
Highlights From The Story
“اپنے ہاتھوں سے تمہاری دلہن سجا کر آ رہی ہوں۔”
مجتبیٰ نے چند لمحے اسکرین کو خاموشی سے دیکھا، پھر ہونٹ بھینچ کر موبائل واپس جیب میں ڈال لیا۔ میرب کی ان باتوں کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اور سچ تو یہ تھا کہ اس وقت وہ نہ اس کی ناز برداری کی حالت میں تھا، نہ یقین دہانیاں کرانے کی۔ ویسے بھی… وہ کہتا بھی تو کون سا میرب کو قرار آ جاتا تھا۔ وہ تو ہر دوسرے دن اس شکوے پر آ ٹھہرتی تھی، “مجھے لگتا ہے، میں یکطرفہ محبت میں جل رہی ہوں۔”
“تم چاہتی ہو، تمہارا جوگی بن جاؤں، دنیا کے کام دھندے چھوڑ دوں، تمہارے در پر آ بیٹھوں۔” اس نے ہنستے ہوئے طنز کر ڈالا۔
میرب کی یہ بے یقینی، یہ خود ترحمی بھی بے وجہ نہیں تھی، ادھوری عورت سے کون محبت کرتا ہے، تو مجتبیٰ تھا جو اس عیب کو جان کر بھی اس سے جڑا ہوا تھا۔
بہن کی شادی کے وہ چند دن ان کے لیے ایک نئے المیے کا باب ثابت ہوئے تھے۔ شادی ختم ہوتے ہی مجتبیٰ نے پہلی فرصت میں رابعہ آپا سے بات کی تھی۔ وہ ساکت سا اس کا چہرہ دیکھتی رہ گئی تھیں۔
“نہیں ہو سکتا۔” کافی دیر بعد ان کا جواب آیا بھی تو ایک بھڑک کی صورت۔
وہ حیران رہ گیا، “کیوں نہیں؟”
“بس نہیں، کوئی تیار نہیں ہوگا۔ نہ اماں، نہ بشریٰ آپا اور میں بھی نہیں۔” وہ قطعی دوٹوک لہجے میں بولیں۔
“کیوں، کیا یہ وٹہ سٹہ بن رہا ہے اس لیے؟” اس کے الجھے ہوئے ذہن میں یہی ایک تاویل آئی۔
“نہیں، وہ بھی ایک وجہ ہوتی مگر اب مسئلہ دوسرا ہے۔” وہ نظریں چرائے کرسی پر جا بیٹھیں، “تمہیں کیا لگتا ہے وہ اب تک گھر کیوں بیٹھی ہے؟ اس عمر تک ہمارے خاندان کی ساری لڑکیاں بیاہی جا چکی ہوتی ہیں۔ ایک سال بڑی بھی ہے تم سے۔”
“چھوڑیں بھی آپا، یہ بھی کوئی وجہ ہوئی۔ وہ دس سال بھی بڑی ہوئی تو مجھے فرق نہ پڑتا۔” وہ قدرے طیش میں آیا، نئی نئی محبت کا خمار تھا۔ وہ ان دنوں ہر اعتراض کے مقابل سینہ تان کر کھڑا ہو جانے والے جوش میں مبتلا تھا۔
“پوری بات سن لیا کر باؤلے، بیچ میں ہی بول پڑتا ہے۔” انہوں نے غصے سے ڈپٹا، تو وہ لب بھینچے ناراض نظروں سے انہیں دیکھنے لگا۔
“اس کے… ان کے ساتھ ایک مسئلہ ہے۔” وہ ہچکچاتے ہوئے کہنے لگیں، مجتبیٰ آنکھوں میں تناؤ اور ناسمجھی لیے انہیں دیکھنے لگا، “کیا؟”
“میرب…” وہ رکیں، “میرب کبھی ماں نہیں بن سکتی۔” دھیمے لہجے میں کہتے ہوئے انہوں نے جس طرح کہا، مجتبیٰ یکدم گہرے سناٹے کی لپیٹ میں آیا تھا۔
“اب خود ہی سوچو…” وہ آہستہ آہستہ بولتی رہیں، “ہم کیسے ایسی لڑکی تمہارے لیے بیاہ لائیں جو…” جملہ ادھورا چھوڑ گئیں، مگر مطلب پھر بھی واضح تھا۔
“تم چار بہنوں کے اکلوتے بھائی ہو۔ اماں کے ارمان دیکھو… ابھی سے کہتی پھرتی ہیں کہ مجتبیٰ کی جلد شادی کر دوں تا کہ پوتے پوتیوں کو آنگن میں ہنستا کھیلتا دیکھ سکوں۔ اور پھر یہ زمینیں، جائیدادیں، ان کا والی وارث کون ہوگا؟” وہ سوال کر رہی تھیں۔
مجتبیٰ یکدم ہی سکتے سے نکلا اور کرسی گھسیٹ کر ان کے سامنے آ بیٹھا۔
“مجھے تو میرب پر بھی حیرت ہو رہی ہے، اسے تمہیں یہ بات بتانی چاہیے تھی یا پھر فاصلہ رکھنا چاہیے تھا۔” ان کے لہجے میں بھی خفگی گھل گئی۔
“اس میں اس کی کیا غلطی؟” مجتبیٰ کا لہجہ دھیما تھا، مگر اندر کہیں کچھ بری طرح بیٹھ گیا تھا۔
“غلطی کیوں نہیں؟ کسی کو اس طرح اپنے قریب آنے دینا، اور پھر یہ جانتے ہوئے کہ انجام کیا نکلے گا، یہ بھی تو غلطی ہی ہے۔”
“یہ سب صرف اس کی طرف سے نہیں ہوا تھا۔” اس نے ناگواری سے کہا۔ ماتھے کی ابھری رگ اس کے اندر کے تناؤ کا پتا دے رہی تھی۔
“ہاں، اس نے سچ نہیں بتایا لیکن…” وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر چند لمحے انہیں دیکھتا رہا پھر دھیرے سے بولا، “اگر… اگر میں پھر بھی اس سے شادی کرنا چاہوں تو؟” یہ سوال نہیں تھا، خود اپنے ہی دل کو دلاسا دینے کی کوشش تھی۔
“تو ظلم کرو گے۔ اپنے ساتھ بھی، ہمارے ساتھ بھی اور اس کے ساتھ بھی۔ بعد میں اس پر سوتن بٹھانے سے بہتر ہے ابھی سوتیلی سمجھ کر عقل سے کوئی فیصلہ کرو۔” وہ دوٹوک انداز میں بولی تھیں۔
گر اس نے میرب سے وعدے کیے تھے، چاہے وہ وعدے اس وقت کیے گئے تھے جب وہ اس سچ سے بے خبر تھا، مگر اب اس حقیقت کے آشکار ہو جانے کے بعد ان وعدوں سے مکر جانا اسے اپنی مردانگی کی توہین محسوس ہو رہی تھی۔ گھر میں جیسے طوفان آ گیا تھا۔
اماں اور بہنوں کے لیے یہ خیال ہی ناقابلِ قبول تھا۔ پہلے حیرت کی ایک لہر آئی، پھر صاف اور سخت انکار سامنے آیا۔ اس کے بعد سمجھانے بجھانے کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا۔ دلیلیں، مثالیں، نصیحتیں ہر طرف سے آئیں، ان کی مخالفت بالکل بے بنیاد بھی نہیں تھی کہ اکلوتے بیٹے کی شادی محض اس کی ذاتی خواہش نہیں ہوتی، اس کے ساتھ پورے خاندان کی امیدیں جڑی ہوتی ہیں، آنے والی نسلوں کا تصور بندھا ہوتا ہے۔
مجتبیٰ کے بچوں کو گود میں کھلانے کا جو خواب اماں نے برسوں سے دل میں سنبھال رکھا تھا، وہ اس فیصلے کے آگے انہیں بکھرتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔ اس لیے بات سمجھانے سے آگے بڑھ کر دباؤ تک جا پہنچی۔ ایک طرف میرب کے آنسو اور ایک طرف گھر والوں کی وہ جذباتی گرفت جس سے نکلنا آسان نہیں تھا۔ بشریٰ آپا نے تو یہ تک کہہ دیا، وہ چاہے تو بعد میں میرب سے دوسری شادی کر سکتا ہے، جیسے ایسے فیصلے واقعی بعد کے کسی دن آسانی سے اختیار میں آ جاتے ہوں۔ اور پھر… آخر کار وہ لمحہ آیا کہ اسے ہتھیار ڈالنے پڑے۔
اب احمرین دلہن بنی اس کے گھر میں موجود تھی اور وہ ایک بار پھر میرب کے ٹوٹتے بکھرتے دل کو سنبھالنے کے لیے اسے ایک کھوکھلا سا سہارا دے آیا تھا کہ احمرین بھی اس کے دل تک نہیں پہنچ سکے گی۔
کمرے میں قدم رکھنے سے پہلے مجتبیٰ کو تقریباً آدھا گھنٹہ میرب کو سنبھالنے میں لگ گیا تھا، وہ جتنی بے چین اور بے قرار تھی مجتبیٰ کو لگا اس کی ساری رات اس کی دل جوئی میں ہی گزر جائے گی۔ فون کے اُس پار اس کی سانسوں میں ایک عجیب سی کپکپاہٹ تھی۔ وہ دلاسا دیتا رہا، نرم الفاظ میں یقین دلاتا رہا… مگر اس کی بے قراری کسی ٹھہراؤ پر آنے کو تیار ہی نہ تھی۔
آخر کار جب اس نے کال ختم کرنے کا ارادہ کیا تو میرب نے اسے روک لیا، کچھ لمحے خاموش رہی پھر مدھم ٹوٹتی ہوئی آواز میں بولی، “میں جانتی ہوں… تم اس سے دور نہیں رہ سکتے۔ تم نے اس سے دور رہنے کی…” آنسوؤں کی نمی آواز میں گھلی تو وہ ایک لخت چپ ہوئی پھر بہت دھیرے سے کہا، “لیکن ایک بات مان لینا میری… اسے اپنا دل مت دے بیٹھنا۔” یہ جملہ التجا بھی تھا، خوف بھی۔
“بے فکر رہو، ایسا کچھ نہیں ہوگا۔” اس نے تسلی دی تھی وہ بھی گول مول الفاظ میں۔ یہ نہیں کہا کہ میرا دل تمہارے پاس ہے تو کسی اور کو دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
قدم من من بھر کے تھے جب وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا۔ عام طور پر تو یہ رات نئی امنگوں کا سہارا لیے ہوا کرتی ہے، خواب پہلی کروٹ لیتے ہیں، دل ان کہی تمناؤں سے بھرنے لگتا ہے، مگر آج… اس کے اندر جیسے سب کچھ الٹ گیا تھا۔ نہ کوئی سرشاری تھی، نہ دل میں وہ بے تابی جس کا قصہ لوگ سناتے پھرتے ہیں۔ بس ایک عجیب سا شور تھا، ایک ایسی کھینچا تانی… جس نے اس کے سارے احساسات نچوڑ کر رکھ دیے تھے۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا، میرب کا مان رکھے یا پھر اماں کی بات کا۔ اور اس کشمکش میں سب سے زیادہ نظر انداز وہ تیسری ہستی ہو گئی تھی، جو اس کا نام اوڑھے، اس کی عمر بھر کی دہلیز پار کر کے، اس کے کمرے تک آئی تھی۔
سر تا پاؤں بھاری جوڑے، زیوروں اور پھولوں کے بوجھ تلے دبی، تکیوں کے سہارے نیم دراز ہو چکی تھی۔ اس کی بند پلکوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ انتظار کرتے کرتے سو گئی ہے۔ ایک پل کے لیے اس کی سمجھ میں نہیں آیا، کیا کرے۔ جگائے یا سونے دے۔ کچھ دیر یونہی دور سے اس کے خوابیدہ حسن کو دیکھتا رہا، پھر آہستہ سے آگے بڑھا، بیڈ کے کنارے ٹھہرا۔ نگاہ ایک لمحے کو ان کے چہرے سے پھسل کر اس کے مہندی سے رچے نازک پیروں تک آئی۔
وہ جھکا اور ہلکے سے اس کے انگوٹھے کو چھوا۔
Story From The Novel
A wedding that should have marked a joyful beginning instead became the source of heartbreak for everyone involved. Mujtaba had deeply fallen in love with Meerab, but after discovering that she could never have children, his family strongly opposed their marriage. As the only son, he was expected to continue the family lineage, and despite his love and promises to Meerab, he eventually surrendered to his family’s emotional pressure and married Ahmareen instead. Even after the wedding, Meerab remained devastated, believing she had lost the man she loved forever.
Before entering his bridal room, Mujtaba spent nearly half an hour comforting Meerab over the phone. Through tears, she begged him not to give his heart to his new wife, and he reassured her that nothing would change between them, though his words lacked the certainty she desperately wanted. Torn between his love for Meerab, his duty toward his family, and his responsibility to his new bride, Mujtaba walked into his room carrying an unbearable burden of guilt and confusion.
Inside, Ahmareen had fallen asleep while waiting for him, still dressed in her heavy bridal attire and unaware of the emotional storm surrounding her marriage. Looking at his innocent bride, Mujtaba realized that she had become the forgotten victim in a conflict she had never created. Standing beside her bed, he hesitated for a long moment before gently touching her foot to wake her, knowing that the life they were about to begin was already overshadowed by secrets, sacrifice, and broken promises.Download The Novel By Clicking Download Button Below