Bheegi Yaadon Ka Safar By UM

Highlights From The Story

” او مائی گاڈ۔۔ کتنا ہینڈسم ہے دلہے کا دوست۔۔ سنا ہے گاؤں کا سردار ہے ” اپنی دوست کی بات پر حبہ نے چونک کر نظر اٹھائی تھی اور اگلے لمحے اس کی جان حلق میں آئی تھی کیونکہ دلہے کے ساتھ جس کی انٹری ہوئی تھی وہ واقعی گاؤں کا سردار شاہ زر شاہ تھا جو اس کا منکوح بھی تھا وہ گھر قرآن خانی میں جانے کا جھوٹ کہہ کر نکلی تھی اور یہاں اپنی دوستوں کے ساتھ کمر پر دوپٹہ باندھے ڈانس کر رہی تھی۔ اس سے پہلے وہ چہرہ چھپاتی شاہ زر کی نظر اس پر پڑ چکی تھی اگلے لمحے وہ مسکراتے اس کی جانب بڑھا تھا اور سب کے سامنے اسے کمر سے تھامتے اس کا دوپٹہ اتار کر سر پر اوڑھایا تھا ” یہاں اچھے سے انجوائے کریے گا مسسز شاہزر کیونکہ گھر لوٹنے کے بعد سزا بھی بہت اچھی دوں گا آپ کو۔۔۔” اس کی دھمکی پر حبہ کی جان حلق میں آئی تھی کیونکہ۔۔

” جلدی جلدی ہاتھ پیر چلاؤ میرا بیٹا آ رہا ہے ” عمر صاحب ملازموں کو سخت گھورو سے گھورتے کہا،، کیونکہ وہ کام اتنی سست روئی سے جو کر رہے تھے۔۔۔۔ انکے آواز سنتے تیزی سے ہاتھ پیر چلانے لگے۔۔۔۔ ” کیا ہوا تایا جان اتنا غصہ کیوں ہو رہے ہیں بے چاروں پر۔۔۔۔ کر تو رہے ہیں کام ” حبہ سیڑھیاں اترتی مسکراہٹ دبا کر بولی ۔۔ ” ارے میرا بچا آیا ہے آؤ آؤ میری جان ،، یہ کیا پہن رکھا ہے، میرے جان آج کچھ اچھا سا لباس پہنو نہ ” عمر صاحب نے اُسکی طرف بانہیں پھیلا کر کہا تو وہ دوڑ کر انکے سینے سے لگی ۔۔۔۔ ” ہم کہاں جا رہے ہیں کوئی آ رہا ہے کیا ” ایک کے ساتھ کئی سوال کرتے وہ عمر صاحب کو مسکرانے پر مجبور کر گئی تھی ” ہاں یہ ہی سمجھ لو کہ کوئی خاص مہمان آ رہا ہے ، اُنکے سامنے میرا بچا سب سے زیادہ پیارا لگنا چاہیے، پیارا سا تیار ہو جاؤ۔۔ ” اسکے ماتھے پر بوس دیتے وہ محبت سے بولے تو وہ جھٹکے سے سر اثبات میں ہلاتی اپنے کمرے میں بھاگی۔۔۔۔۔۔

” دیکھتا ہوں کیسے منع کرتے ہو ” اپنے بیٹے کا سوچتے انہوں نے لب شرارت سے دبائے۔۔۔۔ تبھی باہر گاڑی رکنے کی آواز پر وہ باہر کی جانب لپکے ۔۔۔۔” اسلام علیکم بابا ” شاہ زر گاڑی سے اُترتا اپنے باپ کی طرف بڑھا جو نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔ ” وعلیکم اسلام آ گئے تم ،، اب بس تم،، پھر مت جانا بہت ہو گئی پڑھائی بھئی اب یہاں کا بزنس سنبھالوں اور شادی کرو مجھے بھی تو پوتے پوتیاں دیکھنے ہیں ” بازو اسکے گرد باندھے وہ شریر لہجے میں بولے۔۔۔۔ ” وہ ہی ” تو کرنے آیا ہوں “” خیالوں میں رمشا کو سوچتے وہ پیاری سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔۔۔۔

“” میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ بچی اپنے گھر کی ہو جائے ” صوفے پر بیٹھتے وہ اچانک کھڑا ہو گیا۔۔ ” کیا مطلب آپ کس کی بات کر رہے ہیں؟؟ ” وہ جو سوچ رہا تھا اگر عمر صاحب بھی وہی کہہ رہے تھے، پھر تو یہاں آنے کا فیصلہ غلط تھا۔۔۔۔ ”’آپ کس کی بات کر رہے ہیں،، جہاں تک میں جانتا ہوں آپ رمشا کو نہیں جانتے ”وہ لب بھینچے انہیں ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ ”کون رمشا نیں اپنی بھتیجی حبہ کی بات کر رہا ہوں’ ” چار سوچالیس واٹ کا جھٹکا تھا جو شاہ زر کو لگا تھا ،، چہرے پر غصے کی لالی اُبھری تھی۔۔۔۔

” آپکی لاڈلی کو طلاق دے کر میں رمشا سے شادی کروں گا اور یہی میرا آخری فیصلہ ہے ” پانچ سال بعد وہ پاکستان لوٹا تو اپنے باپ کو فیصلہ سنا دیا،، اس بار وہ غصہ نہیں ہوئے شاید وہ پہلے سے جانتے تھے کہ انکا بیٹا ایسا کچھ کرنے والا ہے ۔۔۔۔ “بہت اچھا فیصلہ ہے ، میں نے بھی حبہ کے لیے اپنے دوست کا بیٹا پسند کیا ہے، کیا
ہی ہینڈسم ہونہار لڑکا ہے بلکل میری حبہ کے جوڑ کا ” انکی آنکھوں میں بھتیجی کے لیے بے پناہ محبت تھی،، اور انکی بات پر شاہ زر کے تن بدن میں آگ لگا گئی تھی۔۔

“تایا جان دیکھیں میرا ڈریس۔۔۔” اس ہی لمحے حبہ دلکش ڈریس پہنے لاونج میں داخل ہوئی اور گول گول گھومتی اپنے تایا جان کو اپنے کپڑے دیکھانے لگی۔ جبھی شاہ زر ضبط کھوتا اسکا بازو اپنی مضبوط گرفت میں دبوچ گیا آنکھیں لہو ٹپکا رہی تھی۔۔ ” کس کے لیے اتنا سج سنور رہی ہو؟؟؟ ” شاہ زر کی جیلسی پر جہاں اسکے باپ نے ہنسی دبائی وہیں حبہ نے آنکھیں ٹپٹپاتے اس اجنبی کو
دیکھا ۔۔ ” تایا جان یہ اکڑو کون ہے؟؟ ” شاہ زر کا چہرہ سرخ ہوا تھا اپنے لیے اتنا عجیب نام سن کر، جبکہ عمر صاحب نے بمشکل ہی لب دبائے۔۔۔۔

” بیٹا یہ شاہ زر ہے میرا بیٹا اور تمہارا کزن ” انھوں نے مخصوص لفظوں میں اپنے بیٹے کا تعارف کروایا، جس پر حبہ کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا وہ شرماتی ہوئی عمر صاحب کے پیچھے چھپ گئی۔ ” تایا جان آپنے پہلے کیوں نہیں بتایا شوہر آرہے ہیں ” دوپٹے کو انگلیوں میں لپیٹتی وہ خفگی سے بولی۔۔۔۔ ” مجھے لگا تھا میں تمہیں سرپرائز دوں گا لیکن یہاں تو میں خود سرپرائز ہو گیا ہوں، تم چھوڑو یہ سب جاؤ پیپر کی تیاری کرو ” نرمی سے حبہ کے گال تھپتھپاتے اسے کمرے میں جانے کا کہنے لگے وہ ایک چور نظر شاہ زر پر ڈالتی سیڑھیوں کی طرف بھاگی ۔۔۔

اس نے ضبط سے آنکھیں میچی اسکی بچکانہ حرکتیں ابھی تک ویسی ہی تھی۔۔۔” ٹھیک ہے تم اسے کل طلاق دو میں اپنے دوست کو پرسوں بولا لوں گا “” سنجیدگی سے کہتے وہ صوفے پر بیٹھے، شاہ زر بھی انکے ساتھ ہی بیٹھ گیا لیکن وہ بہت بے چین سا تھا، حبہ کو دیکھنے کے بعد دل مان نہیں رہا تھا ،، عجیب سی کشمکش تھی۔۔ ” ہممم دیکھیں گے ” وہ بس اتنا ہی بولا عمر صاحب نے غور سے اسے دیکھا، وہ سمجھ گئے تھے جبہ کو دیکھنے کے بعد اسکا دل بدل گیا ہے لیکن پھر بھی وقت لگے گا۔ وہ بھی خاموش ہو گئے ،، اور ملازمہ کو کھانا لگانے کا کہا

شاہ زر کی نظر بھٹک بھٹک کر حبہ پر جا رہی تھی، جو عمر صاحب کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی ۔۔ اسکا وہ معصوم سا چہرہ شاہ زر کو سکون سے بیٹھنے نہیں دے رہا تھا۔ ” جادو گرنی ” جھنجھلاتے ہوئے وہ غصےسے بولا،، اب نظریں ہٹا لی تھی تو اسکی آواز اُسکے ذہن پر سوار ہو رہی تھی۔۔۔ دل کیا اسکے معصوم سوالوں پر ہنس دے لیکن پتھر بنا بیٹھا رہا۔۔۔۔ ” تایا جان یہ اتنے خاموش کیوں ہیں باہر سے زبان کٹوا کر آئے ہیں کیا ” بول تو وہ سرگوشی میں ہی رہی تھی لیکن پاس ہی بیٹھنے کی وجہ سے شاہ زر نے سن لیا تھا۔۔۔۔

” تم کچھ دیر چپ نہیں بیٹھ سکتی کب سے دیکھ رہا ہوں بولے جا رہی ہو بولے جا رہی ہو ” اسکی دھاڑ پر حبہ اپنی جگہ سے اچھلی تھی۔ ” یہ کیا بد تمیزی ہے شاہ زر؟؟؟ بچی سے ایسے کون بات کرتا ہے ” سخت گھورو سے اپنے بیٹے کو گھورتے وہ حبہ کو اپنے پاس بلانے لگے، جو نم آنکھیں لیے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔” بچی یہ بچی لگتی ہے آپکو ” طنزیہ کہتا حبہ کے سرا پائے کو دیکھنے لگا جو نہ زیادہ موٹا تھا نہ ہی پتلا تھا، وہ فٹ تھی
” آپ سے تو چھوٹی ہوں نہ شاہ ” منہ بسورتی وہ اتنی کیوٹ لگ رہی تھی کہ شاہ زر کے دل کی ایک بیٹ مس ہوئی۔۔۔۔ ”’ آپ چاہتے ہیں میں اس سے شادی کروں ہر گز نہیں ” مٹھیاں بھینچتا وہ غصے سے بولا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر گیا، یہ جانے بغیر کہ اسکے الفاظ کسی معصوم کے دل میں تیر کی طرح چبے تھے۔۔

Story From The Novel

Hiba secretly leaves home after telling her family that she is going to attend a Quran recitation, but instead she joins her friends at a wedding and dances freely. During the celebration, her friends admire the groom’s handsome companion, who turns out to be the village chief, Shah Zar Shah. Hiba is horrified because Shah Zar is actually her husband through a family marriage. He notices her dancing, walks over calmly, places her dupatta back on her head in front of everyone, and teasingly warns that she will face a strict punishment once they return home, leaving Hiba frightened and embarrassed.

Meanwhile, Shah Zar returns to Pakistan after spending five years abroad. His father, Umar Sahib, is overjoyed and hopes his son will settle down, take over the family business, and begin married life properly. However, Shah Zar reveals that he wants to divorce Hiba because he intends to marry another woman named Rimsha. His father surprises him by saying that he has already chosen a new groom for Hiba if the divorce happens. At that moment, Hiba arrives innocently, unaware that the handsome stranger is Shah Zar himself. When she learns that he is her husband and cousin, she becomes shy, while Shah Zar, despite his anger, cannot stop noticing her innocence and charm.

As they spend time together, Shah Zar becomes confused by his own feelings. Although he insists that he does not want to marry Hiba, he grows jealous whenever he sees her dressed beautifully or talking happily with his father. Hiba’s playful and childish behaviour slowly affects him, even though he continues to act cold and harsh. Finally, in a fit of frustration, Shah Zar loudly declares that he will never accept Hiba as his wife and storms out. His cruel words deeply hurt Hiba, whose innocent heart is broken, while Shah Zar remains unaware that his growing emotions are beginning to replace the love he once believed he had for someone else. Download Novel By Clicking Download Button

DOWNLOAD

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *