
Highlights From The Story
” ساتویں مہینے کا پیٹ لیے اس کلموہی کو دیکھ کر مجھے الٹی آتی ہے دفع کرو اسے میرے سامنے سے۔۔۔” تائی نے حاملہ یتیم میرال کو کچن کے ٹھنڈے فرش پر دھکا دے دیا جو اندھیری رات میں اپنی عزت گنوا کر پریگننٹ ہو گئی تھی خاندانی بدنامی کے خوف سے تایا نے اس کا نکاح اپنے مغرور بیٹے شاہ زین سے کر دیا تھا جو میرال کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا تھا وہ روز اس کے پھولے ہوئے پیٹ کودے دیکھ کر کہتا۔۔ ” تم نے اپنے یار کا گناہ میرے سر تھوپ دیا۔۔۔” میرال روز روتی کہ کسی نے میرے ساتھ ظلم کیا ہے مگر کسی نے یقین نہ کیا۔۔۔ نویں مہینے جب میرال نے درد زہ ہونے پر ایک خوبصورت چاند جیسے بیٹے کو جنم دیا تو بچے کی دائیں آنکھ کے نیچے بنے اسی لال تل کو دیکھ کر سب لوگ دنگ رہ گئے جو ہو بہو۔۔۔۔
” رات کے اندھیرے میں اپنے یار کے ساتھ منہ کالا کر لیا ہوگا اب الزام ہمارے معصوم بچوں پر لگا رہی ہے اس کو تو ذرا شرم نہیں ہے بد کردار لڑکی تیری ماں نے بھی یہی کیا تھا بھاگ کر آئی تھی تیرے باپ کے ساتھ نہ ذات کا پتہ تھا نہ خاندان کا پھر خود تو مر گئی۔ اپنے گناہوں کا بوجھ لے کر لیکن تجھ جیسی آوارہ لڑکی کو ہمارے سر پر مسلط کر گئی ایک تو ہم تجھ جیسی یتیم کا خیال رکھا تجھے پال کر جوان کیا تجھے پڑھایا لکھایا اور اوپر سے تو ہمارا کھا کر ہمارے ہی منہ پر تھوک رہی ہے۔ بے غیرت لڑکی تجھے ذرا بھی غیرت ہے؟؟؟ تو یہاں اس حویلی سے چلی جا اگر دوبارہ اپنے منہ سے یہ الفاظ نکالے تو میں تجھے زندہ زمین میں دفن کر دوں گی۔۔۔۔۔”
تائی جان کی نفرت بھری نگاہیں میرال کے چہرے پر ٹکی تھیں ” تائی جان میں کیوں نہ کہوں گی کسی نے میرے ساتھ اتنا بڑا ظلم کیا ہے میرے ساتھ زیادتی کی ہے اور میں خاموش رہوں ایسا نہیں ہو سکتا میں چیخ کر ساری دنیا کو بتاؤں گی کہ اس حویلی میں مجھ جیسی یتیم لڑکی کے ساتھ کتنا بڑا ظلم ہوا ہے۔۔۔” اس کے آنسو زار و قطار گالوں پر بکھرے ہوئے تھے دادا جی جو بالکل خاموش تھے ان کے کندھے جھکے ہوئے تھے میرال نے ان کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھا پھر روتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
” دادا جان میں سچ کہہ رہی ہوں میں جھوٹ نہیں بول رہی اس حویلی میں کسی نے بے خبری میں میرے ساتھ یہ سب کیا اور خود چھپ کر بیٹھا ہوا ہے درندہ۔۔۔۔ میں خاموش نہیں رہوں گی دادا جان میں اپنی عزت کی وجہ سے خاموش رہی اس حویلی کے لوگوں کی وجہ سے لیکن اب جب کہ اس کا گناہ ساری دنیا کے سامنے آنے والا ہے اور لوگ مجھے ہی بد کردار گنہگار سمجھیں میں خاموش نہیں رہوں گی میرے ساتھ اتنا بڑاظلم ہوا ہے۔ میں کنواری ہی پریگننٹ ہو گئی ہوں مجھے کل ہی پتہ چلا میں چپکے سے کل بتول خالہ کے ساتھ گاؤں کے پاس والی کلینک میں چلی گئی تھی میں کسی کو بتائے بغیر گئی تھی میں صرف شک کی بنیاد پر گئی لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہاں جا کر میری زندگی برباد ہو جائے گی اس کا گناہ میرے وجود میں پل رہا ہے اور تائی جان کہتی ہیں کہ میں خاموش رہوں۔۔۔۔۔”
وہ سسک سسک کر رو رہی تھی دادا جان کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔ جبکہ تائی جان نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا ” توبہ توبہ کتنی بے شرم لڑکی ہے اتنی بے حیائی کی باتیں کر رہی ہے وہ بھی اس حویلی کے مردوں کے سامنے اور بھیجیں اسے کالج ہوسٹل وہیں جا کر یہ آوارہ لڑکی اتنی بگڑی ہے کتنا منع کیا تھا میں نے آپ کو ابا جی کہ یہ لڑکی مانا کہ یہ ہمارے خاندان کا حصہ ہے آپ کے بیٹے کی اولاد ہےلیکن آپ بھول گئے ہیں کہ اس کی رگوں میں اس عورت کا خون دوڑ رہا ہے جو اپنے خاندان کی عزت کو لات مار کر بھاگ کر آئی تھی آپ کے بیٹے سے شادی کرنے کے لیے۔۔۔ آپ کیوں اس کی بات کو سچ سمجھ رہے ہیں؟؟؟ ابھی رات کے اندھیرے میں اسے حویلی سے باہر نکال کر ہمیں اس سے چھٹکارا دلوا دیں۔۔ “
تائی جان کی زبان مسلسل زہر اگل رہی تھی۔ ” خاموش ہو جاؤ مہربانو۔۔۔” دادا جی نے تائی جان کو ایک آواز میں ہی خاموش کروا دیا تھا ان کی آواز میں بہت ہی رعب تھا
پھر انہوں نے میرال کے سر پر ہاتھ رکھا اور بھرائے ہوئے لہجے میں کہنے لگے ” میری بچی بتاؤ مجھے تم۔۔۔۔۔ تمہیں کس پر شک ہے اس دن تمہارے ساتھ یہ سب کس نے کیا تھا؟؟؟ کیا تمہیں وہ ذرا بھی یاد نہیں ہے؟؟؟ اس کا کوئی قد کاٹھ اس کی کوئی نشانی؟؟ بس تم ایک بار اپنی زبان سے۔۔۔ اس کا نام لو میں اسی وقت اس کا نکاح تم سے پڑھا دوں گا تاکہ یہ بات یہیں پر ختم ہو جائے۔۔۔” میرال نے اب حوصلے سے دادا جی کو دیکھا تھا۔۔۔
تائی جان غصے سے بل کھا رہی تھیں کہ وہ نہ جانے کس کا نام لے گی لیکن میرال ابھی تک خاموش تھی دادا جی سمجھ گئے کہ وہ تائی جان کی وجہ سے ڈر رہی ہے تبھی انہوں نے مہر بانو بیگم کو کمرے سے باہر جانے کا کہہ دیا جس پر وہ غصے میں تلملا کر رہ گئیں اور پیر پٹکتی باہر چلی گئیں پھر بند کمرے میں دادا جی کے سامنے میرال نے جس شخص کا نام لیا تھا۔ اسے سن کر وہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگے۔۔۔
” نہیں میرے بچے تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی ایسا نہیں ہو سکتا وہ ایسا ہے ہی نہیں میں کیسے تمہاری بات پر یقین کر لوں۔۔۔” وہ حیران تھے تبھی میرال سسکتے ہوئے کہنے لگی ” میں جانتی ہوں دادا جان کہ آپ کبھی بھی میری بات کا یقین نہیں کریں گے آپ کو وہ اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں آپ ان سے بہت محبت کرتے ہیں مجھے سے بھی زیادہ لیکن دادا جان آپ یہ بھی یاد رکھیے گا کہ جو لوگ باہر سے اچھا اور شریف بننے کا ناٹک کرتے ہیں وہ اندر سے اتنے ہی شیطان ہوتے ہیں۔۔۔۔” اس کی روتی ہوئی آنکھیں بہت کچھ کہہ رہی تھیں۔
اب کے دادا جی خاموش ہوکر رہ گئے تھے پھر گہری سانس لے کر کہنے لگے ” ٹھیک ہے اگر تمہیں پورا یقین ہے کہ یہ وہی شخص ہے تو میں اس جمعہ کو ہی تمہارا اس سے نکاح کر دوں گا۔۔۔” یہ سن کر میرال نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے دادا جان کی طرف دیکھا تھا جیسے اسے خود بھی یقین نہیں ہو رہا ہو ” اب تمہاری اور اس حویلی کی عزت بچانے کے لیے مجھے یہ کرنا ہی ہوگا۔۔۔” انہوں نے جیسے ایک فیصلہ کر لیا تھا پیچھے میرال تھکی ہاری دیوار سے لگ کر بیٹھ گئی تھی۔ لیکن وہ جانتی تھی کہ اس فیصلے کا انجام کتنا خطرناک ہونے والا ہے۔۔۔۔
Story From The Novel
Miral, a young orphan, found herself at the center of a devastating family scandal after becoming pregnant as the result of a serious crime committed against her. Instead of receiving support, she was blamed and publicly humiliated by her relatives, who refused to believe her and accused her of bringing shame upon the family. Despite their harsh words, Miral continued to insist that she was a victim and deserved justice.
Desperate to be heard, Miral confided in her grandfather and revealed that she believed the person responsible was someone from within the family estate. The accusation left him stunned because the man she named had always been regarded as honorable and trustworthy. Although he struggled to reconcile the allegation with the man’s reputation, he could not ignore Miral’s fear, grief, and unwavering conviction.
As hidden secrets began to unravel, Miral’s grandfather realized that protecting the family’s reputation could not come before discovering the truth. Determined to uncover what had happened and hold the responsible person accountable, he chose to investigate the matter rather than dismiss Miral’s claims. Meanwhile, Miral resolved to stand by the truth, hoping that justice would finally prevail despite the challenges ahead.
This version keeps the emotional stakes and mystery while framing the events responsibly: it avoids graphic descriptions, does not romanticize the abuse, and emphasizes seeking the truth and accountability rather than treating the crime as something to be covered up or resolved through marriage.Click Novel By Clicking Download Button Below