
Highlights From The Novel
’’ابھی شوہر کا جنازہ اُٹھے دس گھنٹے بھی نہیں گزرے ، اور تمھارا عاشق آگیا نکاح کرنے۔‘‘اُس نے کل رات ہی ایک ننھے وجود کو جنم دیا تھا۔وہ ہسپتال کے بستر پر پڑی اَپنی ساس کے اس قدر سفاکانہ لفظ سُن کر اَزیت سے آنکھیں میچ گئی۔’’ہماری طرف سے تم بھاڑ میں جاؤ بی بی ، پتہ نہیں یہ بچہ بھی کس کا گند ہے۔‘‘وہ درشتگی سے بولتی چلی گئیں تھیں۔
پرسو رات ٹوٹی قیامت نے اسے ساکت و جامد سا کردیا تھا۔نہ وہ کچھ کہہ سک رہی تھی اور نہ ہی کسی کے بات پر کوئی رد عمل دینے کے قابل رہی تھی۔ قسمت کی ستم ظریفی ہی تھی جو وہ اس نہج پر آگئی تھی۔ اچانک سے محبوب شوہر کا چھوڑ کر چلے جانا، اور زمانے کے سرد و گرم نے اسے ایک رات میں ہی تھکا سا دیا تھا۔۔جبھی سامنے کھڑا وہ شخص قدم قدم چلتا نزدیک آیا تھا۔
’’میری بات۔۔۔‘‘
’’شٹ اپ۔میرے کردار پر انگلیاں اٹھتی دیکھ کر بھی تمھیں سکون نہیں آیا،کیا چاہتے ہو اب ؟ کہ اپنے بچے سمیت ہی مر جاؤں۔تاکہ سب کو ثابت کرنے میں آسانی رہے کہ یہ ناجائز اولاد ہے؟‘‘وہ شدت گریہ سے پوری قوت سے چلائی تھی۔پیٹ میں ٹھیسیں سی اٹھنے لگی تھیں،زخم سے مانو خون رسنے لگا تھا۔
’’نہیں۔۔پلیز تم خود کو ازیت مت دو۔۔‘‘وہ گڑبڑا کر آگے آیا تھا۔جاؤ یہاں سے چلے جاؤ پلیز۔۔‘‘وہ تکیہ میں منہ دئیے سسک اٹھی تھی۔۔
صبح کا سورج چہار سو اپنے کشادہ پَر پھیلا چکا تھا۔یزدانی ہاؤس کی وسیع راہداری میں کسی صنف نازک کا وجود بھرپور کھلکھلاہٹ کے ساتھ بھاگتا چلا جا رہا تھا۔جبکہ عقب سے اسکی سہیلیاں کتنی ہی آوازیں آوازیں لگا چکی تھیں، جو سنی ان سنی کرتی شہریار کے کمرے کی جانب قدم اٹھا رہی تھی۔۔
یزدانی ہاؤس کی وسیع راہداری میں رنگ برنگے پھولوں کی خوشبو تیر رہی تھی، اور انہی خوشبوؤں کے درمیان کسی کی شوخ ہنسی موتیوں کی طرح بکھرتی چلی جا رہی تھی۔
“ارے رکو بھی۔۔۔۔۔۔”
پیچھے سے سہیلیوں کی آوازیں بلند ہوئیں، مگر وہ چنبیلی کے پھولوں جیسی ہنستی مسکراتی، گلابی لباس کی لہراتی اوڑھنی سنبھالتی سیدھی اوپر کی منزل کی طرف دوڑتی چلی گئی۔
“شہریار۔۔۔۔۔۔”
اس نے دروازے پر پہنچتے ہی آہستگی سے دستک دی، مگر اگلے ہی لمحے بغیر انتظار کیے دروازہ کھول کر اندر جھانکا۔
کشادہ کمرے میں کھڑکی کے پاس کھڑا شہریار اپنی گھڑی باندھ رہا تھا۔ ہلکے سرمئی رنگ کی شرٹ اور سیاہ ٹراؤزر میں ملبوس وہ پلٹا تو اس کی آنکھوں میں بے اختیار مسکراہٹ اتر آئی۔
“تمہیں دروازہ کھٹکھٹانے کی عادت کب آئے گی؟”
اس نے شرارت سے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے۔
“جب آپ مجھے ہر بار اندر آنے کی اجازت دینے لگیں گے۔”
شہریار ہنس پڑا۔
“صرف ایک ہفتہ باقی ہے۔۔۔”
وہ اس کے قریب آتے ہوئے دھیرے سے بولا۔
“پھر تمہیں اجازت مانگنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔”
اس کا چہرہ یکدم گلابی پڑ گیا۔
“امی کہتی ہیں، میں آپ کو بہت تنگ کرونگی۔”
“اور تمہارا کیا خیال ہے؟”
اس نے نظریں چرا کر مسکراتے ہوئے جواب دیا،
“میرا خیال ہے۔۔۔ آپ اتنے بھی برے نہیں ہیں۔کہ میں آپ کی جان کا عذاب بن جاؤں۔”
شہریار نے ہلکی سی قہقہہ نما ہنسی ہنسی۔
“یہ تعریف تھی یا رعایت؟”
“دونوں۔”
دونوں کی نظریں چند لمحوں کے لیے ایک دوسرے سے ملیں تو کمرے کی خاموشی بھی جیسے مسکرا اٹھی۔۔۔
Story From The Novel
This excerpt presents two contrasting phases of the story. In the first, a young woman has just given birth while grieving the sudden death of her husband. Instead of receiving sympathy, she is cruelly accused by her mother-in-law of having an affair and is made to feel that her newborn child is illegitimate. A man arrives wanting to speak to her, but, overwhelmed by grief and humiliation, she angrily rejects him and begs him to leave.
The story then shifts to an earlier, happier time in the Yezdani household. A cheerful young woman runs through the corridors while her friends call after her, eventually reaching Shahryar’s room. Their conversation reveals that they are close and that their marriage is only a week away. Their playful exchange shows mutual affection and excitement about their future together.
Overall, the passage creates a mystery through a time shift the happy relationship between the young woman and Shahryar contrasts sharply with the later tragedy, accusations, and grief. It leaves the reader wondering what happened between these two moments and why the woman eventually finds herself facing such painful circumstances.Download Novel By Clicking Download Button Below