ ساحر کو چونکتے دیکھا تھا۔ ایک بے گناہ قرآن پاک پر ہاتھ رکھتے جھجک کھا جائے قسم کے ڈر سے، تو ضرور کوئی نہ کوئی بات تو ہوئی ہوگی نا! ساحر جیسا شاطر انسان بھی یہی سمجھا تھا۔ سحر کے لبوں پر مطمئن سی مسکراہٹ مچل گئی۔
“میں ایسی حالت میں نہیں ہوں کہ اس پاک کتاب کی قسم کھا کر خود کو عذاب الٰہی کے قابل بناؤں، اس لیے میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتی ہوں۔ اس رات واقعی میں اسید محمود سے ملنے ہی ان کی چھت پر گئی تھی!” وہ مضبوط لہجے میں بولنے لگی۔ ساحر کے چہرے پہ اب کامیابی کی مسکراہٹ رقص کرنے لگی تھی اور اسید نے اپنا نا شناسا چہرہ مزید تن لیا تھا۔ غصے سے اس کی کنپٹی کی رگیں لال پڑنے لگی تھیں، اس کی نظریں صفا پہ جمی تھیں۔ صفا نے نظروں کا زاویہ بدل لیا تھا۔
“ہم کبھی اپنی حد سے آگے نہیں بڑھے، خدا گواہ ہے کہ میں اسید محمود سے بہت محبت کرتی ہوں اور اس واقعے کے بعد تو خصوصاً اب کسی اور مرد کے بارے میں سوچنا بھی میرے لیے جاں گسل ہے۔” سارے مجمع میں سرگوشیاں ابھریں۔
“میری تمام بزرگ لوگوں سے درخواست ہے کہ اب اس واقعے کے بعد شاید ہی کوئی عزت دار مرد مجھے قبول کرے اور شاید کوئی کر بھی لے مگر سب اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ مجھے وہ عزت اور احترام کبھی نہیں مل سکے گا۔ اسید محمود آج اپنے وعدوں اور قسموں سے مکر رہا ہے، میری زندگی تباہ کر کے یہ اب مجھ سے جان چھڑا کر اپنی پاک دامنی بچانا چاہتا ہے۔ مجھے امید ہے جرگہ انصاف پر مبنی فیصلہ کرے گا۔” اسید کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس لڑکی کا گلا دبا دے، وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جس لڑکی کے لیے سوچ سوچ کر وہ پریشان ہوتا رہا تھا، وہ یوں کھلے عام اس کی عزت کی دھجیاں اڑا کے رکھ دے گی! ادھر صفا کے اس مطالبے پر ساحر کے بھی ہوش اڑ چکے تھے۔
“یہ بات غلط ہے!” وہ اٹھ کھڑا ہوا، “ان دونوں کو سزا دی جائے!”
“دوسری سزا کیسی؟ انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ لیکن پھر بھی جس قدر بھونگا (تاوان) آپ لوگ کہیں گے ہم بھرنے کے لیے تیار ہیں اور ان دونوں کے لیے یہی سزا کافی ہوگی کہ ان کو ہمیشہ کے لیے نکاح کے بندھن میں باندھ دیا جائے۔” اسید کے چاچا نے پہلی بار مداخلت کی تھی۔
“رکو چاچا!” اس نے کچھ کہنا چاہا مگر انہوں نے ہاتھ اٹھا کر اسے کچھ بھی کہنے سے منع کر دیا۔
“جو کچھ تم نے کیا وہ کافی ہے اسید بچے! اب ہمیں اپنی ذمہ داری سنبھالنے دو۔” اسید کو خاموش کرانے کے بعد وہ دوبارہ جرگے کے ممبران کی طرف متوجہ ہوئے۔ “میرے خیال میں تو لڑکے کے والدین اور لڑکی کے والدین کو بھی اس فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔” جرگے کے معتبرین نے بھی اسید کو فرماں برداری سے سر جھکاتے دیکھ کر آپس میں صلاح شروع کر دی تھی۔
“لیکن ہمیں یہ فیصلہ منظور نہیں، بہتر یہی ہے کہ بھونگے کی رقم مقرر کی جائے اور بس۔” ساحر ایک مرتبہ پھر چلایا۔
دانش مندی یہی ہے کہ اب لڑکا اس لڑکی سے شریعت کے عین مطابق شادی کرے اور لڑکی کے گھر والوں کو ریت کے مطابق تاوان بھی ادا کرے۔” سب سے معمر ترین رہنما نے دلائل دیے تو باقی ممبران بھی اثبات میں سر ہلانے لگے۔
“ٹھیک ہے، آپ لوگ سزا کے طور پہ جتنی بھی رقم مقرر کریں گے، آج شام تک ہی ادا کر دی جائے گی۔ آپ گواہ کے طور پہ کوئی بھی ثالث مقرر کر سکتے ہیں اور میں چاہوں گا کہ نکاح کا اہتمام بھی آج ہی کر لیا جائے تو بہتر ہے۔ ” اسید کے ماموں نے گفتگو میں پہلی بار حصہ لیا “ٹھیک ہے، تو آج شام سات بجے تک اسید محمود مسماۃ صفا علی کے گھر والوں کو تین لاکھ پچاس ہزار کی نقد رقم بھی ادا کرے گا اور آج ہی کی شام سادگی سے ان دونوں کے نکاح کی تقریب بھی کالونی کی مسجد میں ادا کی جائے گی اور لڑکے کو بھی کسی اور جگہ رہائش اختیار کرنی پڑے گی تاکہ آگے یہ متنازع کا باعث نہ بن سکے۔” انہوں نے فیصلہ سنا دیا تھا، اسید غصے سے مٹھیاں بھینچے کھڑا ہوا تھا “صفا!” آتشی گلابی رنگ کے عروسی ملبوس میں سکڑی سمٹی، نازک سی صفا بے شک اس وقت زندگی کے سب سے خوبصورت بندھن میں جڑی تھی۔جو رات لڑکی کی آنکھوں کو کئی خواب دے کر جگمگا دیتی ہے، وہ رات صفا کو مستقبل کی فکر دے گئی تھی۔ اس نے جو کھیل کھیلا تھا اس کا انجام کیا ہوتا؟ اس رات جب حیا کی لالی عورت کے چہرے کو مزید سنگھار بخشتی ہے، اس کے خوبصورت چہرے پر تفکر چھا رہا تھا۔
وہ اب حلیہ تبدیل کرنے کے بارے میں سوچ رہی تھی مگر جیسے ہی ہاتھ ہینڈل تک پہنچا، باتھ روم کا دروازہ کھلا اور سفید آرام دہ لباس میں ملبوس اسید محمود باہر نکلا۔ اسے اپنے سامنے دیکھ کر وہ ٹھٹک کر رک گیا۔ گہری نگاہ اس کے اداس مگر دلکش سراپے پر ڈالی، پھر وہیں تھم گیا۔
“آپ یہاں تھے؟” بے اختیار ہی اس کے لبوں سے نکلا۔
“جی! آپ کا کیا خیال تھا؟ اتنی دھوم دھام سے شادی ہونے کے بعد میرے ایک درجن دوست مجھے تنگ کرتے ہوئے دروازے تک چھوڑ کے جاتے؟” وہیں دروازے کی چوکھٹ سے ٹیک لگا کر، سینے پر ہاتھ باندھے اس نے طنز بھرے لہجے میں کہا۔ نظریں ہنوز صفا پہ ہی ٹکی تھیں۔ وہ شرمندہ سی ہو گئی، تبھی بس کانپتی لرزتی پلکیں جھک گئیں، کچھ بول نہ سکی۔ اسید کے دل کو کچھ ہوا، اس نے آگے بڑھ کر صفا کا ہاتھ تھاما، کانچ کی چوڑیاں جھنجھنا اٹھیں
جرگے میں زیادہ تر ساحر کی برادری کے ہی لوگ تھے۔ اسید کی طرف سے صرف اس کے ماموں اور دور کے ایک چاچو اپنے جوان بیٹوں کے ہمراہ شریک ہوئے تھے۔ اسید کے قرآن پاک پہ ہاتھ رکھ کر قسم کھانے نے سب کے چہروں کو قدرے اطمینان بخشا تھا مگر پھر ساحر اور دوسرے محلے والوں کی گواہی سے یہ اطمینان جاتا رہا تھا۔
سحر گاڑی میں ہی بیٹھی یہ سارا منظر دیکھ رہی تھیں۔ ان کی نگاہیں صفا پہ جمی تھیں۔ وہی ان کے اور ان کے بیٹے کے کردار کو بچا سکتی تھی، ان کے دامن پہ گرے چھینٹے صاف کر سکتی تھی۔ لیکن اس وقت وہ چونکیں، جب برادری کی عورتوں نے صفا کو قرآن پاک کی قسم کھانے کے لیے آگے کیا۔ انہوں نے واضح طور پہ ساحر کو چونکتے دیکھا تھا۔ ایک بے گناہ قرآن پاک پر ہاتھ رکھتے جھجک کھا جائے قسم کے ڈر سے، تو ضرور کوئی نہ کوئی بات تو ہوئی ہوگی نا! ساحر جیسا شاطر انسان بھی یہی سمجھا تھا۔ سحر کے لبوں پر مطمئن سی مسکراہٹ مچل گئی۔
“میں ایسی حالت میں نہیں ہوں کہ اس پاک کتاب کی قسم کھا کر خود کو عذاب الٰہی کے قابل بناؤں، اس لیے میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتی ہوں۔ اس رات واقعی میں اسید محمود سے ملنے ہی ان کی چھت پر گئی تھی!” وہ مضبوط لہجے میں بولنے لگی۔ ساحر کے چہرے پہ اب کامیابی کی مسکراہٹ رقص کرنے لگی تھی اور اسید نے اپنا نا شناسا چہرہ مزید تن لیا تھا۔ غصے سے اس کی کنپٹی کی رگیں لال پڑنے لگی تھیں، اس کی نظریں صفا پہ جمی تھیں۔ صفا نے نظروں کا زاویہ بدل لیا تھا۔
“ہم کبھی اپنی حد سے آگے نہیں بڑھے، خدا گواہ ہے کہ میں اسید محمود سے بہت محبت کرتی ہوں اور اس واقعے کے بعد تو خصوصاً اب کسی اور مرد کے بارے میں سوچنا بھی میرے لیے جاں گسل ہے۔” سارے مجمع میں سرگوشیاں ابھریں۔
“میری تمام بزرگ لوگوں سے درخواست ہے کہ اب اس واقعے کے بعد شاید ہی کوئی عزت دار مرد مجھے قبول کرے اور شاید کوئی کر بھی لے مگر سب اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ مجھے وہ عزت اور احترام کبھی نہیں مل سکے گا۔ اسید محمود آج اپنے وعدوں اور قسموں سے مکر رہا ہے، میری زندگی تباہ کر کے یہ اب مجھ سے جان چھڑا کر اپنی پاک دامنی بچانا چاہتا ہے۔ مجھے امید ہے جرگہ انصاف پر مبنی فیصلہ کرے گا۔” اسید کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس لڑکی کا گلا دبا دے، وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جس لڑکی کے لیے سوچ سوچ کر وہ پریشان ہوتا رہا تھا، وہ یوں کھلے عام اس کی عزت کی دھجیاں اڑا کے رکھ دے گی! ادھر صفا کے اس مطالبے پر ساحر کے بھی ہوش اڑ چکے تھے۔
“یہ بات غلط ہے!” وہ اٹھ کھڑا ہوا، “ان دونوں کو سزا دی جائے!”
“دوسری سزا کیسی؟ انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ لیکن پھر بھی جس قدر بھونگا (تاوان) آپ لوگ کہیں گے ہم بھرنے کے لیے تیار ہیں اور ان دونوں کے لیے یہی سزا کافی ہوگی کہ ان کو ہمیشہ کے لیے نکاح کے بندھن میں باندھ دیا جائے۔” اسید کے چاچا نے پہلی بار مداخلت کی تھی۔
“رکو چاچا!” اس نے کچھ کہنا چاہا مگر انہوں نے ہاتھ اٹھا کر اسے کچھ بھی کہنے سے منع کر دیا۔
“جو کچھ تم نے کیا وہ کافی ہے اسید بچے! اب ہمیں اپنی ذمہ داری سنبھالنے دو۔” اسید کو خاموش کرانے کے بعد وہ دوبارہ جرگے کے ممبران کی طرف متوجہ ہوئے۔ “میرے خیال میں تو لڑکے کے والدین اور لڑکی کے والدین کو بھی اس فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔” جرگے کے معتبرین نے بھی اسید کو فرماں برداری سے سر جھکاتے دیکھ کر آپس میں صلاح شروع کر دی تھی۔
“لیکن ہمیں یہ فیصلہ منظور نہیں، بہتر یہی ہے کہ بھونگے کی رقم مقرر کی جائے اور بس۔” ساحر ایک مرتبہ پھر چلایا۔
دانش مندی یہی ہے کہ اب لڑکا اس لڑکی سے شریعت کے عین مطابق شادی کرے اور لڑکی کے گھر والوں کو ریت کے مطابق تاوان بھی ادا کرے۔” سب سے معمر ترین رہنما نے دلائل دیے تو باقی ممبران بھی اثبات میں سر ہلانے لگے۔
“ٹھیک ہے، آپ لوگ سزا کے طور پہ جتنی بھی رقم مقرر کریں گے، آج شام تک ہی ادا کر دی جائے گی۔ آپ گواہ کے طور پہ کوئی بھی ثالث مقرر کر سکتے ہیں اور میں چاہوں گا کہ نکاح کا اہتمام بھی آج ہی کر لیا جائے تو بہتر ہے۔ ” اسید کے ماموں نے گفتگو میں پہلی بار حصہ لیا “ٹھیک ہے، تو آج شام سات بجے تک اسید محمود مسماۃ صفا علی کے گھر والوں کو تین لاکھ پچاس ہزار کی نقد رقم بھی ادا کرے گا اور آج ہی کی شام سادگی سے ان دونوں کے نکاح کی تقریب بھی کالونی کی مسجد میں ادا کی جائے گی اور لڑکے کو بھی کسی اور جگہ رہائش اختیار کرنی پڑے گی تاکہ آگے یہ متنازع کا باعث نہ بن سکے۔” انہوں نے فیصلہ سنا دیا تھا، اسید غصے سے مٹھیاں بھینچے کھڑا ہوا تھا “صفا!” آتشی گلابی رنگ کے عروسی ملبوس میں سکڑی سمٹی، نازک سی صفا بے شک اس وقت زندگی کے سب سے خوبصورت بندھن میں جڑی تھی۔جو رات لڑکی کی آنکھوں کو کئی خواب دے کر جگمگا دیتی ہے، وہ رات صفا کو مستقبل کی فکر دے گئی تھی۔ اس نے جو کھیل کھیلا تھا اس کا انجام کیا ہوتا؟ اس رات جب حیا کی لالی عورت کے چہرے کو مزید سنگھار بخشتی ہے، اس کے خوبصورت چہرے پر تفکر چھا رہا تھا۔
وہ اب حلیہ تبدیل کرنے کے بارے میں سوچ رہی تھی مگر جیسے ہی ہاتھ ہینڈل تک پہنچا، باتھ روم کا دروازہ کھلا اور سفید آرام دہ لباس میں ملبوس اسید محمود باہر نکلا۔ اسے اپنے سامنے دیکھ کر وہ ٹھٹک کر رک گیا۔ گہری نگاہ اس کے اداس مگر دلکش سراپے پر ڈالی، پھر وہیں تھم گیا۔
“آپ یہاں تھے؟” بے اختیار ہی اس کے لبوں سے نکلا۔
“جی! آپ کا کیا خیال تھا؟ اتنی دھوم دھام سے شادی ہونے کے بعد میرے ایک درجن دوست مجھے تنگ کرتے ہوئے دروازے تک چھوڑ کے جاتے؟” وہیں دروازے کی چوکھٹ سے ٹیک لگا کر، سینے پر ہاتھ باندھے اس نے طنز بھرے لہجے میں کہا۔ نظریں ہنوز صفا پہ ہی ٹکی تھیں۔ وہ شرمندہ سی ہو گئی، تبھی بس کانپتی لرزتی پلکیں جھک گئیں، کچھ بول نہ سکی۔ اسید کے دل کو کچھ ہوا، اس نے آگے بڑھ کر صفا کا ہاتھ تھاما، کانچ کی چوڑیاں جھنجھنا اٹھیں
Story From The Novel
Most of the people attending the jirga belonged to Sahir’s community, while Asid was supported only by his uncle and a distant relative. When Asid swore on the Holy Quran that he was innocent, many people were convinced at first. However, Sahir and several neighbors testified against him, causing doubt to spread again. Watching everything from a car, Sehar realized that only Safa could clear both her own and Asid’s names. When Safa was asked to swear on the Quran, she refused to do so falsely. Instead, she admitted that she had gone to Asid’s rooftop that night. She openly confessed that she deeply loved Asid and insisted that although they had met, they had never crossed any moral boundaries. She pleaded with the elders, saying that after the rumors, no respectable man would ever truly accept her, and accused Asid of abandoning her to protect his own reputation.
Her statement shocked everyone. Asid was furious, feeling betrayed by the woman he had been worried about all this time, while Sahir was equally stunned because he had not expected Safa to demand marriage instead of punishment. Sahir insisted that both of them should be punished, but Asid’s uncle stepped forward and argued that they had committed no proven wrongdoing. According to tradition, he suggested that Asid should marry Safa and pay compensation (*bhunga*) to her family. After discussing the matter, the jirga agreed. Despite Sahir’s protests, the elders ruled that Asid would pay 350,000 rupees as compensation, marry Safa that very evening in a simple ceremony at the local mosque, and later move to another residence to prevent further disputes.
That night, Safa sat quietly in her bridal dress, overwhelmed not with happiness but with worry about the consequences of the decision she had made. She wondered whether the risky choice she had taken would bring peace or more suffering. As she reached for the bathroom door, Asid emerged dressed in simple white clothes. Surprised to see him, she nervously asked if he had been there all along. He replied with a sarcastic remark about how their wedding had happened so suddenly and without celebration. Embarrassed, Safa lowered her eyes and remained silent. Seeing her sadness and fear, Asid’s anger softened for a moment. He stepped closer and gently took her hand, the glass bangles on her wrist softly chiming as the silence between them filled the room.
Download Novel By Clicking Download Button