Highlights From The Novel

یہ میری دوسری بیوی ہے“۔ صوفی صاحب نے قدرے جھجھک کر دور برآمدے میں کھڑی حُسنہ کو دیکھتے ہوئے مدھم آواز میں کہا۔ مگر وہ آواز کسی کے لئے بھی اتنی مدھم نہیں تھی کہ سُنی نہ جا سکے۔ حسنہ کے ہاتھ سے صراحی چھوٹ کر فرش پر جا گری۔ حسن آراء چونک کر اُس کی طرف متوجہ ہوئی، جبکہ دلشاد دونوں ہاتھ سینے پر رکھے سفید پڑتے چہرے کے ساتھ صوفی صاحب کو دیکھ رہی تھی، کیا بے یقینی سی بے یقینی تھی۔
”دوسری بیوی؟“
”حُسنہ انہیں اوپری منزل پر لے جاؤ… مہمان خانے میں، کل ایک کمرہ ٹھیک کر دینا ان کے لئے“۔ صوفی صاحب نے دلشاد سے نظریں چراتے ہوئے دور کھڑی حسنہ سے کہا، جس نے بے حد شکایتی نظروں سے باپ کو دیکھا اور پھر ایک لفظ کہے بغیر اندر چل پڑی۔
”جائیں حسن آراء“، صوفی صاحب نے اُس سے کہا۔ دلشاد ابھی بھی پتھر کے مجسمے کی طرح وہیں دروازے پر کھڑی تھی۔ صوفی صاحب کا 35 سال میں تراشا جانے والا بت دو سیکنڈز میں زمین پر گر کر چکنا چور ہو گیا تھا۔
حسن آراء نے ایک بار پھر دلشاد کو دیکھا اور پھر اندر چلی گئی۔ ”کھانا لگاؤ“۔ صوفی صاحب نے دلشاد سے نظریں چراتے ہوئے کہا اور خود بھی سر سے ٹوپی اُتارتے ہوئے اندر چلے گئے۔
دلشاد وہیں کھڑی اُنہیں جاتا دیکھتی رہی۔ ”دوسری بیوی حسن آراء“، اُس کا ذہن ابھی تک ان الفاظ کی گونج سے لرز رہا تھا۔
آخر یہ کیسے ممکن تھا کہ یوں اچانک ایک رات صوفی صاحب ایک دوسری عورت کو بیوی بنا کر گھر لے آئیں، نہ ان سے بات کرتے، نہ اُن سے پوچھتے، نہ اُن کو بتاتے… یا اور کچھ نہیں تو اپنی کسی حرکت سے دلشاد کو شبہ کرنے پر ہی مجبور کر دیتے… کچھ بھی تو نہیں ہوا تھا… وہ سیدھے سیدھے ایک بیوی لے آئے تھے… ایک بیوی… دلشاد کی آنکھوں میں سیلاب کی طرح پانی اُٹھا تھا، اس گھر میں 35 سال کی شادی شدہ زندگی میں پہلی بار صوفی صاحب نے انہیں رُلایا تھا۔
”آپ عشاء پڑھنے گئے اور میرے لئے سوکن لے کر آ گئے۔“ دلشاد نے جیسے تڑپ کر کہا۔
”تم خود ہی تو کہا کرتی تھیں کہ میں دوسری شادی کر لوں… کتنا اصرار کیا تھا تم نے… یاد ہے تمہیں؟“
”کئی سال پہلے کی بات ہے وہ، اور تب تو آپ نے میری بات مان کر نہ کی اور اب…“ صوفی صاحب نے دلشاد کی بات کاٹی۔
”تب نہ کہی اب سہی، مگر بات تو مان لی نہ میں نے تمہاری“۔
”شادی ہی کرنا تھی تو کسی بڑی عمر کی عورت سے کرتے، اپنی بیٹی کی عمر کی لڑکی کو بیاہ لائے… محلے والوں کو پتہ چلے گا تو کیا کہیں گے وہ؟“
”کچھ نہیں کہیں گے… چار دن باتیں کریں گے پھر خاموش ہو جائیں گے۔“ صوفی صاحب کے پاس جیسے ہر اعتراض کا جواب تھا۔
”پر اُسے لائے کہاں سے آپ؟ کس خاندان کی ہے؟“ دلشاد کو سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ اُن سے اور کیا کہے۔
”یہ سوال غیر ضروری ہیں… وہ اس گھر میں آ گئی، اب یہ اُس کا گھر اور ہم سب اُس کا خاندان… باقی سب کچھ بھول جاؤ۔“ اس بار صوفی صاحب کا لہجہ بے حد سخت تھا۔
”بھولوں تو تب جب اُس کے بارے میں کچھ پتہ چلے… آپ تو اس طرح دیوانے ہوئے بیٹھے ہیں اُس کے کہ اُس کے بارے میں زبان کھول کر نہیں دے رہے۔“ دلشاد کو اُن کا لہجہ چبھا اور صوفی صاحب کو اُن کا جملہ۔
”مجھ سے جو کہنا ہے کہہ لو لیکن حسن آراء سے اس طرح کے سوال جواب کرنے مت بیٹھنا۔ اس گھر میں کوئی لڑائی جھگڑا نہیں چاہیے مجھے، وہ تمہاری عزت کرے گی اور تم اُسے چھوٹی بہنوں کی طرح رکھنا۔ دروازہ بند کر لو…“ صوفی صاحب اُٹھ کر کمرے سے چلے گئے۔
دلشاد بے اختیار اُن کے پیچھے کمرے کے دروازے تک گئی… چند گھنٹوں میں وہ ایک معزول بادشاہ کی حیثیت اختیار کر چکی تھیں، چند گھنٹوں میں 35 سال کا ساتھی بدل گیا تھا۔ کمرے کا دروازہ بند کرنے کی بجائے وہ واپس اپنے پلنگ پر آ کر بیٹھ گئیں اور دوپٹہ آنکھوں پر رکھ کر بے اختیار پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ وہ خاندانی عورت تھیں، صوفی صاحب سے یہ کیسے کہتیں کہ اُنہیں اُن سے شدید محبت تھی… 35 سال پر محیط محبت! اور یہ گھر ہاتھ سے جانے کا دُکھ نہیں تھا، یہ صوفی صاحب کے دل میں کسی اور کے آ جانے کا دُکھ تھا جو انہیں تڑپا تڑپا کر رُلا رہا تھا

Story From The Novel



After thirty-five years of what appeared to be a devoted marriage, Delshad’s world shatters when her husband, Sufi Sahib, unexpectedly brings home a young woman named Husn Ara and calmly introduces her as his second wife. The revelation leaves the entire household stunned, especially Delshad and their daughter Husna. Unable to comprehend how her husband could make such a life-changing decision without even informing her, Delshad struggles with betrayal, heartbreak, and the sudden collapse of the trust she had built over decades.



As Delshad questions his decision, Sufi Sahib reminds her that years ago she had once suggested he remarry, though she never imagined he would actually do so. He refuses to explain Husn Ara’s background and insists that everyone accept her as part of the family. His cold, practical responses contrast sharply with Delshad’s emotional pain, making it clear that he has already made up his mind and expects peace within the household regardless of the consequences.



The novel explores the emotional impact of second marriage, the silent sacrifices of long-term relationships, and the heartbreak of a woman who realizes that the man she loved for thirty-five years has given a place in his heart to someone else. Rather than focusing on property or status, the story highlights Delshad’s deep emotional loss, portraying love, dignity, jealousy, and resilience within the complexities of family life.


This excerpt centers on family conflict and emotional consequences rather than celebrating the second marriage, making it a character-driven domestic drama.Download Novel By Clicking Download Button

DOWNLOAD

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *