Aziyat E Mohabbat By Digest Writer

Highlights From The Story

برے شوہر کو کیسے ڈیفائن کرو گی؟” وہ بے تکلفی سے سوال پوچھ رہا تھا۔ اس نے جواباً بس شاک اور حیرت سے اس کا وجیہہ چہرہ دیکھا تھا، جو اپنی ساری خوبصورتی کھو چکا تھا۔
“برا شوہر وہ ہوتا ہے جو ہاتھ اٹھائے؟ گھر سے باہر دوسری عورتوں سے غلط تعلقات رکھے؟ شراب وغیرہ پیے؟ رائٹ؟”
آذر نے اس کا گال تھپتھپا کر تائیدی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
اور وہ جیسے ہوش میں آئی تھی۔ اس کا لمس اپنے جسم پر ناگوار لگا تھا۔ وہ پہلے چند قدم پیچھے ہٹی اور جھک کر اس کے قدموں سے اپنا دوپٹہ اٹھا کر، پھیلا کر سر اور شانوں پر پھیلایا اور ماؤف ہوتے دماغ سے غیر ارادی طور پر جہاں آذر نے چھوا تھا، وہاں سے گال کو دوپٹے سے رگڑا تھا۔
“یہ ساری خامیاں ہیں میرے اندر صفیہ جمال۔ میں ایک برا مرد ہوں۔ میں یہ سب کچھ کرتا ہوں اور تم بس ایک سیاسی بیوی ہو۔ نام کی بیوی۔ ایک بڑے عہدے دار ڈی آئی جی آزر درانی کی بیوی ۔میرے نام کے بغیر تم کچھ بھی نہیں ہو۔ میں نے تمہیں پناہ دی ہے، گھر دیا ہے، کھانا دیا ہے، پیسے دیے ہیں۔ بدلے میں تم میری زندگی میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کرو گی۔ تمہارا کام مجھے بس ایک نارمل فیملی کا کور اپ دینا، میرا گھر سنبھالنا اور میرے ساتھ فنکشنز پر جا کر مسکرا کر تصویریں کھنچوانا ہے۔ اوکے؟”
وہ مسخرانہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ جواب نہ ملنے پر ایک غلط نظر اس پر ڈال کر وہ آگے بڑھ گیا تھا۔ وہ وہیں بت بنی کھڑی رہی تھی۔ پیچھے ملازم سیڑھیوں پر کھڑا وضاحتیں دے رہا تھا۔ رات کی سیاہی جیسے صفیہ کے نصیب میں گھل رہی تھی۔
“بس ایک کام ہی تھا تمہارا نوازخان۔” آذر کی برہم آواز آئی تھی۔
“صاحب جی! میں نے روکا تھا، پر بی بی جی نے بات ہی نہیں سنی۔” وہ منمنایا تھا۔
اسے برا بھلا کہتا آذر آگے بڑھ گیا تھا اور پھر خاموشی چھا گئی تھی۔ چچا کی موت، سی ایس ایس میں تیسری بار ناکامی اور آذر سے شادی! اس پر آسمان جیسے ٹکڑوں میں ٹوٹ کے گرا تھا۔ اس نے دوپٹے سے آنکھیں صاف کیں اور سیڑھیوں کی جانب بڑھی۔ تیز تیز چلتی اپنے کمرے میں داخل ہوئی، شکر کہ کسی سے سامنا نہیں ہوا تھا۔ وہ شیشے کے سامنے کھڑا کف بند کر رہا تھا۔ اس نے صفیہ کی سرخ ہوتی آنکھیں دیکھی تھیں اور طے نہیں کر پایا تھا کہ وہ غصے سے سرخ تھیں یا تکلیف سے۔ پتا نہیں کیوں صفیہ پر اسے ترس آیا تھا لیکن پھر یاد آیا کہ وہ فاروق درانی کا انتخاب تھی۔۔
“چلیں؟” آذر نے ابرو اچکائے اور صفیہ کو اس کی سب سے بڑی خوبی کا اندازہ ہوا تھا۔ وہ توہین کرنے میں ماہر تھا۔
“سیاسی بیوی مائی فٹ!” آئینے میں اسے دیکھتے ہوئے، وہ اندھے غصے کے ساتھ پھنکاری تھی اور زیورات نوچ کر اتارے تھے۔ آذر نے آنکھوں میں استہزا لیے اسے دیکھا اور مونچھوں سے جھلکتے اس کے ہونٹوں پر مسخرانہ مسکراہٹ پھیلی تھی۔
“تمہاری مرضی!” وہ قریب سے گزر کر باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔ اس کے جاتے ہی صفیہ نے بالوں کو گول مول جوڑے میں باندھا اور بیڈ کے نیچے سے سوٹ کیس باہر نکالا۔ پھر الماری سے کپڑے نکال کر اس میں پھینکتے ہوئے وہ ساتھ ساتھ بے آواز روئے جا رہی تھی۔ اسے بس صبح ہونے کا انتظار کرنا تھا۔ وہ ایک درمیانے درجے کے گھر کے لاؤنج میں سر جھکائے بیٹھی تھی۔ قریب ہی سوٹ کیس رکھا تھا اور خاموش لاؤنج میں اس کی سسکیوں کی آواز گونج رہی تھی۔
“تم اسے نہیں چھوڑ سکتیں اور نہ ہی تم یہاں رک سکتی ہو۔” اس کی ساری روداد سن کر انہوں نے بس اتنا کہا تھا۔
“جس طرح آئی ہو، ایسے ہی واپس چلی جاؤ صفیہ۔” وہ سرد لہجے میں بولی تھیں۔
“پر چچی! میں اتنی ذلت کے ساتھ کیسے؟” اس نے روئی روئی آنکھوں سے ان کو دیکھتے ہوئے لب کاٹے تھے۔
“زندگی ذلت ہی ہے صفیہ۔” وہ زچ ہو کر بولی تھیں۔ “میں نے اور تمہارے چچا نے تمہیں اپنی بیٹی کی طرح پالا ہے، کبھی کوئی فرق نہیں کیا۔ اپنی بیٹی سے پہلے تمہاری شادی کی، لیکن اب میں اور کیا کروں تمہارے لیے؟ ایک بات لکھ کر رکھ لو، تمہارے چچا مر چکے ہیں۔ وہ پرانی زندگی اب ختم ہو چکی ہے۔ میرے ہاتھ دیکھو۔”
انہوں نے ہاتھ جوڑ کر اسے دکھائے تھے اور وہ بے بسی سے ان کو دیکھے گئی تھی۔
“مجھے نیہا کی شادی کرنی ہے۔ تم طلاق لے کے گھر بیٹھو گی تو اس کی شادی متاثر ہوگی۔ اور چلو بالفرض تم نے طلاق لے لی، آگے کیا کرو گی؟ میں نیہا کے ساتھ رہوں گی، تم یہاں اکیلی کیسے رہو گی؟ حالات دیکھتی ہو؟ اور میں اب تمہاری ذمہ داری نہیں اٹھا سکتی۔ سکت نہیں ہے اب مجھ میں۔” وہ رونی صورت بنی ہوئی تھیں۔
“وہ جیسا بھی ہے، عزت، روٹی اور چھت تو دے رہا ہے نا۔ اس کا باپ تمہارے باپ اور چچا کا دور کا رشتہ دار اور دوست تھا۔ وہ تمہارے ساتھ کچھ الٹا سیدھا نہیں کریں گے۔ اور ہو سکتا ہے وہ بدل جائے۔” اس کی چچی کا لہجہ اب سمجھانے والا ہو گیا تھا۔
“فطرت نہیں بدلتی۔” اس نے سر نفی میں ہلایا تھا۔
“وہ ایک برا مرد معاشرے کے باقی برے مردوں سے بچا لے گا صفیہ! تو تم اب فیصلہ کر لو، اس ایک برے مرد کے ساتھ رہنا ہے یا معاشرے کے سارے برے مردوں کو برداشت کرنا ہے، کیونکہ حقیقت یہی ہے۔” وہ سخت لہجے میں بولی تھیں۔
“مما آپ…” نیہا نے صفیہ کا اترا چہرہ دیکھ کر مداخلت کی کوشش کرنا چاہی تھی لیکن اس کی ماں نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا اور جواب طلب نظروں سے صفیہ کو دیکھا تھا۔
سامنے صوفے پر بیٹھی صفیہ نے ایک نظر نیہا کو دیکھا پھر اس کے عقب میں دیوار پر لگی فیملی فوٹو کو جس میں وہ چاروں تھے۔ چچا اور چچی صوفے پر بیٹھے تھے اور ان کے قدموں میں بیٹھی ہوئی نیہا اور صفیہ تھیں۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا، وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور واش روم میں آئی۔ نل کھول کر اس نے موبائل تھامے ہاتھ کو سنگ مرمر کے سنک پر رکھا تھا اور دوسرا ہاتھ منہ پر رکھ کر اپنے رونے کی آواز کو دبایا تھا۔ وہ ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی۔
آتے ہوئے رقیہ بھابھی نے اسے روکا تھا، وہ آذر کے کزن کی بیوی تھیں۔ ان کے الفاظ پانی کی دھار کے ساتھ فضا میں گونجتے تھے۔
“تم اپنے آپ کو مزید ہلکا کرو گی صفیہ، اس سب کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔” آنسو مزید روانی سے بہے تھے۔
“میری سمجھ میں نہیں آتا کہ عورتیں کیسے ایسے مردوں کے ساتھ رہ رہی ہیں؟ چھوڑ کیوں نہیں دیتیں؟ سوچو، میں تو کبھی ایسے مرد کو برداشت نہیں کروں گی، لعنت بھیجوں گی اور آگے کا سوچوں گی۔”
کئی سال پہلے کہے اس کے اپنے الفاظ ہنٹر کی طرح لگے تھے۔ موبائل سامنے شیلف پر رکھ کر اس نے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے اور نل بند کیا تھا۔ پھر موبائل اٹھا کر آذر کا نمبر ملایا تھا۔
کال ملا کر اس نے آئینے میں اپنے پرمردہ چہرے کو دیکھا، بیل جا رہی تھی۔ عزت نفس، وقار، خواب، خواہشیں، امیدیں اور بڑے بڑے دعوے اسی نل کے پانی کے ساتھ گٹر میں بہہ گئے تھے۔ کال نہیں اٹھائی گئی تھی۔ اس نے موبائل کان سے ہٹایا اور پھر سے کال ملائی تھی، ہاتھوں میں لرزش تھی۔

Story From The Novel

Safiya Jamal’s marriage to Azar Durrani, a powerful Deputy Inspector General (DIG), quickly turns into a nightmare. On the very first day, Azar coldly tells her that he is an unfaithful, abusive man who drinks, has affairs, and expects nothing from her except to maintain the image of a perfect family. He makes it clear that she is only a “political wife,” meant to manage his home, accompany him to public events, and never interfere in his personal life. Humiliated and heartbroken, Safiya realizes that the man she married has no intention of giving her love or respect.

Unable to bear the insult, Safiya packs her belongings and seeks refuge at her aunt’s house. However, instead of finding support, she is confronted with society’s harsh realities. Her aunt explains that divorce would damage her cousin’s future, leave Safiya without security, and expose her to even greater hardships. She painfully advises Safiya that living with one cruel husband may be safer than facing the dangers and judgments of society alone. The advice shatters Safiya’s hopes, forcing her to choose survival over dignity.

Remembering how confidently she once claimed she would never tolerate such a man, Safiya now faces the painful truth that reality is far more complicated than ideals. With her dreams, self-respect, and ambitions crumbling, she reluctantly decides to return to Azar. As she calls him with trembling hands and tear-filled eyes, she realizes that the life she once imagined is gone, and she must now navigate a marriage built on power, sacrifice, and emotional suffering while searching for the strength to reclaim her identity. Download Novel By Clicking Download Button

DOWNLOAD

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *