
Highlights From The Story
“کوئی میرے قریب آتا ہے یا مجھے چھوتا ہے تو مجھے پینک اٹیک آ جاتا ہے۔”وہ شادی کی پہلی رات اسے یہ سب بتارہی تھی۔ امان بنا پلکیں جھپکے اسے گھور رہا تھا۔ اس کے دہلا دینے کے روپ پر بات کرتے ہوئے اداسی چھا گئی تھی۔ اندر مچی اتھل پتل کے باوجود امان نے اس تغییر کو خوب محسوس کیا۔
”یہ دوائی ڈاکٹر نے تجویز کی تھی۔ سب کا خیال تھا کہ اس کے بعد میرا وہ حال نہیں ہوگا یعنی پینک اٹیک نہیں آئے گا۔”امان نے خاموشی سے بیڈ تک جانے میں ہی عافیت جانی تھی۔
کسی فلمی سین کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ بیٹا اتنا بڑا ہے کہ ہم دونوں آرام سے یہاں رہ سکتے ہیں۔” اس نے پلنگ کے دونوں کناروں کی طرف اشارہ کیا۔ وہ واپس اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گیا۔ نور ہنوز اپنی جگہ جمی تھی۔
”کیسے؟” اس نے گول کروٹ میں سوچا مگر امان جیسے اس کا سوال سن چکا تھا۔ اس کے چہرے پر ہوا ئیاں اڑتے دیکھ کر امان کو غصہ آنے کی بجائے اس پر ترس آنے لگا۔ صالحہ ہمیشہ کہا کرتی تھی کہ اچھے لوگوں کی نشانی ہے کہ وہ اپنی ذات سے کسی کو پریشان نہیں دیکھ سکتے۔
”میں جس پوزیشن میں ہوتا ہوں صبح اس پوزیشن میں بیدار ہوتا ہوں، ڈونٹ وری۔” وہ اپنی جگہ لیٹ گیا۔ نور ویسے ہی کھڑی رہی۔ امان چند پل متترر رہا کہ وہ دوسری طرف آ کر لیٹ جائے گی۔
”لعنت ہے ایسی اچھائی پر۔” وہ بڑبڑاتے ہوئے اٹھ بیٹھا۔
”تمہاری مرضی اور اجازت کے بغیر۔۔۔ قریب نہیں آؤں گا، یہ وعدہ ہے۔” اس کے سفید پڑتے چہرے پر نظر جمائے اس کی آواز خود بخود نرم ہو گئی تھی۔ “اگر ہمیں اس طرح، ایک ساتھ، ایک کمرے میں رہنا ہے تو ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا پڑے گا، کوئی اور چارہ نہیں ہے، سو ٹرسٹ می۔”
نور نے بمشکل اقرار میں گردن ہلائی۔ وہ چند ثانیے اسے دیکھتا رہا، نور کو لگا وہ پھر کچھ کہے گا مگر وہ لیٹ گیا۔ نور کی بھٹکتی نظر ڈریسنگ ٹیبل پر پڑے کلچ پر پڑی۔ وہ ڈریسنگ ٹیبل تک آئی اور ہناپانی کے ہی ایک تکیہ نکال کرگل لی۔ ڈرتے ڈرتے وہ پلنگ کے بالکل کنار سے پر آ کر لیٹ گئی اور امان کی طرف پشت کر کے کمبل منہ تک تان لیا۔ دل زوروں سے دھڑک رہا تھا اور بدن کانپنے لگا تھا۔ وہ لمبی لمبی سانس لے کر خود کو قابو کرنے لگی۔
”ڈارک یا نائٹ بلب؟” امان کا سوال آیا۔
ویسے تو اسے اندھیرے میں سونے کی عادت تھی مگر اس خطرناک صورتحال میں اندھیرا۔۔۔ بالکل نہیں۔
”نائٹ بلب۔” نور کا جواب سن کر امان نے ہاتھ بڑھا کر لائٹس بند کی اور نائٹ بلب آن کیا۔ اس قدر انوکھی پہلی رات کے باوجود بھی چند منٹوں بعد وہ دونوں ہی ایک دوسرے کی طرف پشت کیے گہری نیند سو چکے تھے۔
Story From The Novel
Aman and Noor enter an arranged marriage under unusual circumstances. On their wedding night, Noor reveals that she suffers from severe panic attacks whenever anyone comes close to or touches her because of a painful past. Instead of reacting with anger or demanding his rights, Aman patiently listens to her fears and promises that he will never touch her without her permission, earning the first spark of her trust.
As they begin living together, Aman respects Noor’s boundaries and gives her the space and time she needs to heal. His kindness, patience, and understanding slowly replace Noor’s fear with a sense of safety. Although they share the same home, their relationship grows through friendship, mutual respect, and emotional support rather than romance.
The novel follows Noor’s journey of overcoming her trauma while Aman proves that true love is built on trust, compassion, and respect instead of force. Together, they face emotional struggles, family challenges, and the scars of the past, discovering that healing is possible when someone chooses patience over pressure and kindness over control.Download Novel below By Clicking Download Button