
“کمرے سے باہر قدم بھی مت نکالنا۔ نیچے میرے بہت بڑے بزنس مین، پڑھے لکھے دوست بیٹھے ہیں، اب وہاں اپنی جہالت ظاہر کرنے مت پہنچ جانا۔” سکندر خان ہینڈسم سا تیار ہوتا، ایک نگاہ اپنی کمسن، سادہ سی بیوی پر ڈالتا، باہر چلا گیا۔ بی جان کی ضد پر وہ اپنے آبائی گاؤں سے زبردستی اس لڑکی سے شادی کر کے شہر لایا تھا۔ اس کے جاتے ہی ماہ گل غصے میں بلیک ساڑھی پہنے، اپنا قیامت خیز حسن لیے نیچے آتی، سب کو اپنی طرف مائل کر گئی۔ لمحے کو سکندر خان مبہوت ہوا، لیکن اگلے لمحے دوستوں کے کمنٹس پر آگ بگولا ہوتا وہ غصے سے اس کے قریب آ گیا۔ “دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا؟” وہ غرایا۔ “خان کی حسین بیوی کو چھپا کر نہیں رکھتے، چلیے انٹرو کروائیے میرا۔” اس کی مسکراہٹ نے سکندر کا دماغ گھما دیا۔ ایک اور جھٹکا ان سب سے انگلش میں بات کرتے اسے لگا۔ “رات کو تمہارے حسن کا انعام دوں گا، بیوی! تمہیں بہت شوق تھا نا سکندر خان کی بیوی کے طور پر متعارف ہونے کا، تو اب رات کو تیار رہنا۔” وہ اس کے کان کے قریب غرایا تھا، جس پر ماہ گل نہ گھبرائی تھی اور نہ ہی سٹپٹائی تھی، بلکہ بڑے اعتماد سے اس نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے دیکھا تھا، پھر وہ ہلکا سا مسکرائی تھی۔ “رات کس نے دیکھی ہے، خان جی؟ ابھی دیکھیں، کتنا اچھا ماحول ہے، انجوائے کریں۔” وہ اس کو ایک تپاتی مسکراہٹ سے نوازتی آگے بڑھ گئی تھی اور اس کے دوستوں کی بیویوں میں جا کر بیٹھ گئی تھی۔ دراصل، سکندر خان نے اپنے دوستوں اور کولیگز کو گھر میں دعوت دی تھی۔ اس دعوت کی وجہ اس کی ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔ اس نے اپنی زندگی کا ڈریم پروجیکٹ سائن کیا تھا اور وہ اس بات پر بہت خوش تھا۔ اسی خوشی میں اس نے اپنے دوستوں کو انوائیٹ کیا تھا۔ میشا، سارا اور مومنہ، یہ تینوں ہی پڑھی لکھی اور سلجھی ہوئی لڑکیاں تھیں، اور یہ تینوں سکندر خان کے دوستوں کی بیویاں تھیں۔ ان سے ماہ گل کی اچھی خاصی دوستی ہو گئی تھی اور کافی دیر سے وہ ان تینوں کے ساتھ ہی بیٹھی ہوئی تھی، جب تھوڑی دیر بعد ایک بڑے ہی جدید تراش خراش والا لباس پہنے ایک لڑکی آئی تھی۔ اس نے ماہ گل کو بڑے نخوت سے دیکھا تھا۔ “تو یہ ہے سکندر خان کی پینڈو بیوی؟” وہ ان چاروں کے درمیان آ کر سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئی تھی۔ ان تینوں نے سٹپٹا کر ماہ گل کی طرف دیکھا تھا۔ “ماریہ، یہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو؟” میشا نے اسے ٹوکا تھا۔ “کیوں، کیسی باتیں کر رہی ہوں؟ کیا یہ پینڈو نہیں ہے؟” اور اس سے پہلے کہ ان تینوں میں سے کوئی بولتا، ماہ گل مسکراتے ہوئے ان سے پہلے بول گئی تھی۔ “جی، میں بالکل پنڈو ہوں۔ میں گاؤں کی رہنے والی ہوں، اور مجھے لگتا ہے آپ کی معلومات میں تھوڑی کمی ہے۔ یہ اے آئی کا دور ہے، اب گاؤں اور شہر کے ماحول میں زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ ہاں، بس اتنا ہی فرق رہ گیا ہے، ہم گاؤں والے آج بھی مکمل لباس پہنتے ہیں اور شہر کے لوگ آدھا ادھورا۔” اس نے اس کے بیہودہ لباس پر چوٹ کی تھی، اور اس کے پاس بیٹھی میشا، مومنہ اور سارا کے چہروں پر دبی دبی سی مسکراہٹ رینگ گئی تھی، جس پر ماریہ کو تو آگ ہی لگ گئی تھی، اور وہ اسے گھورتی ہوئی وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی۔ “یہ بالکل پاگل ہے، تم اس کی باتوں میں دھیان مت دینا۔” “ہاں ہاں، وہ تو میں سمجھ رہی ہوں۔” وہ بظاہر ناک سے مکھی اڑاتی بولی تھی، جبکہ اس کی نظروں نے ماریہ کا دور تک تعاقب کیا تھا۔ وہ ماریہ کی حرکات دیکھ کر ہی سمجھ گئی تھی کہ وہ کیسی لڑکی ہے۔ سکندر خان کے ساتھ وہ کچھ زیادہ ہی چپک رہی تھی، جبکہ سکندر خان اسے بالکل بھی منہ نہیں لگا رہا تھا۔ وہ سکندر خان کے بزنس پارٹنر کی بیٹی تھی، جس وجہ سے اسے ماریہ کو برداشت کرنا پڑتا تھا، ورنہ ایسی لڑکیوں کو وہ اپنے اسٹاف میں بھی نہیں رکھتا تھا۔ آج اس نے ماریہ کے باپ کو انوائیٹ کیا تھا، مگر باپ کی جگہ ماریہ آ گئی تھی۔ تھوڑی دیر بعد بی جان آئی تھی۔ وہ وہاں ماہ گل کو بیٹھے دیکھ کر حیران ہوئی تھی، مگر پھر وہ اپنی حیرت پر قابو پاتے ان سب مہمانوں سے اچھی طرح ملی تھی۔ وہاں پر موجود سب مردوں نے آ کر بی جان کو ادب سے سلام کیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد بی جان وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی، جبکہ ملازمہ کے ہاتھ انہوں نے ماہ گل کو بلایا تھا، اور وہ ملازمہ کے ساتھ ہی اندر چلی گئی تھی۔ پارٹی اپنے اختتام کو پہنچی تھی۔ سب لوگ گھروں کو لوٹ گئے تھے، جبکہ بی جان ماہ گل کو اپنے کمرے میں بٹھا کر خوب کلاس لے رہی تھی۔ “تمہیں کس نے کہا تھا کہ یوں مردوں میں منہ اٹھا کر چلی جاؤ؟ کیا یہ تربیت کی ہے ہم نے تمہاری؟” “بی جان، آپ کو نہیں پتا، مجھے خان جی نے اتنا ڈانٹا، اتنا برا بھلا کہا۔ وہ مجھے پینڈو اور جاہل کہہ رہے تھے۔ ان کی نظر میں وہ نیچے بیٹھی ہوئی عورتیں مجھ سے زیادہ پڑھی لکھی اور سمجھدار تھیں، تو پھر میں نے بھی وہی کیا جو انہوں نے کہا۔ اس میں کیا مسئلہ ہے؟” اور بی جان کو غصہ آ گیا تھا۔ “ماہ گل، تمہاری بہت زبان چلتی ہے۔” “بی جان، آپ مجھے سمجھانے کی بجائے اپنے بیٹے کو سمجھائیں، اور آج کے بعد اگر اس نے مجھے جاہل کہا نا، تو میں آپ کا بھی لحاظ نہیں کروں گی۔ آپ کی وجہ سے پہلے ہی میں نے اس کی بہت باتیں سن لی ہیں، اور مجھے ایک بات بتائیں، آپ نے کیوں میرا اس کے ساتھ زبردستی نکاح کیا؟ لے دیتیں آپ اسے اس ماریہ جیسی کوئی ماڈ اسکواڈ لڑکی، جو اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتی۔” وہ ایک ایک لفظ چباتے ہوئے بول رہی تھی۔ تب ہی سکندر خان کمرے میں آیا تھا۔۔۔۔
STORY OF THE NOVEL
Sikandar Khan, a successful businessman, looks down on his young village-born wife, Mah Gul, believing she is uneducated and will embarrass him in front of his wealthy, sophisticated friends. Before leaving for his celebration party, he orders her to stay in her room. However, hurt by his insults, Mah Gul dresses elegantly in a stunning black saree and confidently joins the guests. Her beauty immediately captures everyone’s attention, leaving Sikandar speechless. To his surprise, she speaks fluent English and carries herself with grace, proving she is far more intelligent and refined than he had assumed.
During the party, Mah Gul befriends the wives of Sikandar’s colleagues. When Maria, the daughter of Sikandar’s business partner, mocks her for being a “village girl,” Mah Gul calmly responds with a clever remark. She proudly admits she comes from a village but points out that in the modern AI era, education and knowledge are no longer limited by where someone lives. She then humorously adds that village women still wear complete, respectable clothing, while many city women prefer revealing outfits. Her witty response embarrasses Maria and earns the admiration and quiet smiles of the other women. Mah Gul also notices Maria’s obvious interest in Sikandar, but she observes that he keeps his distance despite being forced to tolerate her because of business ties.
After the guests leave, Biji scolds Mah Gul for appearing before the male guests without permission. Mah Gul finally expresses her frustration, revealing that Sikandar constantly humiliates her by calling her ignorant and backward. She argues that she only acted according to the standards he himself admired and questions why she was forced into this marriage if he wanted a modern, fashionable wife like Maria. Her bold words leave Biji speechless, and at that very moment, Sikandar enters the room, setting the stage for a tense confrontation that could change the course of their troubled relationship. Click Below Download Button To Download The Novel