
“ایس پی کو پرپوز کرو، یہ تمھارا ڈئیر ہے۔” ازکٰی کی دوستوں نے سامنے روڈ پر کھڑے ایس پی کی طرف اشارہ کر کے کہا، جو اپنے تین اہلکاروں کے ساتھ کھڑا تھا۔ ازکی مرے مرے قدموں سے جا کر بولی، “صبح کہا تھا آپ سے جلدی آنا، لیکن آپ تو یہاں کھڑے گپیں مار رہے ہیں، بیوی کی کوئی فکر نہیں۔” ازکی ناٹک کرتی خفگی سے بولی۔ سب اہلکار حیران تھے، ایس پی کا چہرہ ضبط سے سرخ ہوا۔ “شام کو گھر آئیے گا، پھر بات ہوگی۔” اب وہ خفگی سے واپس مڑی تھی اور ایس پی حمدان سہگل کی آنکھیں حیرت سے پھٹی رہ گئی تھیں۔ “تمھیں پرپوز کرنے کا کہا تھا، ڈئیر پورا نہیں ہوا۔” اس کی دوستیں منہ بنا کر بولی۔ “پولیس والے کو پرپوز کرتی تو گولی مار دیتا وہ مجھے۔” ازکی نے منہ بنا کر کہا تو اس کی دوستیں ہنسنے لگی۔ رات وہ سوئی ہوئی تھی جب کوئی اسے اپنے حصار میں لے کر بولا، “جانم! ابھی تک ناراض ہو اپنے ایس پی سے؟” اس آواز پر ازکی دھک سے رہ گئی کیونکہ وہ اس کے بہت قریب تھا۔ ازکی فوراً اس سے دور ہوئی تھی۔ “یہ… یہ کیا بدتمیزی ہے؟ آپ کمرے میں کیسے آئے؟” وہ بیڈ سے دور ہوئی تھی۔ اس کا دوپٹہ بھی بیڈ پر ہی پڑا تھا۔ اس میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ وہ اس شخص کے قریب جا کر دوپٹہ ہی اٹھا لیتی۔ اس نے جلدی سے لائٹس آن کر دی تھیں۔ حمدان سہگل بیڈ سے اٹھا تھا۔ وہ اسے غصے میں گھور رہی تھی۔ حمدان نے دوپٹہ بیڈ سے اٹھا کر اس کی طرف پھینکا تھا اور ازکی نے جلدی سے دوپٹہ اپنے گرد اچھی طرح لپیٹ لیا تھا۔ وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ “میں نے پوچھا، میرے کمرے میں کیا کر رہے ہیں؟” “ارے، تم مجھ سے ناراض تھی۔ میں تو تمہیں منانے آیا ہوں۔ تم ہی تو کہہ رہی تھی شام کو گھر پر بات ہوگی۔ میں تو تمہارا انتظار ہی کرتا رہا، مگر تم گھر آئی نہیں، پھر مجھے مجبوراً یہاں آنا پڑا۔” وہ آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے معصومیت سے بولا تھا۔ “دیکھیں مسٹر! وہ میری دوستوں نے مجھے ڈئیر دیا تھا اور آپ اتنی سی بات بھی نہیں سمجھ سکتے؟ وہ سب میں نے ڈئیر پورا کرنے کے لیے کیا ہے۔ آپ تو سیریس ہی ہو گئے ہیں۔” “بھئی، مجھے نہیں پتہ ٹرتھ اینڈ ڈئیر کا۔ میں تو سیریس ہوں۔ تم نے مجھے کہا بیوی کی فکر نہیں، میں بیوی کی فکر کے لیے یہاں آ گیا ہوں۔ اب تو میری بیوی کو میرے ساتھ چلنا ہوگا۔” اور وہ حیرت سے سر پھرے آدمی کو دیکھ لیتی تھی۔ “دماغ تو خراب نہیں ہو گیا؟ پاگل واگل تو نہیں ہو گئے؟ مجھے لگتا ہے تمہیں ایس پی کے بجائے پاگل خانے میں شفٹ ہو جانا چاہیے۔ نکلو ابھی اسی وقت میرے گھر سے۔ پولیس والا ہوگا تو اپنی جگہ، میرے چار بھائی ہیں۔ چار بھائیوں کی اکلوتی بہن ہوں۔ وہ تمہاری ہڈیوں کا کچومر بنا دیں گے” “اچھا، یہ بات ہے؟ تو جاؤ نیچے اپنے بھائیوں کو بلا کر لاؤ۔ تمہارے بھائی تو نیچے پارٹی میں مصروف ہیں نا، تمہارے افنان بھیا کے کچھ دوست آئے ہوئے ہیں اسی لیے۔ جاؤ، اگر بلا سکتی ہو تو بلا لاؤ۔” وہ صوفے پر بیٹھا ڈھٹائی سے بولا تھا اور ازکی باہر کی طرف بڑھی تھی۔ وہ اپنے کمرے سے نکلی تھی اور سیڑھیاں اترتے ہوئے نیچے آئی تھی۔ گھر کا داخلی دروازہ کھول کر وہ باہر لان میں آ گئی تھی۔ لان عبور کر کے وہ بیٹھک کی طرف آئی تھی۔ یہ بھی ان کے ہی گھر کا حصہ تھا اور یہاں یہ ازکی کے بھائیوں نے اپنے لیے خاص طور پر بنوایا تھا۔ جب ان کے دوست آتے تھے تو وہ یہیں پر قیام کرتے تھے۔ وہ غصے میں بیٹھک کی طرف بڑھ رہی تھی، تب ہی اس کے بھیا کی نظر اس پر پڑی تو وہ باہر آئے تھے۔ “ارے ازکی بچے، کیا ہوا؟” “وہ بھیا، میرے کمرے میں کوئی ہے۔” اور افنان کو حیرت ہوئی تھی۔ “یہ کیا کہہ رہی ہو؟ کون ہے کمرے میں؟” افنان کے پیچھے ہی اس کے باقی تینوں بھائی بھی آواز سن کر باہر نکلے تھے اور دوسری طرف فون سنتا ان کا دوست بھی کال بند کرتا واپس آیا تھا۔ “افنان، سب ٹھیک ہے؟ اگر چور وغیرہ آئے ہیں تو مجھے بتاؤ۔ آج تو پولیس چوروں کی واردات سے پہلے پہنچ چکی ہے۔” اور اسے وہاں کھڑا دیکھ کر اسے حیرت ہوئی تھی۔ “بھیا، یہ کون ہے؟” “ارے، یہ میرا دوست ہے، ایس پی حمدان سہگل۔” اور ازکی نے اپنے بھیا کے اس دوست کا آج سے پہلے صرف نام سنا تھا۔ اس کی یہ پہلی ملاقات تھی۔ “افنان، باتوں میں ٹائم ضائع نہیں کرو، چلو آؤ چور کو پکڑتے ہیں۔” حمدان جان بوجھ کر ازکی کو چھیڑتے ہوئے بولا تھا اور اس نے گن بھی نکالی تھی۔ وہ سب آگے پیچھے ازکی کے کمرے کی طرف بھاگے تھے، مگر جب وہ کمرے میں پہنچے تو
STORY OF THE NOVEL
The story begins with a fun game of Truth or Dare between Azki and her friends. As part of her dare, she is told to propose to a handsome police officer, SP Hamdan Sehgal, who is standing on the roadside with his officers. Nervously, Azki walks up to him and pretends that he is her husband, scolding him for not coming home early and saying they would talk in the evening. Hamdan is left completely shocked while his officers stare in disbelief. When her friends tell her she failed the dare because she never actually proposed, Azki jokes that proposing to a police officer might have gotten her shot.
That night, Azki is startled when someone enters her room and jokingly asks if she is still angry with her “SP husband.” The unexpected visitor is Hamdan himself. He playfully claims that since she called herself his wife in public and asked him to come home, he has come to make peace with her. Azki quickly explains that it was only a dare from her friends, but Hamdan refuses to take it lightly. Instead, he humorously insists that if she has already called herself his wife, then she must come with him. Their conversation is full of witty arguments, teasing, and funny misunderstandings.
Furious, Azki threatens to call her four protective brothers, believing they will throw Hamdan out. However, Hamdan calmly reveals that her brothers are downstairs hosting a gathering and challenges her to bring them up. When Azki rushes downstairs for help, she is shocked to discover that Hamdan is actually her elder brother Afnan’s close friend and the very SP she had unknowingly embarrassed earlier that day. Pretending to help catch the “intruder,” Hamdan even joins her brothers and heads toward her room, leaving Azki trapped in an awkward and hilarious situation. The story ends on a suspenseful note, setting up an amusing confrontation and hinting at a possible romantic relationship between Azki and Hamdan.Click Below Download Button To Download The Novel