My Girl By Zanoor Writes – Novelian Online

Highlights From The Story

” خا۔۔۔۔۔۔ن۔۔۔” خوف سے لرزتی ہوئی وہ اس کے سینے پر اپنے سرد نازک ہاتھ رکھتی اٹھنے لگی تھی۔
” اگر ہلی تو بہت برا پیش آؤں گا۔۔۔ “کمر میں ہاتھ ڈالتا وہ اسے سینے سے لگاتا اس کے درمیان میں دیوار بنے ہاتھ ایک ہاتھ میں پکڑتا اوپر کر گیا تھا۔ سرخ سرمئی آنکھوں میں عجیب سی وحشت تھی اسے دیکھ کر وہ مجسم ہوئی تھی اور وہیں ضرار خان کی بے باک نگاہیں اس کا گہرائی سے معائنہ کرتی نیچے کا سفر کرنے لگیں تھیں ایک ہاتھ میں مضبوطی سے اس کے ہاتھ پکڑے ہوئے جسم پر حق جتایا گیا تھا مقابل کے لمس پر وہ بن آب مچھلی کی طرح تڑپی تھی۔
” ایک سال پہلے جو کام ادھورا چھوڑ کر گیا تھا وہ پورا کرنا ہے آج۔۔۔ ” سرخ آنکھوں میں خماری چھائی تھی لہجہ بھاری گھمبیر سر گوشی میں ڈھلا تھا زمل تو اس کے بدلتے تیور دیکھ کر ہی حواس بختہ ہوئی تھی۔
” بات کیوں نہیں کی تھی مجھ سے۔۔۔ کیوں چھپایا تھا خو د کو۔۔ جانتی ہونا تمہیں وہاں وہاں سے دیکھنے کو حق رکھتا ہوں جہاں سے تم خود خود کو دیکھنے سے شرم کرو۔۔۔ ” مقابل کا کل رات کا دہکتاروپ نگاہوں کے سامنے آیا تھا۔ ” چھوڑیں۔۔۔خان۔۔۔” ” کس نے سیکھایا ہے تمہیں خان کہنا جانتی ہو تمہاراخان کہنا نرم کر دیتا ہے مجھے ضرار بولو۔۔۔”زمل کے خان کہنے پر ایک سال سے پڑتے ضرار خان کو اپنی سال بھر کی بے قراری یاد آئی تھی۔
” جہانگیر سے محبت کرتی ہو۔۔ بولو۔۔۔۔” نو سال سے جو سوال اسے جینے نہیں دے رہا تھا اس کی نس نس میں زہر گھولے ہوئے تھا وہ بے ساختہ لبوں پر آیا تھا اور اب مقابل کے جواب کا سوچ کر وہ مزید تڑپ رہا تھا۔۔۔۔
” نہیں۔۔۔خان۔۔۔ “نم لہجے میں کہتی زمل نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔۔”مت کروز مل میر اضبط مت آزماؤ۔۔ “زمل کے جواب پر جلتے دل میں پھوار برسی تھی کہ تبھی اس کے اوپر ہونے پر وہ بے بس ہو اتھا اور سختی سے اسے کمر سے پکڑ تارخ بدل گیا۔۔۔۔
” جہانگیر سے نکاح نا ہونے کا ملال ہے تمہیں۔۔۔” زمل کی نم سبز آنکھوں میں سرمئی سرخ آنکھیں ڈالتا وہ گویا ہوا تھا۔ “نہیں۔۔۔ مجھے کوئی ملال نہیں ہے۔۔۔”
” جھوٹ بولتی ہو عورت کبھی بھی اپنے پہلے محبوب کو نہیں بھولتی۔۔۔”
زمل کا جواب جیسے اس سے ہضم نہیں ہوا تھا تبھی وہ دھاڑا تھا۔ ” میں۔۔ بہت۔۔ چھوٹی تھی۔۔خان۔۔ میں تو جانتی بھی نہیں تھی کہ میری نسبت جہا نگیر ۔۔۔ ” مقابل کے نیچے دبی زمل کی سانس رکی تھی لیکن وہ آج جیسے مقابل کے ہر سوال کا جواب دینے کو تیار تھی۔ “خاموش نام نہیں لینا اس کا زبان سے ورنہ گدی سے زبان کھینچ باہر نکالوں گا۔۔۔ ” ابھی نام اس کے لبوں سے نکلا بھی نا تھا کہ وہ طیش میں آیا تھا اور اس کی گلاب لبوں پر کا ٹتا ادور ہوا تھا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔
” مجھ سے گریز کیوں؟” اسے روتے دیکھ کر وہ نرمی سے گویا ہوا۔ “ڈر۔۔۔ لگتا۔ ہے۔۔ ” ہچکیاں بھرتی وہ بمشکل بولی۔ ” کیوں؟ اپنا ہی سوال اسے سینے میں چبھا تھا اس نے اسے سوائے ڈرنے کے کوئی اور جواز دیا ہی کب تھا کب اس سے محبت سے پیش آیا تھا کب اس سے محبت سے محبت کی تھی۔

Story Of The Novel

The novel revolves around Zarar Khan and Zamal, two people bound by a painful past, misunderstandings, and an unwanted marriage. Zarar has spent years believing that Zamal loved another man, Jahangir, and that she never accepted him. His unresolved jealousy, possessiveness, and emotional scars make him treat her harshly, while Zamal silently endures his anger, living in constant fear of the man who is now her husband.

As the story unfolds, Zarar finally confronts Zamal about the questions that have haunted him for nine years. To his surprise, Zamal admits she never loved Jahangir and was too young to even understand the engagement arranged for her. Her innocent answers begin to shatter the false beliefs that had poisoned Zarar’s heart. For the first time, he realises that the distance between them was created by misunderstandings, his own insecurities, and the fear he had instilled in her through his cold behaviour.

The novel is an emotional journey of love, regret, and healing. As hidden truths come to light, Zarar struggles to overcome his guilt and win Zamal’s trust, while Zamal slowly learns to see the softer side of the man she once feared. Filled with family conflicts, intense emotions, and heartfelt romance, the story explores whether two wounded hearts can leave the past behind and build a future based on trust, forgiveness, and true love.Click Below Download link To Download The Novel

DOWNLOAD

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *