
Highlights Of The Novel Story
اس کی بارات دو گھنٹے لیٹ ہو گئی تھی اس کی باغی طبیعت اور ضد پر اس کی غیر برادری میں شادی طے ہوئی تھی “سومیہ آپی دلہے والوں نے بارات لانے سے انکار کر دیا ہے۔۔ اور آغا جان، آپ کا نکاح حمین لالہ سے کر رہے ہیں ” حمین خانزادہ جس کی پہلی بیوی اس پر نامرد ہونے کا الزام لگا کر طلاق لے چکی تھی۔ بہت سے لوگوں کو اس کی سرداری پر بھی اعتراض ہو گیا تھا پر پھر بھی لوگ اس کے منہ پر بات کرنے سے ڈرتے تھے۔ اس کے لاکھ احتجاج کے باوجود اس کا نکاح حمین خانزادہ سے ہو چکا تھا اور وہ اس کے کمرے میں دلہن بنی بیٹھی تھی۔ “اے لڑکی۔۔ اپنا بستر نیچے لگاؤ۔۔ میں تمہیں بیوی تسلیم نہیں کرتا۔۔۔۔۔” وہ کف فولڈ کرتا آگے بڑھا تھا جب سومیہ کے جواب پر پتھر ہوتا رکا۔” جی جانتی ہوں آپ میرے کیا کسی کے بننے کے قابل نہیں ” یہ کہتے وہ نہیں جانتی تھی کتنا بڑا عذاب مول چکی تھی کہ۔۔۔۔۔۔
گھر میں ہر طرف گہما گہمی لڑکیوں کے قہقہے اور ڈھولک کی تھاپ سے پورا گھر گونج رہا تھا۔ سرخ عروسی جوڑے میں سجی سنوری بیٹھی تھی۔ اس کی کزنزز اور سہیلیاں اسے چھیڑنے میں لگی تھیں۔ “لو بھئی! ہماری سومیہ تو آج اڑ جائے گی۔ اپنی پسند کی شادی کا اور غیر برادری میں جا کر سرداری دکھانے کا مزہ ہی اور ہوتا ہے” ایک سہیلی نے اسے چھیڑا تو سومیہ کے چہرے پر ایک شرمیلی مسکراہٹ آگئی۔ اسی دوران محب، جو حمین خانزادہ کا چھوٹا کزن اور پورے گھر کا لاڈلا تھا، ہاتھ میں گلاب جامن کی پلیٹ لیے کمرے میں گھس آیا۔۔۔
” ارے بھابھیوں اور بہنوں! تھوڑا ہاتھ ہولا رکھو۔ سارا میک اپ یہیں پگھلا دو گی کیا؟” محب نے منہ میں گلاب جامن ٹھونستے ہوئے کہا۔ ” تم یہاں کیا رہے ہو محب؟ جاؤ باہر مہمانوں کو دیکھو۔۔۔” ایک کزن نے اسے گھورا۔ ایک کزن نے اسے گھورا۔ ” مہمانوں کو آغا جان اور حمین لالہ دیکھ رہے ہیں۔ میں دیکھنے آیا تھا کہ دلہن کہیں ڈر کے کھڑکی سے بھاگ تو نہیں گئی، ” محب نے ہنسے ہوئے جواب دیا جس پر سب لڑکیاں کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔ سومیہ بھی سکرا دی۔
اسے لگ رہا تھا کہ اس کی ضد جیت گئی ہے اور آج اس کی زندگی کا سب سے خوش شگوار دن ہے۔ لیکن یہ خوشی زیادہ دیر نہیں ٹک سکی۔ اچانک باہر ڈرائنگ روم سے آغا جان کے گرجنے کی آواز آئی۔ ڈھولک کی آوازیں یکدم بند ہو گئیں۔ سومیہ کی بڑی بہن گھبرائی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی اسکا چہرہ فق تھا۔۔۔” کیا ہوا آپی؟؟ بارات آگئی؟ ” سومیہ نے بےتابی سے پوچھا ” سوم۔۔سوم۔۔سومیہ۔وہ لڑکے والوں نے بارات لانے سے انکار کردیا۔کیا؟؟ ” سومیہ جھٹکے سے کھڑی ہوگئی۔۔
” مگر کیوں کیا بکواس ہے یہ؟؟ ” ” وہ کہ رہیں ہیں کے یہ سب ان کا ایک کھیل تھا۔ آغا جان کے خاندان سے ان کی جو پرانی دشمنی چل رہی تھی، انہوں نے آج اس کا بدلہ لیا ہے۔ وہ ہماری بیٹی کو ذلیل کرنا چاہتے تھے۔۔اور انہوں نے کر دیا۔” آپی رو پڑیں۔ سومیہ کو لگا جیسے کسی نے اس کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی ہو۔ باہر مال میں رشتہ داروں کی کانا پھوسیاں شروع ہو چکی تھیں۔۔۔
“دیکھا! ہم نہ کہتے تھے کہ اپنی برادری سے باہر لڑکی مت دو۔ اتنی ضد کی اس لڑکی نے، اب بھگتو ذلت!” چچی کی تیز آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ آغا جان کی پگڑی داؤ پر تھی۔ وہ غصے سے کانپ رہے تھے۔انہوں نے حمین خانزادہ کو بلایا۔ حمین، جو پہلے ہی اپنی پہلی بیوی کے جھوٹے الزام کی وجہ سے خاندان میں ایک تماشا بن چکا تھا اور اب عورت ذات سے سخت دور بھاگتا تھا، آغا جان کے سامنے سر جھکائے کھڑا تھا۔۔۔
“حمین! میری پگڑی رول دی گئی ہے۔ میں اس ذلت کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتا۔ سومیہ کا نکاح ابھی اور اسی وقت تم سے ہو گا” آغا جان کا فیصلہ حتمی تھا۔ سنتے ہی سومیہ جو باہر کھڑی سن رہی تھی، اندر بھاگی۔ ” نہیں آغا جان! میں یہ شادی نہیں کروں گی ساری زندگی گھر بیٹھ جاؤں گی لیکن۔۔۔۔ ” چپ کر جاؤ لڑکی!” آغا جان دھاڑے۔ “تمہاری ضد اور پسند نے آج ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ اب وہی ہو گا جو میں کہوں گا۔ ” چچی نے بھی طنز کا تیر مارا۔۔۔۔
“واہ بھئی واہ! لڑکی بھی وہ جس کی بارات واپس چلی گئی اور لڑکا بھی وہ جسے پہلی بیوی نامرد کہہ کر چھوڑ گئی۔ خوب جمے گی جوڑی ان کی۔” حمین کی مٹھیاں غصے سے بھینچ گئیں۔ اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا لیکن وہ آغا جان کی بات نہیں ٹال سکتا تھا۔ چند ہی منٹوں میں قاضی صاحب نے نکاح پڑھا دیا۔ سومیہ
روتی رہی، نفی میں سر ہلاتی رہی لیکن سنے والا کون تھا؟؟؟ زبردستی اس کے منہ سے “قبول ہے” نکلوا لیا گیا۔ وہ لڑکی جو کچھ دیر پہلے اپنی پسند کی شادی پر خوش تھئ، اب زبر دستی حمین خانزاده کی بیوی بن چکی تھی۔۔۔۔۔
رات کے بارہ بج رہے تھے سومیہ اسی عروسی جوڑے میں حمین کے کمرے میں بیڈ پر بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ اس کے سارے خواب ٹوٹ چکے تھے۔ دروازہ کھلا اور حمین کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر تھکاوٹ اور شدید غصہ واضح تھا۔ وہ سرداروں والی چال چلتا ہوا اندر آیا۔ اس نے ایک نظر بھی سومیہ کو نہیں دیکھا۔ وہ سیدھا الماری کی طرف گیا اور اپنے کف فولڈ کرنے لگا۔ “اے لڑکی۔۔۔۔۔” حمین کی بھاری اور سرد آواز کمرے کے سناٹے میں گونجی۔۔۔
“اپنا بستر نیچے لگاؤ۔ مجھ سے کوئی توقع مت رکھنا کہ میں تمہیں بیوی تسلیم کروں گا۔ یہ شادی صرف آغا جان کی عزت بچانے کے لیے ہوئی ہے۔ تم میر لیے ایک مجبوری سے زیادہ کچھ نہیں ہو۔” وہ جو پہلے ہی دکھ اور ذلت سے پاگل ہو رہی تھی، حمین کا یہ سرد رویہ اس کے اندر کی باغی لڑکی کو جگا گیا۔ وہ آنسو پونچھتے ہوئے جھٹکے سے کھڑی ہوئی۔ “آپ کو کیا لگتا ہے حمین خانزادہ؟ میں یہاں آپ کی بیوی بننے کے شوق میں آئی ہوں؟” سومیہ کی آواز میں غصہ اور چڑ تھی۔۔۔۔
حمین نے مڑ کر اسے گھورا۔ ” اور ویسے بھی۔۔۔۔” سومیہ نے سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ بات کہہ دی جس کا حمین کو وہم و گمان بھی نہیں تھا ” جانتی ہوں۔۔۔۔۔آپ میرے کیا، کسی کے بھی شوہر بننے کے قابل نہیں ہیں۔ جو الزام آ آپ کی پہلی بیوی لگا کر گئی تھی، آج مجھے بھی اس پر پورا یقین آ گیا ہے۔” سننا تھا
کہ حمین کے قدم وہیں پتھر ہو گئے۔ اس کے دماغ کی رگیں تن گئیں۔ جس الزام نے اس کی زندگی عذاب کر دی تھی، آج وہی طعنہ اس کی نئی نویلی بیوی اسے اس کے اپنے کمرے میں دے رہی تھی۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں وحشت اتر آئی۔ وہ دو قدم آگے بڑھا اور غصے سے بازو اتنی زور سے دبوچا کہ سومیہ کی ہلکی سی چیخ نکل گئی۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ نے ابھی اپنے اپنے کس انجام کو دعوت دی ہے؟” حمین کی آواز کسی خوفناک طوفان کا پیش خیمہ لگ رہی تھی اور اس کی گرفت سومیہ کے بازو پر سخت ہوتی جا رہی تھی۔ “چھوڑیں مجھے! درد ہو رہا ہے۔۔۔” اس نے تڑپ کر اپنا بازو جھڑوانے کی کوشش کی لیکن حمین کی طاقت کے سامنے وہ بے بس تھی۔ “درد؟ ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں ہے لڑکی!” حمین کی آواز دھیمی لیکن زہریلی تھی۔
“جس زبان سے تم نے ، گھٹیا لفظ نکالا ہے لفظ نکالا ہے نہ، جی چاہتا ہے اسے کھینچ لوں۔ تم عورتیں ہوتی ہی احسان فراموش ہو۔ ایک تمہاری عزت بچائی اور تم مجھے ہی طعنہ دے رہی ہو؟” “میں نے کوئی جھوٹ نہیں بولا! پورا خاندان، پورا شہر یہی کہتا ہے۔ اگر آپ سچے ہوتے تو وہ آپ کو چھوڑ کر نہ جاتی!” سومیہ نے درد کے باوجود اپنی ضد نہ چھوڑی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہےتھے۔ حمین نے اسے جھٹکے سے بیڈ پر گرایا۔ اس کے دماغ پر جیسے خون سوار تھا۔
“آج میں تمہارا یہ وہم بھی دور کر دیتا ہوں، تاکہ تمہیں پتا چلے کہ حمین خانزادہ کیا چیز ہے۔” اس رات کمرے کی دیواریں سومیہ کی سسکیوں اور احتجاج کی گواہ بنیں۔ حمین نےغصے اور اپنی مردانگی پر لگے زخم کا بدلہ لینے کے لیے اسکی ایک نہ سنی۔ وہ رات اس کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھی، جہاں اس کی روح تک چھلنی ہو گئی۔ اگلی صبح جب سورج نکلا تو سومیہ بیڈ کے ایک کونے میں سمیٹی رو رہی تھی۔ اس کا عروسی جوڑا بکھرا ہوا تھا اور جسم پر نیل کے نشان واضح تھے جبکے حمین کمرے میں نہیں تھا، وہ کب کا باہر جا چکا تھا۔ سومیہ نے کسی طرح خود کو سنبھالا، کپڑے بدلے اور واش روم چلی گئی۔ جب وہ نیچے آئی تو کچن میں چچی پہلے سے موجود تھیں۔ اسے دیکھ کر چہرے پر ایک زہریلی مسکراہٹ آگئی۔۔۔
Story Of The Novel
The story follows ” Soumiya ” a strong-willed young woman who insists on marrying the man she loves outside her tribe. On her wedding day, however, the groom’s family deliberately refuses to bring the wedding procession as revenge for an old family feud, leaving Soumiya and her family publicly humiliated. To save the family’s honor, Aga Jan immediately arranges her marriage to ” Hameen Khanzada ” a respected tribal leader whose first wife had divorced him after accusing him of being impotent. Despite Soumiya’s desperate protests, she is forced into the marriage against her will.
On their wedding night, Hameen makes it clear that he does not accept Soumiya as his wife and tells her to sleep separately, saying the marriage was only to protect the family’s reputation. Hurt and furious, Soumiya insults him by repeating the same accusation his first wife had made, claiming he is not worthy of being anyone’s husband. Her words strike Hameen deeply, reopening old emotional wounds and filling him with anger over the humiliation he has suffered for years.
Consumed by rage, Hameen reacts violently, and Soumiya’s first night turns into a heartbreaking nightmare. The next morning, she is left emotionally devastated and physically injured, realizing that her dreams have been completely shattered. As she comes downstairs, the family’s cold and judgmental attitude makes it clear that her struggles are only beginning. The novel explores themes of forced marriage, family honor, betrayal, pride, trauma, and the difficult journey of two deeply wounded people trapped in an unwanted relationship. Download Complete Novel By Clicking The Download Button below