Highlights From The Story

بہت شوق رہتا ہے نا تمہیں خود کو ڈسپلے کرنے کا، تو کسی دکان کے شوکیس میں جا کر کھڑی ہو جاؤ۔” اس کے الفاظ اس کی عزت کے پرخچے اڑا گئے۔
“جہان۔۔۔” اس نے دبے دبے انداز میں احتجاج کیا۔
“بالکل چپ۔ برا لگا ہے تمہیں؟ ہاں سچائی کڑوی ہی ہوتی ہے۔ جب اتنا سج سنور کے محفل میں جاتی ہو۔ تب برا نہیں لگتا جب پرائے مرد تمہاری ستائش کرتے ہیں۔ تمہیں سراہتے ہیں۔ تب اعتراض نہیں ہوتا۔ ان کے دل میں حسرتیں جگاتی ہو تب کیوں نہیں چلائیں تم؟” الفاظ تھے یا جلتے انگارے، وہ جل کر بھسم ہو گئی۔
“پلیز۔ آپ حد سے بڑھ رہے ہیں جہان۔ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔” اس کا سارا خوف سیکنڈوں میں غائب ہو گیا۔ بات اب اس کے کردار تک آ گئی تھی، وہ اگر اب بھی چپ رہتی تو شاید ساری عمر خود سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہتی۔
“میں حد سے بڑھ رہا ہوں۔ میں۔۔۔”
جہان جھپٹا اور اس کے جبڑے کو اپنے ہاتھ کے شکنجے میں دبانے لگا۔
جنون سوار تھا۔
وہ تکلیف سے کراہی مگر اس پر تو گویا کچھ اور ہی سوار تھا۔
“چھوڑیں مجھے جہاندار۔” اس نے خود کو چھڑانا چاہا مگر اس کی مضبوط گرفت کے سامنے وہ بے بس تھی۔ مارے درد کے اس کے آنسو نکل آئے۔
“وہ لڑکا۔ کیا تم سے متاثر نہیں ہوا تھا؟ جو پوچھ رہا تھا تم ہے۔” ہالہ کو لگا کہ اس کا جبڑا ٹوٹ جائے گا۔ اسے منہ میں خون کا ذائقہ محسوس ہوا۔ بے اختیار پوری قوت سے اس نے جہان کو دھکیلا مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔
“تکلیف ہو رہی ہے؟ مجھے بھی ہوتی ہے جب میں دوسروں کی آنکھوں میں تمہارے لیے یہ دیکھتا ہوں۔” ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا گیا۔ وہ لڑکھڑا کر دیوار سے جا ٹکرائی۔
“آپ، آپ ذہنی مریض ہیں۔ سائیکو ہیں آپ۔” درد سے کراہتے ہوئے وہ چلائی اور جہان وحشت سے اس کی جانب بڑھا۔ اس کی لہو رنگ آنکھیں اور عجیب سی مسکراہٹ دیکھ کر اسے خوف محسوس ہوا تھا۔
“میں ذہنی مریض ہوں؟ ٹھیک ہے۔” وہ بے اختیار پیچھے ہٹی اور دیوان پر گر گئی۔ کہیں کوئی راہِ فرار نہ تھی۔
“میں تمہیں اب بتاتا ہوں۔ سائیکو کسے کہتے ہیں۔” چہرہ قریب کر کے اس کے بالوں کو سختی سے جکڑا۔
“میں ذہنی مریض ہوں۔ ہاں۔” گال پر پڑنے والا تھپڑ بہت شدید تھا۔ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ دوسرے تھپڑ نے ہالہ کی ساری مزاحمت توڑ دی، وہ بے جان ہو کر لڑھک گئی۔ جہان کا اٹھا ہوا ہاتھ ہوا میں معلق رہ گیا۔”بس کرو جہان۔ بس۔ اس نے مجھے کسی میلی نگاہ سے نہیں دیکھا۔ گندی تمہاری سوچ ہے۔ تنگ نظر، شکی تم ہو!” اس کی نسوانیت زخمی ہوئی تھی۔ وہ کیسے اپنی بیوی کے بارے میں ایسے الفاظ کہہ سکتا تھا؟
“خاموش، جاہل عورت۔ سارا مسئلہ تم میں ہے۔ تمہاری تسکین مجھ سے نہیں ہوتی، تمہیں لوگ بھی چاہیے جو تمہاری مدح سرائی کریں۔ تمہیں سراہیں۔” اس کے گھٹیا الزام پر وہ بھی اٹھی۔ “جہان!” وہ چلائی۔
“چپ! بالکل چپ۔ تم مجھ پر چلا کر کیا ثابت کرنا چاہتی ہو؟ بہت پارسا ہو تم، تمہاری اتنی جرات۔۔۔” وہ جنونی انسان کیا کچھ کہہ رہا تھا۔
“اور تمہاری اتنی جرات کہ مجھے دوسروں کے سامنے ذلیل کرو! مجھ پر گھٹیا الزام لگاؤ!” نجانے اس میں اتنی ہمت کیسے آ گئی تھی۔ سارا خوف، ڈر، لحاظ غائب ہو گئے۔ وہ اپنے لفظوں سے اسے پھر تار تار کر رہا تھا۔ چھلنی کر رہا تھا۔ وہ کیسے چپ رہتی؟ تن کر سامنے کھڑی تھی۔ اس کا سانس تیز تیز چل رہا تھا۔
“میں تمہاری عزت ہوں جہان۔ تمہاری غیرت۔ اور تم کیسے یہ سب گوارا کر سکتے ہو؟ مجھے دوسروں کے سامنے ہلکا کر کے تمہیں اپنے لفظوں پر رتی برابر بھی افسوس ہے نہ پشیمانی۔”
“اور تمہیں پشیمانی ہے؟ تم کیوں اس کی بکواس سن رہی تھیں؟ تمہیں یقیناً اچھا لگ رہا ہوگا وہ سب سننا!”
جہان کا لہجہ کیسا تھا، تضحیک بھرا۔ ہالہ کے اندر اجمال اٹھنے لگے۔ اسے کوئی افسوس نہیں تھا۔ وہ واقعی زہریلا مرد تھا۔
“تم۔۔۔ تم ایک غلیظ سوچ والے گھٹیا انسان ہو۔ تم سائیکو ہو!”
“ہالہ!” وہ دھاڑا۔ اس کا ہاتھ اٹھا اور اس کے گال پر ایک نشان چھوڑ گیا۔ ہالہ چکرا گئی۔ کان سائیں سائیں کرنے لگے۔
“تم اپنی اوقات بھول گئی ہو۔ تم سے دو میٹھے بول کیا بول دیے، تم خود کو میرے مقابل سمجھنے لگیں۔”
ہالہ کا ہونٹ پھٹ گیا تھا۔ منہ میں نمکین سا ذائقہ محسوس ہوا۔ اس پر نجانے کون سا جنون سوار ہونے لگا۔
“تمہاری اوقات یہ ہے۔” اس کے گال پر پڑے تھپڑ کی طرف اشارہ کرتے وہ غرایا

Story From The Novel

This scene depicts emotional and physical abuse within a marriage, driven by extreme jealousy, possessiveness, and a desire for control. Jehandar humiliates Hala by accusing her of seeking attention from other men simply because she dressed nicely and attended a gathering. His insults escalate into violence as he grabs her jaw, slaps her repeatedly, and blames her for his own insecurities. Rather than accepting responsibility for his behavior, he twists the situation to make Hala believe she is at fault.

Hala initially tries to defend herself calmly, insisting she has done nothing wrong. However, when Jehandar attacks her character and dignity, she finally stands up for herself. She calls out his toxic thinking, telling him that the problem lies in his suspicious and narrow-minded mindset, not in her actions. Despite being frightened and physically hurt, she refuses to silently accept the false accusations against her.

The confrontation reveals Jehandar’s deeply controlling personality. He believes that hurting and humiliating his wife proves his authority, while Hala realizes that his jealousy has turned into abuse. The chapter ends on a painful note, with Jehandar asserting that her “place” is beneath him, leaving their relationship fractured by violence, mistrust, and emotional trauma.Click Below Download Button To Download The Novel

DOWNLOAD

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *