Highlights From The Story

وہ شادی کی رات اپنے کمرے میں آیا جو سرخ گلابوں سے سجا ہوا تھا ۔۔سامنے ہی بیڈ پر وہ اسے نظر آئی تھی اپنے سے بہت چھوٹی اور معصوم سی اسکی بیوی جو گھٹنوں کے گرد بازوؤں کا حلقہ سا بنائے، ہاتھوں میں لہنگے سے میچنگ پرس کو مضبوطی سے تھامے وہ اس کے جذبات و احساسات کو بہکانے کا باعث بن رہی تھی، پھر کچھ لمحے توقف کے بعد اس نے گھونگھٹ ہٹانے کے لئے جیسے ہی دونوں ہاتھ اٹھائے کہ اس مخملی وجود میں ہلکی سی جنبش ہوئی جس میں گھبراہٹ و شرم کا عنصر نمایاں تھا، اس کی اس حرکت سے سبحان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی پھر اس نے بنا تاخیر کئے آہستہ سے گھونگھٹ الٹ دیا لیکن پھر خود اس لمحے کی زد میں آ گیا، اس کا وجود جیسے ہلنے کے بھی قابل نہ رہا۔
اتنا مکمل حسن، کہیں بھی تو کوئی کمی نہ لگتی تھی، سفید دودھیا رنگت میں بلا کی معصومیت جھلک رہی تھی، ستواں مٹر کی پھلی کی طرح کھڑی ناک میں جھلملاتی سونے کی لونگ کس قدر سوٹ کر رہی تھی، بھرے بھرے گلابی گالوں میں ہلکی شرمیلی مسکراہٹ کی وجہ سے پڑتے ڈمپل کتنے بھلے لگ رہے تھے، ہونٹوں کی تراش خراش بھی حد درجہ نمایاں اور خوبصورت تھی، بڑی بڑی میک اپ سے سجی آنکھیں پل بھر میں ہی اس کا دل لوٹ کر لے گئی تھیں، واقعی داجی ٹھیک کہتے تھے ان کا فیصلہ سو فیصد درست تھا کیونکہ وہ حسین ہی نہیں حسین ترین تھی۔
کچھ لمحے پھر خاموشی کی نذر ہو گئے، وہ بہت کچھ کہنا چاہتا تھا، اپنے مخمور جذبات کی داستانیں، اپنے بے قابو دل کی کیفیت، اپنی پہلی نظر کی محبت کا اظہار، بہت کچھ تھا اسے بتانے کے لئے لیکن الفاظ جیسے دماغ کی گدی میں الجھ سے گئے تھے، کیا کہے، کیسے کہے، کس طرح سے شروع کرے، اسے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا، کچھ سوچتے ہوئے وہ ذرا سا سیدھا ہوا۔
“آں… آہم۔” اس نے بات شروع کرنے سے پہلے گلا کھنکارا، بدلے میں مقابل نے پوری آنکھیں کھول کر اسے دیکھا، سبحان کچھ گھبرایا کہ آخر کہے کیا۔
“و… دراصل میں آہم۔” لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہو رہے تھے، اس نے پھر سے گلا صاف کیا جبکہ وہ مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ تھی۔
“ارے گلا خراب ہے یا آپ کو کھانسی ہو رہی ہے؟ آپ نے دوائی نہیں لی کیا؟
چیچ چیچ، یہ تو بہت بری بات ہے، اتنے بڑے ہو کر اتنی لاپرواہی،
اتنے سارے سوال وہ بھی اس قدر بے تکلفانہ انداز میں، سبحان حیران و ششدر رہ گیا، لیکن اس سے بھی زیادہ زور دار جھٹکا اگلے لمحے لگا جب وہ اس کا ہاتھ تھام کر بولی۔
“لو کر لو بات! پتہ ہے آپ کو، اماں بی کہتی ہیں کہ جب گلا خراب ہوتا ہے تو ساتھ ہی زکام بھی ہو جاتا ہے، سردی بھی لگنے لگتی ہے اور جب زیادہ سردی لگے ناں تو بخار بھی ہو جاتا ہے اور اگر بخار بگڑ جائے تو ٹائیفائیڈ بھی، اور ارے نہیں، آپ کو کہیں بخار تو نہیں ہو گیا؟” تفصیلی طور پر اسے آگاہ کرتے ہوئے اچانک رک کر وہ اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر چیک کرتی سبحان کے اوپر حیرتوں کے پہاڑ توڑ گئی، آواز اگرچہ بے حد حسین تھی، تاہم شرم، ہچکچاہٹ اور اجنبیت سے عاری لہجہ حد درجہ بے باکی و بے باک تھا۔ وہ کہیں سے بھی چند لمحے پہلے بیاہی جانے والی دلہن نہیں لگ رہی تھی بلکہ وہ تو بنا پلک جھپکائے اس سے اس طرح مخاطب تھی جیسے برسوں سے جانتی ہو۔
“کر لو بات! میں تو بتانا ہی بھول گئی، پرسوں جب ساری عورتیں مجھے ابٹن لگانے آئی تھیں ناں تو میں نے ڈھولک کے ساتھ خوب گانے گائے تھے، ڈانس کیا تھا اور زیادہ گانے کی وجہ سے میرا گلا بھی ایسے ہی خراب ہو گیا تھا، تب اماں بی نے مجھے سیرپ پلا دیا تھا جس سے میرا گلا فوراً ٹھیک ہو گیا اور کھانسی بھی رک گئی، اور پتہ ہے، اماں بی نے وہ سیرپ میرے پرس میں ڈال دیا تھا تاکہ میں ایک چمچ یہاں آ کر بھی لے لوں لیکن مجھے تو اب اس کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ میرا گلا تو اب ٹھیک ہے۔” کندھے اچکا کر لاپرواہی سے ساری بات بتا کر وہ خاموش ہوئی لیکن سبحان کو لگا کہ اس کی زندگی میں تاریکی چھا گئی ہے۔ اس نے تو سنا تھا کہ شادی کی پہلی رات لڑکیاں بے حد شرماتی گھبراتی ہیں، بولنا تو دور کی بات محض ہوں ہاں سے کام چلا لیتی ہیں لیکن یہاں تو ایسا کچھ بھی نہیں تھا، سب کچھ اس کے الٹ اور اس کی سوچ کے برعکس ہو رہا تھا، ہوں ہاں تو بہت معمولی بات تھی جبکہ یہاں تو باتوں کی لمبی لسٹ تھی۔
“ارے ضرورت کیوں نہیں ہے، آپ کو بھی تو کھانسی ہے نا، لو کر لو بات، ایک منٹ۔” کچھ یاد آنے پر وہ پھر سے پرجوش ہوئی اور ہاتھ میں پکڑا پرس ٹٹولنے لگی۔ “لو کر لو بات” شاید اس کا تکیہ کلام تھا جسے وہ محاورتاً ضرور استعمال کر رہی تھی، سبحان چند منٹ کی گفتگو سے یہی سمجھ پایا تھا، وہ بغور اسے دیکھ رہا تھا۔
“یہ لیجئے اور فوراً دو چمچ پی ڈالئے، لیجئے۔” پرس میں سے چھوٹی سیرپ کی بوتل نکال کر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے اس نے کہا تھا تو سبحان بھونچکا رہ گیا، پھر اس نے خود ہی وہ بوتل سبحان کا ہاتھ پکڑ کر تھما دی اور وہ بت بنا شیشے کی بوتل کو گھورنے لگا۔ کیا ہو رہا تھا یہ سب؟ وہ تو سوچ رہا تھا آج رات وہ اپنی شریکِ سفر سے ڈھیروں باتیں کرے گا، اسے داجی کے خود پر زبردستی تھوپے گئے فیصلے اور اپنے غصے و ناراضگی کا شکوہ کرے گا، پھر جب وہ ہلکا سا روٹھے گی تو وہ اسے محبت سے منائے گا اور دل سے اسے اپنانے کا یقین دلائے گا، پھر زندگی بھر ساتھ نبھانے کی قسمیں، ایک دوسرے سے عمر بھر وفا کرنے کے عہد و پیماں و مستقبل کے حوالے سے منصوبہ جات، کیا کچھ نہیں سوچا تھا، لیکن اس کے سبھی خیالات بھر بھری ریت کے محل کی طرح ڈھے گئے۔ وہ جو سوچ رہا تھا کہ رسماً اپنی بیوی سے پیار و محبت کے بول بولے گا پھر دھیرے دھیرے وہ نیم سرگوشیانہ انداز میں اس کے کانوں میں وفا کا رس ٹپکائے گا جس پر وہ بھی شرمائے گی، کبھی حیا سے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپائے گی، پھر وہ اسے ستانے کے لئے بے تکان بولتا جائے گا اور وہ صرف ہنسے گی، لیکن یہاں تو وہ بیچارہ خود لبوں پر چپ کا قفل لگائے ہونقوں کی طرح صرف اسے سن رہا تھا جو اتنی دیر سے پٹر پٹر بول رہی تھی بنا آج کے دن کا لحاظ کئے۔ کہاں تو اس نے سوچا تھا کہ وہ اپنی شوخ نظروں، مخمور جذبوں اور ہاتھوں کی میٹھی جسارت سے اسے تنگ کرے گا تو وہ شرم کے احساس کے تحت خود میں سمیٹ جائے گی، لیکن یہاں تو شرم والا معاملہ ہی نہیں تھا بلکہ وہ محترمہ تو ازخود اسے ہاتھ لگاتے ہوئے بے تکلفی سے چھو رہی تھی اور شرم کا کوئی انوکھا اچھوتا سا جذبہ اس کے اندر بیدار نہ ہوا تھا، سبحان جیسے جیسے سوچ رہا تھا اس کا دل بوجھل ہو رہا تھا۔ ہونٹوں کو سیئے وہ کب سے اسی سوچ میں غرق تھا کہ اچانک اسے خیال آیا یوں خاموش بیٹھنے سے تو گزارہ نہ ہوگا آخر کوئی تو بات کرنی ہی ہوگی، پھر وہ لفظوں کو ترتیب دیتا گویا ہوا۔
“وہ ایکچولی میں تم سے یہ کہنا چاہتا تھا…”
“شش…!” بات ابھی اس کے منہ میں ہی تھی کہ اس نے سبحان کے لبوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش کروا دیا، یہ حیرت کا مزید ایک اور جھٹکا۔
“لو کر لو بات! میری سہیلیاں کہتی ہیں کہ شادی والی رات میں ناں زیادہ باتیں نہیں کرتے، لگتا ہے آپ کو بھی نہیں پتہ، پہلے میں بھی نہیں جانتی تھی لیکن پھر میری سہیلیوں نے مجھے سب بتا دیا۔”
“کیا بتا دیا؟” اس کے حد درجے معصومیت سے کہنے پر سبحان نے اس کی انگلی ہٹاتے ہوئے پوچھا_۔
“یہی کہ سب سے پہلے دولہا کمرے میں آتا ہے، پھر دولہن کے پاس بیٹھتا ہے، پھر آہستہ آہستہ گھونگھٹ اٹھاتا ہے اور پھر…” روانی سے بولتی ہوئی وہ اچانک رکی۔
“… پھر کیا؟” سبحان نے اسے متذبذب دیکھ کر بے چینی سے پوچھا، وہ جاننا چاہتا تھا کہ آخر وہ اس “پھر” سے آگے کہاں تک جانتی ہے۔
“اور پھر تو…” وہ اٹک گئی تھی اسی نقطے پر، پھر نظریں جھکا گئی۔
“آپ ذرا ادھر دیکھئے نا پلیز مجھے… مجھے شرم آتی ہے۔” ایک اور جھٹکا، سبحان نے تحیر بھری نظروں سے دیکھا، شکر ہے محترمہ اس لفظ سے تو واقف ہیں، وہ دل ہی دل میں خوش ہوا۔
“ادھر دیکھئے نا۔” وہ اسے ٹکر ٹکر دیکھتا پا کر انگلی سے مخالف سمت اشارہ کرتے ہوئے اس قدر معصومیت سے بولی کہ سبحان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی، اتنے عرصے میں وہ پہلی بار یوں مسکرا رہا تھا، پھر اسی طرح رخ پھیر گیا تب اس نے جلدی سے ہاتھ میں پکڑا پرس ایک بار پھر سے کھولا اور اس میں سے سرخ رنگ کی چھوٹی سی ڈائری نکالی، ساتھ ہی کنکھیوں سے سبحان کو بھی دیکھا جو رخ دوسری جانب کئے اس کے بولنے کے انتظار میں تھا، پھر وہ بے صبری سے ڈائری کے صفحات الٹنے لگی۔
“دولہا بھی آ گیا… آں گھونگھٹ بھی ہو گیا۔” وہ محتاط انداز میں زیرِ لب بڑبڑاتے ہوئے ون بائی ون ہدایتیں پڑھنے لگی، پھر اگلا صفحہ الٹا۔
“نمبر تین، دولہا دلہن کا ہاتھ پکڑ کر اس کی تعریف کرے گا، ایں ہاتھ پکڑ کر…؟” ہدایت نمبر تین پڑھتے ہوئے اس نے حیرت سے اپنے ہاتھ کو پھر سبحان کو دیکھا۔
“لو کر لو بات! سنئیے، کتنی دیر سے آپ مجھے گھور رہے ہیں پر آپ نے میری تعریف تو کی ہی نہیں۔” ہر ہدایت پر عمل کر کے فرمانبرداری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی دانست میں وہ ہر کام ٹھیک طرح سے نپٹا رہی تھی، تاہم اسے مخاطب کرنے پر سبحان نے ایک جھٹکے سے رخ اس کی طرف موڑا۔
کیا ؟” سبحان نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں۔
“ہاں ٹھیک کہہ رہی ہوں، مجھے اتنی بھولی مت جانئیے، سب پتہ ہے مجھے، چلئیے جلدی سے میرا ہاتھ پکڑئیے۔” سمجھداری سے کہتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔
“ہاتھ؟ لیکن کیوں؟” وہ بے یقینی سے اس کے ہاتھ کو دیکھنے لگا۔
“کیونکہ اس میں تو یہی لکھا ہے۔” سبحان کے پوچھنے پر اس نے دائیں ہاتھ میں پکڑی ڈائری اس کی آنکھوں کے سامنے کی تو اسے کرنٹ لگا۔
“ک… کیا لکھا ہے اس میں؟” وہ ابھی تک بے یقین تھا کہ آخر یہ کیا ماجرا ہے۔
“یہی کہ آپ میرا ہاتھ پکڑ کر میری تعریف کریں گے، وہ دراصل کیا ہے نا کہ میں بھول نہ جاؤں اس لئے میری سہیلیوں نے سب کچھ اس ڈائری میں لکھ دیا تھا۔” انتہائی بھولے پن سے کہتے ہوئے اس نے ساری بات سچائی سے سبحان کو بتا دی جسے سن کر اس پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے، وہ شاید دنیا کی پہلی ایسی دلہن تھی جو اپنی شبِ زفاف کی ساری باتیں ڈائری میں لکھوا لائی تھی، یعنی پہلے تو اس کی شادی ہی عجیب تھی لیکن اب دلہن بھی…۔
“کہیں او خدایا… کہیں داجی نے میری شادی ایک جھلی سے تو نہیں کروا دی۔” یہ سوچتے ہی اس کا دل یکدم خوف سے سکڑ کر پھیلا۔

Story From The Novel

On their wedding night, Subhan entered a room beautifully decorated with red roses, expecting a shy and quiet bride. Instead, he found his young, innocent wife speaking to him with complete ease. The moment he tried to start a heartfelt conversation, she became concerned about his throat, asking if he had a cough or fever and even offering him cough syrup she had brought in her purse. Her childlike honesty and endless chatter left him completely surprised.

As the conversation continued, Subhan realized that his bride was following a small diary given to her by her friends. It contained step-by-step instructions for what usually happens on a wedding night. She carefully checked each point, reminding him to hold her hand and compliment her because that was what the diary said. Her innocent behavior turned what Subhan had imagined would be a deeply romantic evening into a series of sweet and humorous moments.

Watching her, Subhan’s emotions became a mixture of amusement, confusion, and concern. Everything he had planned to say about love, trust, and their future together disappeared from his mind. He couldn’t help wondering if his family had unknowingly arranged his marriage to someone who was simply extraordinarily innocent and naïve. Yet beneath all the surprises, he also began to see the purity and sincerity that made her truly unique.Download Novel By Clicking Download Link Below

DOWNLOAD

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *