Jurm E Mohabbat By HS Novels – NOVELIANS

“تم واش روم سے باہر آرہی ہو، یا میں اندر آؤں۔۔ ” زوحان خانزادہ کی شادی اسکی مرضی کے خلاف اپنے ماموں کی بیٹی سے ہوئی تھی۔ جب سے وہ اسکی زندگی میں آئی تھی، وہ نفرت کرنے لگا تھا۔ ایک تو کمرے میں اسکا نازک وجود اسکا ضبط آزماتا تھا۔ اور اوپر سے وہ اسکی ماں کی لاڈلی بہو تھی، کچھ کہہ بھی نہیں سکتا۔ “نن۔ نہیں پلیز! وہ میں باہر نہیں آسکتی۔” اندر سے اسکی شرمندگی سی آواز آئی۔ غصے میں اسکا دماغ گھما۔ “کیوں نہیں آسکتی۔۔ دو سیکنڈ ہے آجاؤ ورنہ میں۔۔۔” وہ غصے میں بغیر سوچے جیسے اندر گیا، آنکھیں پھٹ گئیں،،، جب اچانک وہ اسے دیکھ کر چیخی کیونکہ ۔۔۔۔۔

وہ جھٹکے سے اپنے کمرے کا دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا۔ گلابوں کی خوشبو نے اس کا موڈ کچھ لمحوں کے لیے اچھا کیا تھا۔ مگر جو اس کے ساتھ ہو ا تھا اچھے موڈ میں رہنا بہت ہی مشکل تھا۔ وہ کمرے کے اندر داخل ہو تا پورے کمرے کو دیکھنے لگا۔ اس کے منع کرنے کے باوجو بھی اس کی ماں کمرے کو دلہن کی طرح سجوا چکی تھی۔ خیر کافی دیر کمرے کو دیکھنے کے بعد بالاآخر اس کی نظر بستر شریف پر گئی تھی۔ مگر بستر کو خالی دیکھ اس کی پیشانی پر بلوں کا جال بکھرا تھا۔

” اماں تو کہہ رہی تھی کہ وہ اپنی بہو کو بول کر گئی ہیں کہ وہ میرے لیے بیٹھی رہے۔ اب کہاں ہے اماں کی فرمانبر دار بہو؟؟۔۔۔۔” وہ اس کے بارے سوچتا سر جھٹکتے صوفے پر آکر بیٹھا۔ آج کا دن بہت مشکل تھا کسی اور کے لیے ہو نہ ہو اس کے لیے بہت مشکل تھا۔ وہ اپنے جوتے کے تسمے کھولتا وہیں پھینک گیا وہ اتنا پھیلا وا نہیں کرتا تھا مگر آج غصے میں تھا تو اس کا یہ کرنا بنتا بھی تھا۔۔۔۔ ” ویسے ہے کہاں اماں کی بہو؟؟ ” کافی دیر سوچنے کے بعد بالاآخر اس کو اپنی بیوی کا خیال آہی گیا تھا۔۔۔

واش روم کی لائٹ چلتی دیکھ اور اندر سے پانی کی آواز سن وہ سمجھ گیا تھا کہ محترمہ کہاں تشریف لے جاچکی ہے۔ وہ صوفے کی ایک جانب کشن رکھتا اس پر لیٹا تھا۔ سخت نیند آرہی تھی مگر اس کی گندی عادت تھی کہ فریش ہوئے بغیر وہ نہیں سوتا تھا۔ اور اس وقت بھی سخت نیند آنے کے باوجود بھی وہ نہیں سو رہا تھا۔ تقریبا آدھا گھنٹہ اس کا انتظار کرتے وہ غصے سے کھولتا کھڑا ہوا۔ لگ رہا ہے اماں کی بہو اندر ہی سونے کا ارادہ کر چکی ہے۔

اس لیے باہر قنے کا موقع نہیں مل رہا میڈم کو ۔ وہ غصے سے تلملاتا واش روم کے دروازے کو بجانے لگا۔ تقریبا دومنٹ دروازہ بجانے کے بعد بھی جب اندر سے کوئی آواز نہ آئی۔ تب اس نے دروازے کو مزید تیزی سے بجانا شروع کر دیا تھا۔ ” واٹ ربش کچھ بولو گی یا گونگی ہو۔؟؟؟ “اب کی دفعہ بھی اس کو جواب نہ دیتے دیکھ زوبان خانزادہ دھاڑا تھا۔ اس کی دھاڑ پر اندر بیٹھی ماہین اچھل پڑی تھی۔ “حج ۔ جی کیا ہوا؟؟ ” اس کی ڈری سہمی آواز سن کر زوہان کو مزید غصہ آیا۔ ” باہر آؤ مجھے اندر جانا
ہے۔۔۔۔ ” جب اندر سے کوئی آواز نہ آئی۔ تب اس نے دروازے کو مزید تیزی سے بجانا شروع کر دیا تھا۔

اس کی بات سنتے سخت سردی میں بھی ماہین کو پسینہ آگیا۔ ” نہیں نہیں وہ میں ابھی باہر نہیں آسکتی۔۔۔۔ ” وہ اپنے ہونٹ کاٹتے زوہان کو باہر آنے سے صاف منع کر چکی تھی۔ اس کا صاف انکار سنتے زوہان کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔ ” میں نے جو کہا ہے وہ سنو اپنی مت جھاڑو جلدی نکلو باہر مجھے اندر جانا ہے۔۔۔” اب کی دفعہ اس نے نہایت ضبط کرتے دھیمے لہجے میں کہا تھا۔ ” میں نے کہانا کہ میں نہیں آسکتی باہر ۔ سمجھیں میری مجبوری کو۔۔۔” ماہین نہ چاہتے ہوئے بھی روہانسی ہوئی تھی۔

اس کا جواب پھر انکار میں سنتے زوبان خانزادہ کا دماغ گھوم کر رہ گیا۔ ” تم واش روم سے باہر آرہی ہو یا میں خوداندر آجاؤں۔۔۔۔ ” اس کی دھاڑ پر ماہین زمین پر بیٹھتی بری طرح کپکپانے لگی۔ اس ہوا کے گھوڑے پر سوار انسان کو وہ کیسے بتاتی۔ کہ وہ اندر کس مشکل میں پھنسی تھی۔ ” جلدی باہر آؤ۔۔۔۔۔” اسکی دھاڑ ماہین کو اس کی لامتناہی سوچوں سے باہر لے آئی تھی۔۔۔” وہ دیکھیں پلیز میں باہر نہیں آسکتی میری بات سمجھنے کی کوشش کریں۔ “وہ بری طرح روتے اپنا دوپٹہ کھینچنے لگی۔ اس کا دوبارہ سے وہی جواب سن کر زوہان خانزادہ نے پوری قوت سے اپنے ہاتھوں کا پنچ واش روم کے دروازے پر مارا۔

اتنی بری آواز سنتے ہی ماہین کاخوف سے براحال ہو گیا تھا۔ ” دیکھو ماہین پلیز باہر آجاؤ مجھے بہت نیند آرہی ہے۔ میرے آنے کے بعد تم پھر چلے جانا میں بس پانچ منٹ لگاؤں گا۔” زوہان کافی صبر کرتا نرم لہجے میں بولا۔ غصے سے تو وہ مانی نہیں تھی جھنجھلاہٹ سے بھی مانی نہیں تھی۔ شاید پیار سے ہی مان جاتی۔ ” میں کہہ رہی ہوں نا آپ کو زوہان میں نہیں آسکتی باہر۔ پلیز بار بار یہ مت بولیں اور چلے جائیں یہاں سے۔” وہ اپنا دوپٹہ دوبارہ سے بھینچتے زور سے بولی۔ اس کا وہی جواب سن زوہان کا دماغ اس بار مکمل طور پر خراب ہو گیا۔۔۔۔

وہ اپنی شیر وانی نوچ کھسوٹ کر اتارتا اس کو زمین پر پھینکتے واش روم کے دروازے پر پوری قوت سے مکے مارنے لگا۔ وہ اتنی زور سے مکے مار رہا تھا کہ اس کے مکوں کی ضرب سے۔ واش روم کا دروازہ اب باقاعدہ ہلنے لگا تھا۔ اندر موجود ماہین کا خوف سے برا حشر ہوا تھا۔ بیچارے کی ایک تو نیند سےحالت خراب ہو رہی تھی۔ اوپر سے وہ پچھلے ایک گھنٹے سے ہاتھ روم کے اندریوں بیٹھی تھی۔ جیسے واپس باہر آنے کا ارادہ ہی نہ ہو۔ ” د۔۔۔ دیکھیں زوہان پلیز یہ مت کریں۔ میں نہیں آسکتی باہر۔۔۔”

” اوکے تم باہر نہیں آسکتی نا؟؟ مت آؤ میں خودہی اندر آجاتا ہوں۔۔۔” وہ چلا کر کہتا اپنے پورے وزن سمیت دروازے کو دھکا مارنے لگا۔ دوسرے دھکے میں ہی وہ باتھ روم کا دروازہ کھول چکا تھا۔ مشن کمپلیٹ ہونے پر وہ مسکراتا اپنے بالوں کو سیٹ کرتا اندر داخل ہوا۔ مگر سامنے ہی ماہین کو اس حال میں پڑے دیکھ کئی لمحوں کے لیے وہ کچھ بول ہی نہ سکا تھا۔ ماہین اس آدم خور کی نسل کو اپنے سامنے یوں کھڑے دیکھ اپنے آپ میں سمٹ کر رہ گئی تھی۔ جبکہ وہ اب تک اپنے ہوش گنوائے ماہین کو ہی دیکھے جار ہا تھا۔۔۔

اس کی ہچکیوں کی آواز سنتے ہی زوبان کو ہوش آیا۔ وہ اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا سامنے دیکھنے پر مجبور ہوا تھا۔ جہاں ماہین اپنا پورا زور لگائے زمین پر گری سوٹ کیس کے نیچے سے اپنا دوپٹہ نکالنے میں مصروف تھی۔ لاکھ کوشش کے باوجود بھی وہ اس بڑے سے سوٹ کیس کے نیچے سے اپنا دوپٹہ نہیں نکال سکی تھی۔ باقی پانی
کی وجہ سے وہ بار بار پھسلی بھی جارہی تھی۔ چہرے سے لگ رہا تھاکہ وہ اس مشقت سے اب تھک چکی ہے۔ زوہان اپنے چہرے پر نارمل تاثرات سجاتا تیزی سے اس کے پاس جاتے بیٹھا تھا۔ ” بے وقوف عورت اگر تمہارے ساتھ یہ ہوا تھا تم مجھے پہلے نہیں بتا سکتی تھی؟؟ بول دیتی میں گرگئی ہوں۔ اگر میں ابھی نہ آتا تو تم ساری رات ایسے ہی بیٹھی رہتی؟؟ اس کا قد دیکھ رہی ہو؟؟ ” زوبان نے طنزیہ انداز میں سوٹ کیس کی جانب اشارہ کیا۔۔۔۔

” یہ تم سے بڑا ہے اور تم تمام تر کوششوں کے باوجود بھی اس سوٹ کیس کو ہلا بھی نہیں سکتی اگر میں ابھی نہ آتا نا تو تم ساری رات یہیں پڑی رہتی؟؟ ” وہ اس پر طنز کی بارش کرتے سوٹ کیس اٹھانے لگا۔ تقریبا دو منٹ ہی گزرے تھے اس کو مشقت کرتے ہوئے وہ سوٹ کیس اٹھانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس کی کامیابی پر ماہین کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ پچھلے دو گھنٹے سے وہ بھی یہ کوشش کر رہی تھی مگر مجال ہے جو اس سے وہ سوٹ کیس ذرا بھی ہل گیا ہو۔ ” چلو اب روؤ نہیں کھڑی ہو جاؤ۔” زوبان اس کو یوں روتے دیکھ افسوس سے بولا۔

وہ اپنے سر کو جس طرح بار بار چھور ہی تھی اس سے اندازہ ہور ہا تھا کہ اس کے سر میں کتنا درد ہو رہا تھا۔
” اٹھو جاؤ یا باہر جاکر چینج کرو میں آتا ہوں پھر میں آکر تمہیں دوائی دے دوں گا۔” زوہان اپنی فطرت کے پیش نظر بے حد نرمی سے بولا۔ ماہین اس کی بات سنتی اپنے آنسو صاف کرتی اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔ دو گھنٹے گرے رہنے کی وجہ سے اس کی ٹانگیں بھی بری طرح سن ہو گئی تھی۔ اور اب اس کو احساس ہو رہا تھا کہ واقعی اگر ابھی زوبان نہ آتا تو وہ ساری رات ایسے ہی پڑی رہتی۔

اس کو اٹھتے نہ دیکھ زوہان کی پیشانی پر بل پڑے تھے۔ ” جاؤ باہر بے وقوف لڑکی تھکی نہیں ہو کب سے اتنا بھاری جوڑا پہنا ہوا ہے اوپرسے اتنی دیر سے یہاں گری ہوئی ہو۔۔” اس کی بات پر ماہین کی آنکھوں سے مزید تیزی سے آنسو بہنے لگے۔ ” روکیوں رہی ہو کیا ہوا؟؟ ” زوہان اس کے بے حد پاس آتا ہے نرمی سے بولا۔ ” وہ وہ زوحان۔۔۔۔۔” ” ہاں کیا ہوا بتاؤ مجھے۔۔۔۔” وہ اس کے اتنے بری طرح رونے پہ نرمی سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتا اس کو دلا سے دینے لگا۔۔۔۔

” وہ۔۔۔۔وہ مجھ سے اٹھا نہیں جار ہا میری ٹانگیں سن ہیں۔ درد ہورہا ہے بہت۔۔۔” وہ شرمندگی سےاپنا چہرہ جھکائے بولی۔ اس کی بات پر زوہان اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔ ” یہ تم مجھے پہلے نہیں بتا سکتی تھی۔ وہ کھڑے ہوتا جھک کر اس کو اپنی باہوں میں اٹھا گیا۔ گرنے کے ڈر سے ماہین نے فورا سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔ زوبان کی اتنی تھوڑی سی قربت ہی نے اس کو گھبرا کر رکھ دیا۔

STORY OF NOVEL

Zohan Khanzada is forced into an arranged marriage with his uncle’s daughter, Maheen, against his wishes. He deeply resents the marriage and treats her coldly, believing she has disrupted his life. On their wedding night, he enters their decorated room expecting to find her waiting, but she is locked inside the bathroom. Frustrated after waiting for a long time, he repeatedly orders her to come out, while Maheen tearfully insists that she cannot, without explaining the real reason.

As Zohan loses his temper, he finally forces the bathroom door open. To his shock, he discovers that Maheen is not avoiding him out of stubbornness or fear but because she accidentally slipped, and a heavy suitcase fell on her scarf, trapping her on the wet floor for nearly two hours. Unable to move because of the weight and her numb legs, she had been too embarrassed and frightened to explain her situation. Realizing his mistake, Zohan immediately lifts the suitcase, helps her, and begins to understand that he had judged her unfairly.

Seeing Maheen injured, exhausted, and crying softens Zohan’s attitude for the first time. He gently comforts her, offers her medicine, and carries her out of the bathroom when she cannot stand due to her numb legs. Although their marriage began with resentment and misunderstanding, this incident becomes the first moment of compassion between them. It marks the beginning of a gradual change in Zohan’s feelings, as anger starts giving way to concern, opening the door for trust and a deeper relationship to develop. Download Mediafire Link Of The Novel By Clicking Download Button

DOWNLOAD

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *