
” پ۔۔۔۔پلیز سر ایسا مت کریں میرا یونیفارم بغل سے پھٹا ہوا ہے کلاس کے لڑکے مجھے دیکھ کر ہنسے گے۔۔۔” عنیزہ روہانسی ہو کر بولی مگر وہاج دھاڑ کر کہنے لگا۔۔۔ ” تم گھر بیٹھ کر اب بچے پیدا کرو چھوٹی عمر میں شادی ہو جائے تو تم جیسی لڑکیاں شوہر سے بچنے کے لئے ہی کالج آتی ہیں تا کہ دن میں تو شوہر کے قہر سے بچ سگیں اب چپ چاپ بازو اوپر کر کے بینچ پر کھڑی ہو گی یا میں تمہیں مرغا بناؤں؟؟۔۔۔۔۔” کلاس کے سارے اسٹوڈنٹس دبے دبے ہنس رہے تھے جب عنیزہ بینچ پر بازو اوپر کر کے کھڑی ہو گئی۔ یہاں کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ عنیزہ کی شادی پروفیسر وہاج سے ہی ہوئی ہے۔ ساری رات وہ اس پر شدتیں لٹاتا رہتا جب بھی کتابیں اٹھاتی چھین کر پھینک دیتا اور اب سامنے اسے پنشمنٹ دے رہا تھا۔ تبھی ایک لڑکے نے عنیزہ کی بغل۔۔
وہاج کمرے میں داخل ہوا تو عنیزہ کو کتاب میں سر گھسائے دیکھ کر اس کے ماتھے پر بے شمار بل پڑے تھے وہ واش روم میں گیا اور شاور لے کر بلیک ٹراؤزر پہنے باہر آیا عنیزہ کو مسلسل رٹے لگاتے دیکھ کر اس کا دماغ گھوم گیا تھا۔۔۔۔” بند کرو یہ رٹے لگانا ادھر بیڈ پر آؤ۔۔۔۔” وہ سپاٹ لہجے میں بولا تھا عنیزہ نے گردن گھما کربیڈ کی طرف دیکھا۔ ” کل میرا ٹیسٹ ہے مجھے تیاری کرنی ہے۔۔۔”وہ معصومیت سے بولی تھی۔
” بھاڑ میں گیا تمہارا یہ ٹیسٹ کیا تمہیں کسی نے یہ سکھایا نہیں ہے کہ جب شوہر گھر آتا ہے تو بیوی صرف اور صرف شوہر کے آگے پیچھے گھومتی ہے اس کا خیال رکھتی ہے اور اسکی خدمتیں کرتی ہے جو شوہر کہے وہ ایک ٹانگ پر کھڑی ہو کر مانتی ہے شوہر یہاں پر منہ دیکھ رہا ہے اور تمہیں پڑھائیاں کرنے کی پڑی ہوئی ہے جانتا ہوں یہ بھی تمہارا مجھ سے دور بھاگنے کا بہانہ ہے۔ شادی کے بعد لڑکی بچے پیدا کرتی اچھی لگتی ہیں ٹیسٹ دیتی نہیں اور میں تو چاہتا ہوں تم آج ہی پریگننٹ ہو جاؤ اور یہ پڑھائی کا بھوت تمہارے سر سے اتر جائے۔۔۔۔” وہ طیش سے بولتا اٹھا اور صوفے کے قریب آتے عنیزہ سے کتاب چھین کر ٹیبل پر پٹکی اسے بانہوں میں اٹھایا اور بیڈ کے قریب آتے زور سے اسے بیڈ پر اچھالا تھا۔۔۔۔
” وہاج۔۔۔ “عنیزہ خوف سے بولی تھی وہاج نے اسے پاؤں سے پکڑ کر کھسیٹتے ہوئے سیدھا کیا اور اس کےاوپر آیا تھا عنیزہ کی آنکھیں بے یقینی سے پھٹ گئی تھیں۔” شادی ہوئی ہے تمہاری مجھ سے مجھے خوش کرنا تمہارا فرض ہے یہاں پر تم صرف کتابیں چاٹنے کے لیے نہیں آئی آرام سے گھر بیٹھو میری ضرورت کا خیال رکھو مجھے خوش کرو میرے بچوں کو پیدا کرو۔۔۔” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا سنجیدگی سے بولا تھا۔
” یہ کیا کر رہے ہیں آپ کل میرا ٹیسٹ۔۔۔۔” وہ خوف سے تھر تھر کانپنے لگی تھی۔اس کے لبوں سے ٹیسٹ کا سن کر وہ آگ بگولہ ہوتا اس کے لبوں پر جھکا اور جنونی انداز میں اس کی نازک خوبصورت پنکھڑیوں پر دانت گاڑھنے لگا تھا۔ عنیزہ نے تڑپ کر اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے اسے خود سےدور کرنا چاہا مگر وہاج چوہدری نے اس کے دونوں ہاتھ اس کے سر کے اوپر لے جا کر پن کرتے اپنے ایک ہاتھ میں جکڑ کر دوسرے سے اس کے جبڑے دبوچ کر اس کے لبوں کا حشر بگاڑنا شروع کر دیا تھا۔۔۔
عنیزہ نے جھٹپٹانے بہت کوشش کی مگر وہ اپنے وجود کا سارا بوجھ اس کے نازک وجود پر ڈالتا اسے بے بس کر چکا تھا۔ عنیزہ کی سانسیں اکھڑنے لگی تو وہاج نے بڑی بے دردی سے اسے اس کے نازک لبوں پر دانت گاڑھ کر اسے آزادی دی تھی عنیزہ لمبے لمبے سانس لیتی نم نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی تھی۔ وہ اس کی انگلیوں میں اپنے ہاتھوں کی انگلیاں الجھاتا اس کی صاف شفاف گردن پر جھک کر اپنے اندر کا غصہ نکالنے لگا تھا۔ عنیزہ اس کا درد بھرا لمس محسوس کرتی سسکنے لگی تھی وہاج نے اس کی گردن سے چہرہ نکال کر سرد نگاہوں سے اسے دیکھا تھا اس کی آنکھیں لالا سرخ ہو رہی تھیں۔
” رو تو ایسے رہی ہو جیسے خدا نخواستہ میں تم پر کوئی ظلم کر رہا ہوں۔۔” وہ اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھتا تڑخ کر بولا تھا۔ “مجھے تکلیف ہو رہی ہے” وہ روتی ہوئی بمشکل بول پائی تھی۔ “تو کس نے کہا تھا مجھ سے شادی کرنے کو؟؟؟ اب ٹسوے بہانا بند کرو اور چپ چاپ میری شدتیں برداشت کرو۔۔۔۔” وہ اس کے چہرے پر آئے آنسو بڑی بے دردی سے رگڑ کر بولا اور ایک ہی جھٹکے میں اس کے وجود سے تمام پردے ہٹا کر اس کے وجود کو اپنے اندر کی آگ سے جلانے لگا تھا۔۔۔۔
وہاج اس کے وجود کے ایک ایک حصے پر شدت سے دانت گاڑھ رہا تھا عنیزہ آہستہ آہستہ رونا چھوڑ کر خود کو اس کی شدتیں سہنے کے لیے تیار کر چکی تھی۔ وہاج اس کی گہرائیوں میں داخل ہوا عنیزہ کی درد بھری چیخ لبوں سے نکلی تھی یہ دوسری بار تھا جب وہاج اس کے
قریب آیا تھا عنیزہ کے لیے وہاج کو جھیل پانا بہت مشکل تھا وہ درد سے بلکتی اسے رکنے کو کہتی مگر وہ
اس کی سنے بنا مزید اپنی شدتوں میں اضافہ کرتا تھا۔
پوری رات وہ اس کے وجود میں سمایا رہا تھا عنیزہ کے بدن میں شدید درد کی ٹھیسیں اٹھ رہی تھیں وہاج اسے بانہوں میں بھینچ کر کچھ دیر کے لیے سو گیا تھا۔ اور وہ بار بار ٹیبل پر پڑی ہوئی اپنی کتابوں کی طرف دیکھ رہی تھی کل اس کا ٹیسٹ تھا اگر وہ ٹیسٹ میں اچھے نمبر نہ لیتی یا ایک نمبر بھی اس کا کم ہوتا تو وہاج سے الگ سزا جھیلنی پڑ سکتی تھی ابھی بھی وہاج نے اسے اپنی باہوں میں ہی بھرا ہوا تھا۔۔۔۔
وہ خود سے اس لڑکی کو ایک انچ بھی دور نہیں ہونے دے رہا تھا رہ رہ کر عنیزہ کو اس پر غصہ آرہا تھا لیکن وہ چاہ کر بھی کچھ کر نہیں پا رہی تھی صبح ہونے میں ابھی کچھ ہی گھنٹے باقی تھے جب اس نے دھیرے سے وہاج کی گرفت سے نکل کر کچھ پڑھنا چاہا تھا مگر اس سے پہلے ہی وہاج نے ایک بار پھر اس کے وجود پر۔۔۔۔۔۔۔
” کیوں میں کیوں نہیں شہر جا کر پڑھ سکتی؟۔۔۔” وہاج لالا بھی تو گئے ہوئے ہیں نا تو پھر میں کیوں نہیں جا سکتی؟ ” ولی عہد چوہدری کے شہر جا کر پڑھنے کے لیے منع کرنے پر عنیزہ روتے ہوئے بولی تھی ۔ کبھی کبھار آنسو انسان کا بہترین ہتھیار ہوتے ہیں اور یہ ہتھار عنیزہ کے لیے بہت فائدے مند ثابت ہوتا تھا۔ اکثر وہ اپنی باتیں یوں ہی رو دھو کر منوا لیا کرتی تھی اور اس کے آنسو دیکھ کر گھر کے سبھی فرد جیسے موم ہو جایا کرتے تھے۔۔۔۔
” وہ لڑکا ہے عنیزہ وہ کہیں بھی جا سکتا لیکن تم لڑکی ہو تمہاری ذمہ داری ہے ہم پر ہم ایسے ہی تو تمہیں دور دراز شہر میں نہیں بھیج سکتے جب تک تمہارے ساتھ کوئی محافظ نہیں ہو گا میں تمہیں اتنی دور نہیں بھیجوں گا۔۔۔” ولی عہد صاحب نے صاف صاف الفاظ میں کہا تھا۔۔۔ ” تو بابا میں کونسا کسی غیر کے پاس جاؤں گی شہر وہاج لالا بھی تو ہیں نا آپ مجھے ان کے پاس بھیج دیں ان کے ہوتے ہوئے تو آپ کو میری کوئی فکر نہیں ہو گی نا۔۔۔” وہ آج ان کو منانے کی پوری کوششں کر رہی تھی۔۔۔
ولی عہد کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی نازیہ بیگم اور پروین بیگم بھی مسکرانے لگی تھیں ” وہاج کو کال کروا کر حویلی آنے کا کہا گیا وہ شام کو حویلی پہنچ گیا تھا۔ اٹھائیس سالہ خوبصورت جوان مرد تھا آنکھیں سیاہ پرکشش سرخ سفید رنگت اسے دیکھ کر کسی کا بھی دل دھڑک سکتا تھا۔ عنیزہ تو اپنے کمرے میں خوشی سے جشن منا رہی تھی کہ ایک بار پھر اس کے آنسو کام آچکے ہیں وہ تو کمرے میں لڈیاں ڈال رہی تھی کہ ابھی شہر جائے گی شہری لڑکیوں کی طرح کالج جایا کرے گی بال کھول کر اور جس طرح یہاں پر ٹاپ کرتی آئی تھی ٹھیک ویسے ہی شہر میں بھی اپنا نام بنائے گی۔
اسے تو ویسے بھی یہ گاؤں کی زندگی سے اب چڑھ سی ہونے لگی تھی اس نے اونچے اونچے خواب دیکھ رکھے تھے اور وہ شہر جا کر ہی پورے ہونے والے تھے۔ جیسے ہی اپنی بڑی سی گاڑی میں وہاج حویلی میں داخل ہوا تو وہ تو کھڑکی سے اسے دیکھ کر ہی اچھلنے کودنے لگی تھی وہ جانتی تھی کہ اب وہاج اسے اپنے ساتھ شہر لے کر ہی جائے گا لیکن کس رنگ میں لے کر جائے گا اس بات کو اسے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔ وہی وہ آج بھی یوں اچانک اپنے بڑوں کے بلانے پر گھر تو آچکا تھا لیکن ابھی اسے بات سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اتنا اچانک اسے ارجنٹ کال کر کے کس لیے بلایا گیا ہے؟؟؟
وہ فکر مندی سے گھر میں داخل ہوا اور سیدھا اپنے والد کے کمرے میں گیا تھا لیکن جو الفاظ اس کے والد صاحب اسے کہہ رہے تھے وہ سن کر تو اس کا دماغ گھوم چکا تھا۔۔۔۔” یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں بابا میں عنیزہ سے شادی کر لوں وہ مجھ سے بہت چھوٹی ہے میں کیسے اس سے شادی کر لوں؟؟؟ وہ دبے دبے غصے میں دھاڑا۔۔۔۔ “چھوٹی ہے تو کیا ہوا تم تو بڑے ہو عنیزہ جب پیدا ہوئی تھی میں نے بھائی صاحب سے کہہ دیا تھا یہ میرے وہاج کی دلہن بنے گی اور اب میں چاہتا ہوں تم اسے اپنی دلہن بنا کر ساتھ لے جاؤ۔۔۔۔” تنویر عہد نے نرم لہجے میں کہا تھا۔
Aniza was a bright college student who had been forced into a secret marriage with her own professor, Wahaj Chaudhry, a man much older than her. No one at college knew they were husband and wife. Instead of protecting her, Wahaj publicly humiliated her in class. When her uniform tore, she begged him not to punish her because her classmates would laugh at her, but he mocked her mercilessly, accusing her of using college as an excuse to avoid her husband. Ignoring her embarrassment, he forced her to stand on a bench with her arms raised while the students laughed. At home, the abuse continued. Whenever she tried to study, Wahaj snatched away her books, insisting that a wife’s only duty was to serve her husband and bear his children. The night before an important test, he dismissed her education as worthless, refused to let her prepare, and instead coerced her into intimacy despite her repeated pleas to stop, leaving her physically and emotionally devastated.
After a painful and sleepless night, Aniza worried less about herself than about the exam she would likely fail because she had been prevented from studying. She knew that poor marks would only bring further punishment from Wahaj. Even when she quietly slipped out of his embrace before dawn to revise her lessons, he stopped her again, refusing to let her focus on her education. Trapped in an abusive marriage, Aniza felt completely powerless, forced to endure constant control while her dreams of completing her studies slipped further away.
The tragedy had begun months earlier when Aniza begged her family to let her continue her education in the city. She argued that her cousin Wahaj already lived there and could look after her, eventually convincing her father, Wali Ahad Chaudhry, to call Wahaj home to discuss the matter. Twenty-eight-year-old Wahaj was handsome, successful, and highly respected, while Aniza dreamed only of attending college in the city, building a career, and escaping the limitations of village life. Believing her dream was finally coming true, she celebrated with excitement. However, when Wahaj arrived at the family mansion, he was shocked to learn the real reason for his summons. His father reminded him of an old promise made when Aniza was born—that she would one day become Wahaj’s bride—and declared that the time had come for him to marry her and take her away as his wife rather than simply her guardian.
Download Link Given Below Click Download Button To Download The Novel