
Highlights Of The Novel
“ہمارے خاندان کا ہر مرد دوسری شادی کرتا ہے تم کیوں رونا دھونا مچا رہی ہو۔” ” زاویار دوسری شادی کر رہا ہے تو یہ گناہ تھوڑی ہے۔” شاہ جہان بیگم یعنی اماں سائیں کی گرجدار اور حاکمانہ آواز حویلی کے وسیع ہال میں گونجی تو وہاں موجود ہر شخص کی سانسیں تھم گئیں۔ ان کے چہرے پر خاندانی غرور اور جاہ و جلال کی سرخی واضح تھی۔ ہالہ نے فرش پر بیٹھے بیٹھے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ جوڑے اس کی ہچکیاں بندھ چکی تھیں اور آنسوؤں نے اس کے معصوم چہرے کو بھگو رکھا تھا وہ لرزتی ہوئی آواز میں بولی “اماں سائیں خدا کے لیے ایسا مت کہیں۔ مجھ میں اتنا ظرف نہیں کہ میں اپنے شوہر کو کسی کی بھی جھولی میں خیرات کر دوں۔ میں زاویار کی بیوی ہوں ان کی محبت ہوں آپ کیسے ان کا رشتہ میری موجودگی میں کسی اور سے طے کر سکتی ہیں؟ کیا میرا کوئی وجود نہیں اس گھر میں؟”
اماں سائیں نے اسے حقارت سے دیکھا اور اپنے ہاتھ کی چھڑی فرش پر مارتے ہوئے بری طرح جھڑکا “ارے کرم جلی اپنی زبان کو لگام دو۔ بچے کے لیے شادی کر رہا ہے وہ کوئی عیاشی کے لیے نہیں کر رہا۔ ہمارے خاندانی نام اور اس حویلی کی بقا کے لیے یہ فیصلہ ضروری ہے۔ تو بیچ میں رکاوٹ نا ڈال جلدی سے نئی دلہن کے لیے کمرہ خالی کر اور دفع ہو یہاں سے۔” ہال کے ایک کونے میں کھڑی چچی زرینہ نے اپنے دوپٹے کا پلو درست کیا اور طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ آگے بڑھیں ان کی آنکھوں میں حسد اور زہر صاف جھلک رہا تھا وہ بولیں “اماں سائیں بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں ہالہ آخر کب تک یہ حویلی ایک وارث کو ترستی رہے؟ کب تک ہم لوگ اس خاندان کے چراغ کے لیے رات دن منتیں مانگتے رہیں تمہاری گود تو سوکھی پڑی ہے گیارہ مہینے ہو گئے ہیں اس شادی کو لیکن تمہاری طرف سے کوئی اچھی خبر نہیں آئی۔ اب کیا زاویار ساری عمر بے اولاد رہے؟” ہالہ نے تڑپ کر چچی زرینہ کی طرف دیکھا اس کا دل اس طعنے پر خون کے آنسو رو رہا تھا “چچی اماں آپ تو خود ایک عورت ہیں ایک ماں ہیں۔ آپ کیسے اتنی بے رحم بات کر سکتی ہیں؟ صرف گیارہ مہینے ہی تو ہوئے ہیں ہماری شادی کو کیا گیارہ مہینے کسی عورت کو بانجھ ثابت کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں؟ کیا خدا کا قانون یہی ہے کہ سال بھی نہ گزرے اور عورت کو گناہ گار بنا کر گھر سے نکال دیا جائے؟”
زرینہ نے منہ بنایا اور اماں سائیں کی طرف دیکھا “لو سنو اس کی زبان اماں سائیں دیکھ رہی ہیں آپ؟ اس کے تیور تو دیکھیں کیسے آگے سے کٹ کٹ جواب دے رہی ہے۔ ہمارے وقتوں میں تو اگر شادی کے پہلے دوسرے مہینے گود ہری نہ ہوتی تو عورتیں شرم سے پانی پانی ہو جاتی تھیں اور یہ یہاں کھڑی بڑوں کے سامنے بحث کر رہی ہے۔ بدتمیز نہ ہو تو” اماں سائیں نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تسبیح کو سختی سے دبوچا اور ہال میں ایک قدم آگے بڑھایا “زرینہ اس کے منہ مت لگو۔ اس کی اتنی مجال کہ یہ ہمارے خاندانی فیصلوں پر انگلی اٹھائے۔ ہالہ کان کھول کر سن لو اس حویلی پر میرا حکم چلتا ہے اور رہے گا۔ اگر میں نے کہہ دیا ہے کہ زاویار دوسری شادی کرے گا تو وہ کرے گا۔ شانزے اس گھر کی نئی مالکن بنے گی اور وہی اس خاندان کو وارث دے گی۔ تمہاری حیثیت اس حویلی میں اب ایک فالتو سامان سے زیادہ نہیں ہے۔” ہالہ نے گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے زویا کی طرف دیکھا جو ہال کے دوسرے کونے میں کھڑی سسکیاں لے رہی تھی اور خوف سے کانپ رہی تھی “زویا تم تو کچھ بولو۔ تم تو میری بہنوں جیسی ہو تم نے تو دیکھا ہے کہ میں نے اس گھر کو تمہارے بھائی کو کتنی محبت دی ہے۔ کیا میرا کوئی قصور ہے زویا۔۔ تم اپنی ماں کو سمجھاؤ خدا کے لیے انہیں روکیں میرا گھر اجڑنے سے بچا لو۔” زویا نے ڈرتے ڈرتے اپنی ماں کی طرف دیکھا اس کے ہونٹ کپکپائے “اماں سائیں… بھابھی سچ کہہ رہی ہیں… ابھی تو صرف گیارہ ماہ ہی ہوئے ہیں… بھائی کو آنے دیں ان سے بات…”
“خاموش زویا” اماں سائیں نے اس زور سے ڈانٹا کہ زویا نے خوف زدہ ہو کر فوری طور پر اپنی نظریں جھکا لیں اور دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔ “اگر تم نے اس منحوس عورت کے حق میں ایک لفظ بھی بولا تو یاد رکھنا مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔ اپنی اوقات میں رہو اور جاؤ اپنے کمرے میں” زویا نے روتے ہوئے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا مگر اپنی ماں کے جلال کے سامنے وہ بالکل بے بس اور لاچار تھی۔ ہالہ فرش پر سر رکھ کر رو پڑی۔ “جا اور اپنا سارا سامان سمیٹ لے ہم نہیں چاہتے کہ تمہاری کسی بھی چیز کا منحوس سایہ اس حویلی پر رہے” چچی زرینہ نے پیچھے سے ایک اور زہریلا جملہ کاسا۔ ہالہ نے کوئی جواب نہیں دیا وہ اپنے آنسو پونچھتی ہوئی اوپر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ یہ وہی کمرہ تھا جہاں گیارہ ماہ پہلے وہ لال جوڑا پہن کر زاویار کی دلہن بن کر آئی تھی۔ اس کمرے کی ہر چیز میں زاویار کی خوشبو تھی ان کی محبت کی یادیں تھیں۔ دیوار پر لگی ان کی شادی کی تصویر ہالہ کو منہ چڑا رہی تھی۔ اس نے الماری کھولی اور ایک پرانا سوٹ کیس نکال کر بیڈ پر رکھا۔ وہ روتی جا رہی تھی اور اپنے کپڑے اس بیگ میں ٹھونستی جا رہی تھی۔ وہ بیڈ پر بیٹھ کر خود سے کلام کرنے لگے “صرف گیارہ مہینوں میں میری پاکیزہ محبت کا یہ صلہ ملا؟ زاویار… تم کہاں ہو؟ تم نے تو کہا تھا کہ تم دنیا کے سامنے میرے لیے کھڑے ہو گے پھر آج تم نے مجھے اپنی ماں کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑ دیا؟ کیا تمہاری محبت اتنی کمزور تھی کہ ایک طعنے کی نذر ہو گئی؟”
Story Of The Novel
Hala’s happy married life is shattered when the powerful matriarch of the family, Amman Sain, announces that her husband, Zaviar, will marry a second wife because Hala has not conceived a child after eleven months of marriage. Despite Hala’s heartfelt pleas that she deeply loves her husband and deserves more time, her emotions are ignored. The family insists that producing an heir is more important than her feelings, humiliating and blaming her for childlessness. Even though Zoya, Zaviar’s sister, tries to defend Hala, she is silenced by her mother’s authority. Heartbroken and abandoned, Hala is ordered to vacate her room for the new bride. As she packs her belongings, surrounded by memories of her love for Zaviar, she wonders why the man who promised to protect her is nowhere to be found.The novel explores themes of love, betrayal, family honor, and the painful injustice faced by women under rigid traditions. Download the Novel By Clicking Download Button