
Highlights From The Story
مجھے چھوڑیں ورنہ میں بڑے بابا کو آواز دے دوں گی۔” اس نے دھمکی دی، لیکن عکراش کا پارہ ہائی ہو گیا۔ اس نے اسی طرح اس کے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کیے اسے کمرے سے باہر نکال لیا۔
“اب دو سب کو آوازیں۔”منکوحہ ہو تم میری ۔۔۔اور اب رخصتی تو میں ایسے ہی کروا لو گا جس سے تم بھاگ رہی ہو ۔۔” اس نے بھی الٹی دھمکی دی۔ اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ بھی ہو سکتا ہے، وہ حیا سے پانی پانی ہو گئی۔
وہ مفاہمت کی کوئی راہ نکالنا چاہتی تھی لیکن اس نے موقع ہی نہ دیا اور اسے لیے لمبے ڈگ بھرتا چل پڑا۔
وہ کمرے کا دروازہ بند کرنے کے بعد مڑا تو وہ دھواں دھار قسم کے رونے میں مصروف تھی۔
“بھئی یہ کیا؟ ابھی تو تم سے بہت ساری معافیاں مانگنی ہیں، بہت سارے شکوے دور کرنے ہیں۔ بہت ساری باتیں جو ان کہی ہیں، کچھ کہنی ہیں کچھ سننی ہیں اور تم نے رونا شروع کر دیا۔” وہ محبت سے کہتا ہوا اس کے قریب آیا تو وہ اس سے دور ہو گئی اور آنسو صاف کرتے ہوئے بپھر کر بولی:
“شرم نہیں آئی آپ کو اس قسم کی حرکت کرتے ہوئے؟ سب لوگوں نے دیکھ لیا، کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا آپ نے مجھے۔”
“تو کیا ضرورت ہے کسی کو منہ دکھانے کی؟ میں جو ہوں، مجھے دکھاؤ منہ۔” وہ اس کے غصے سے محظوظ ہوتے ہوئے بولا۔
وہ اور بھی مشتعل ہو گئی۔
“آپ نے سمجھ کیا رکھا ہے خود کو؟” وہ روئے جا رہی تھی۔
“آپ کا خادم!” وہ سر جھکا کر بولا۔ “مگر خادم کو جب یہ اطلاع ملی کہ ملکہ عالیہ خادم سے ڈرتی ہیں تو وجہ پوچھنے کے لیے یہ گستاخی کر بیٹھا۔” وہ مکمل شرارتی موڈ میں تھا ساتھ ساتھ فضا کو بھی خوشگوار بنانا چاہ رہا تھا۔
“بڑی خوش فہمی ہے آپ کو کہ میں آپ سے ڈرتی ہوں۔” وہ جل کر بولی۔
“پھر دور کیوں بھاگتی تھیں مجھ سے؟” وہ استہزائیہ انداز میں بولا۔
“نجات حاصل کرنے کے لیے آپ سے، مگر مجھے نہیں پتا تھا کہ آپ نہایت کمینے شخص ہیں۔ اتنی واہیات حرکت بھی کر سکتے ہیں۔” اٹھا کر لانے والی بات اسے برداشت نہیں ہو پا رہی تھی، بار بار وہ یہی بات کر رہی تھی۔
“کشمائن بیگم! آپ میری بیوی ہیں، ہر طرح کا حق رکھتا ہوں آپ پر۔ کسی اور لڑکی کو نہیں، اپنی بیوی کو اٹھا کر لایا ہوں۔” وہ بھی غصے میں آ گیا، خواہ مخواہ وہ بات کو طول جو دے رہی تھی۔
“بیوی ہوں آپ کی ریاست نہیں، اس دن بچوں کے سامنے تھپڑ مار دیا، ہر جگہ ہر مقام پر مجھے ذلیل کیا اور اب یہ حرکت بھی کر دی، کس نے دیا ہے آپ کو یہ حق؟” وہ چلائی۔
“بابا جان سے جا کر پوچھو۔” وہ اس سے دوگنی آواز میں چیخا۔ پھر دونوں جانب خاموشی چھا گئی، وہ بات بگاڑنا نہیں چاہتا تھا اس لیے خود ہی منانے والے انداز میں اس کی کلائی تھامتے ہوئے بولا:
“کیا فضول سی بات لے کر بیٹھ گئی ہو۔ مجھے موقع تو دو بولنے کا پھر جو مرضی آئے سزا دے لینا، ایک لمبی فہرست ہے تمہارے ہاتھ میں میری سزاؤں کی اور میرے پاس اعترافِ جرم کی۔ اب دیکھو پہلی سزا تو میری یہی ہونی چاہیے کہ رونمائی کے وقت میرے پاس کچھ بھی نہیں دینے کو اور تم بھی تو بنا گھونگھٹ بنا سنگھار کے ہو۔” اس نے شرارت سے اس کے چہرے پر بکھرے بالوں کو ہٹاتے ہوئے کہا تو اس نے اس کا ہاتھ فوراً جھٹک دیا مگر کلائی نہ چھڑوا سکی اور پھر رخ موڑتے ہوئے ناگواری سے بولی:
“ہر مرد اپنے مفاد کے لیے ایسے ہی جال پھیلاتا ہے۔” وہ اس کی محبت میں پاگل ہوا جا رہا تھا اور وہ اسے مفاد بتا رہی تھی، اس کے تن بدن میں آگ سی لگ گئی، مگر وہ پھر بھی خاموش رہا۔
“میں آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی اور نہ ہی مجھے آپ کی ضرورت ہے، میں اپنے گھر ہی خوش ہوں اور آپ بھی اپنی زندگی جس طرح مرضی گزاریے، دوسری شادی کر لیجیے، میری طرف سے آپ کو اجازت ہے۔” ان جملوں پر تو اس کا دماغ گھوم گیا۔ وہ بالکل بھی اندازہ نہ لگا پایا تھا کہ جسے وہ اس قدر ڈری سہمی سمجھتا ہے اس کے خیالات اتنے بلند ہوں گے۔
“کشمائن صاحبہ! مجھے دوسری شادی کرنے کے لیے آپ کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ میں ایک کروں یا چار، آپ کون ہوتی ہیں مجھے اجازت دینے والی؟” وہ فطری جلال میں آ گیا۔
“اور یہ جملے جو بولے ہیں ناں آپ نے، کل اسی طرح بابا جان کے سامنے بھی کہہ دینا تاکہ میری تو تم سے جان چھوٹے ہی بابا جان کو بھی پتا لگ جائے کہ ان کی بیٹی کس قدر بھولی اور معصوم ہے۔” اس نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا اور جھٹکے سے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا، وہ چکرا کر رہ گئی۔
Story From The Novel
This scene depicts an emotionally charged confrontation between a married couple, Akrash and Kashmain, whose relationship has been strained by misunderstandings, pride, and unresolved hurt.
Akrash forcefully takes Kashmain to their room after insisting that she is his lawful wife and that he has every right to bring about their rukhsati. Although he tries to lighten the mood with teasing, jokes, and playful remarks, Kashmain remains deeply upset. She feels humiliated by the way he carried her in front of everyone and accuses him of repeatedly disrespecting her—reminding him of an earlier incident where he slapped her in front of children. For her, his actions are controlling rather than loving.
As the conversation continues, Akrash admits he wants to apologize and resolve the issues between them, but Kashmain has lost trust in him. She says she neither needs him nor wishes to live with him and even tells him he is free to marry someone else. Her words ignite Akrash’s anger. He responds that he does not need her permission to marry again and challenges her to repeat those same words before her father. The chapter ends with both of them standing at an emotional crossroads—Akrash torn between love and wounded pride, and Kashmain determined to protect her dignity despite her fear and pain. Click Below Download Button To Download The Novel