
” مجھے صرف آپکی بیوہ بہو ایک رات کے لیے اپنے بستر پر چاہیے ہم یہ خون معاف کر دیں گے ” ارسلان خانزادہ نے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے ہوئے پرویز خان سے کہا جرگے میں موجو د سب لوگ حیران ہوئے کیونکہ خانزادہ خاندان کی بیوہ کی شادی صرف اسکے دیور سے ہی ہوتی تھی مگر اس وقت اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے ایک رات کے لیے اسے ارسلان خانزادہ کے فلیٹ پر پہنچا دیا گیا وہ ڈری سہمی سی بیس سال کی لڑکی تھی جسکو دیکھ کر وہ حیران ہوا پورے وجود پر نیلے نشان تھے جیسے اس پر ظلم ہوتا ہو اسنے جیسے ہی پردے گرائے اسکے وجود پر تین مردوں۔۔۔۔۔
” میں تمہارے بیٹے کا خون بخشنے کو تیار ہوں پرویز خان ، لیکن بدلے میں مجھے کوئی زمین یا جائیداد نہیں چاہیے، ” ارسلان کے لہجے کی کھنک نے وہاں موجود بڑوں کے کان کھڑے کر دیے۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا اور سفاکانہ مسکراہٹ کے ساتھ وہ بات کہہ دی جس نے جرگے میں بم پھاڑ دیا تھا: ” مجھے صرف آپ کی بیوہ بہو ایک رات کے لیے اپنے بستر پر چاہیے ، ہم یہ خون معاف کر دیں گے ۔ ” یہ سنتے ہی وہاں موجود سفید داڑھیوں والے معتبرین کے ماتھوں پر پسینہ آگیا اور پرویز خان کا چہرہ پل بھر میں سفید پڑ گیا۔
خانزادہ خاندان کی روایات میں بیوہ کی ڈولی صرف اس کے دیور کے گھر اٹھتی تھی، مگر آج ارسلان نے ان کی غیرت اور روایت دونوں کو پاؤں تلے روند اور ڈالا تھا۔۔
ارسلان کی آنکھوں میں چھپا کوئی گہر ا مقصد تھا یا محض بربریت، یہ کوئی نہ جان سکا، مگر پرویز خان نے اپنے بیٹے کی جان بچانے کے لیے اپنی غیرت کا سودا کرنے میں دیر نہ کی اور لرزتے ہاتھوں سے اس شرمناک فیصلے پر مہر لگادی۔۔۔۔۔
حویلی کے اندھیرے کمرے میں حورین دیوار سے لگی کسی سہمے ہوئے پرندے کی طرح کانپ رہی تھی جب اس کا دیور، دلاور، غصے اور بے شرمی کا لبادہ اوڑھے کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر ہمدردی کا نام و نشان تک نہ تھا، بلکہ ایک عجیب سی ہوس اور مجبوری کی ملی جلی کیفیت تھی ۔ “سنو حورین!!! بابا نے فیصلہ کر لیا ہے، اپنے بھائی کی زندگی بچانے کے لیے ہمیں یہ کڑوا گھونٹ بھرنا ہی پڑے گا،۔۔۔۔” اس نے حورین کے قریب آکر اس کے منجمد ہوتے وجود پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کی تو وہ پیچھے ہٹ گئی۔۔۔۔
دلاور نے آواز کو تھوڑا نرم کرتے ہوئے مگر زہریلے لہجے میں کہا، “صرف ایک رات کی تو بات ہے، تمہیں ارسلان خانزادہ کے بستر پر جانا ہو گا، اس کے بعد میں تم سے نکاح کر لوں گا اور تمہیں اپنی عزت بنا کر رکھوں گا۔ ” یہ الفاظ حورین کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اترے، اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی اور آنکھوں سے آنسوؤں کے بندھ ٹوٹ گئے۔۔
اس نے شدت غم سے نفی میں سر ہلایا، اس کی زبان تالوں سے چپک گئی تھی مگر اس کی چیختی ہوئی خاموشی صاف کہہ رہی تھی کہ وہ اس ذلت پر موت کو ترجیح دے گی، لیکن وہاں اس کی سننے والا کوئی نہ تھا۔ حورین کی ہچکیاں اور فریادیں دیواروں سے ٹکرا کردم توڑ رہی تھیں، وہ بار بار اپنے دوپٹے کے پلو سے ہاتھ جوڑ کر دلاور اور اپنے سسر پر ویز خان سے رحم کی بھیک مانگ رہی تھی، لیکن ان کے دلوں پر غیرت کے بجائے اپنے بیٹے کی جان بچانے کا خود غرضانہ خوف سوار تھا۔
دلاور نے اس کے بازو سے پکڑ کر اسے کھینچا اور گھسیٹتے ہوئے باہر کھڑی گاڑی تک لیے گیا، حورین کے پاؤں زمین پر رگڑتے رہے ، اس کی مزاحمت اس کی وحشت کے سامنے بے اثر تھی۔ اسے ایک بے جان شے کی طرح گاڑی کی پچھلی نشست پر پھینک دیا گیا اور رات کے سناٹے کو چیرتی ہوئی وہ گاڑی ارسلان خانزادہ کے فلیٹ کی طرف روانہ ہو گئی، جہاں ایک معصوم لڑکی کو اپنی ہوس یا انتقام کی بھینٹ چڑھانے کے لیے ارسلان پہلے سے موجود تھا۔۔۔
جب گاڑی فلیٹ کے سامنے رکی تو دلاور نے آخری بار اسے دھمکی آمیز نظروں سے دیکھا اور اسے زبر دستی لفٹ تک لے جاکر ارسلان کے آدمیوں کے حوالے کر دیا، جو اسے اس شخص کی دہلیز تک لے آئے جس نے ایک رات کی قیمت پر ایک خاندان کی غیرت کو خرید لیا تھا۔ ارسلان خانزادہ حویلی کے بیرونی گیٹ کے پاس اپنی کالی چمچماتی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا، جیسے ہی دلاور حورین کو اس کے حوالے کر کے پیچھے ہٹا، ارسلان نے ایک سرد اور فاتحانہ نگاہ اس کی بے بسی پر ڈالی۔
اس نے گاڑی کا پچھلی نشست کا دروازہ کھولا اور حورین کو اندر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ حورین نے خود کو ایک بڑی سی کالی چادر میں لپیٹ رکھا تھا جیسے وہ اس کپڑے کے پیچھے اپنی روح کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہو۔ وہ کانپتے ہوئے قدموں سے گاڑی میں جا بیٹھی اور سیٹ کے ایک کونے میں سمٹ کر خود کو جتنا ہو سکے چھوٹا کر لیا۔
گاڑی جیسے ہی سڑک پر دوڑی، حورین کی سسکیوں کی آواز خاموش ماحول میں گونجنے لگی، وہ خوف سے بے حال تھی کہ اب اس کے ساتھ کیا ہوگا؟؟؟ اس کی مسلسل سسکیوں پر ارسلان نے بیگ ویو مرر سے اسے دیکھا، اس کی آنکھیں جذبات سے عاری تھیں؟ اس نے بھاری اور رعب دار آواز میں صرف ایک لفظ کہا،
” خاموش!!! “۔۔۔۔ارسلان کے اس ایک لفظ کی گونج اتنی طاقتور تھی کہ حورین کا دم جیسے سینے میں ہی اٹک گیا، اس نے ڈر کے مارے اپنے لب دانتوں تلے دبا لیے اور مزید سہم کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔۔۔۔
جہاں اندھیرا اس کے مستقبل کی طرح گہرا ہوتا جارہا تھا۔ ارسلان نے فلیٹ کا بھاری دروازہ کھولا تو حورین کو لگا جیسے وہ اپنی موت کی کوٹھری میں قدم رکھ رہی ہو، اس کا سر جھکا ہوا تھا اور چادر کے اندر اس کے ہاتھ شدت خوف سے ایک دوسرے میں پیوست تھے۔ مگر جیسے ہی اس نے قدم اندر رکھا، سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی ساکت ہوتی سانسیں الجھ گئیں۔
The story begins with a shocking decision made during a tribal council (jirga). Arsalan Khanzada offers to forgive the murder committed by Parvez Khan’s son, but instead of demanding money or land, he asks for Parvez’s widowed daughter-in-law, Hoorain, to spend one night with him. The request stuns everyone because, according to the family’s tradition, a widow can only remarry her deceased husband’s younger brother. Despite the humiliation, Parvez agrees to sacrifice Hoorain’s dignity to save his son’s life. It soon becomes clear that Hoorain has already suffered abuse, with bruises covering her body, making her situation even more heartbreaking.
Back at the family mansion, Hoorain desperately begs for mercy, but her father-in-law and brother-in-law, Dilawar, ignore her pleas. Dilawar coldly tells her that she must spend one night with Arsalan and promises to marry her afterward, as if that could erase the trauma. Terrified and devastated, Hoorain resists, but she is dragged from the house and forced into a car. To everyone around her, she is treated not as a human being but as a bargaining chip in a cruel deal made by the men of the family to protect themselves.
When Hoorain arrives at Arsalan’s luxurious apartment, she is overwhelmed by fear, believing she has been delivered to her worst nightmare. During the drive, Arsalan silences her with a single commanding word, leaving her trembling in complete terror. Wrapped tightly in a black shawl, she enters the apartment expecting cruelty and violence. However, the moment she steps inside, the scene before her is completely unexpected, leaving her shocked and confused. The story ends on a suspenseful cliffhanger, suggesting that Arsalan’s true intentions may be far more complex than they first appeared.Click below download button to download the novel