
” میں کسی کا جھوٹا پانی نا پیوں اور آپ مجھے میرے بھائی کی چھوڑی لڑکی سے نکاح کا کرنے کو کہہ رہی ہیں اماں جان؟۔۔۔۔” شہیر غصے سے دھاڑا مگر اماں جان بولیں ” بیٹا صرف نکاح ہو ا تھا دونوں کا تمہارا بھائی اسے طلاق دے کر لندن شادی کر چکا ہے ہمیں ہانیہ کی عزت رکھنا ہوگی۔” اپنی ماں کے جڑے ہاتھ دیکھ کر وہ مجبوراً نکاح کر بیٹھا کمرے میں آیا تو روتی ہوئی ہانیہ کو دیکھ کر بولا ” کس لئے رو رہی ہو کونسا پہلی بار ٹانگیں پھیلانی ہیں تم نے؟ میرے بھائی کے ساتھ تم جو کچھ کر چکی ہو میں سب جانتا ہوں۔ تمہاری زندگی جہنم بناتا اب میرا کام ہے یہ کہہ کر شہیر نے ہانیہ کا بلاؤز ایک جھٹکے سے الگ کیا مگر اسکی دھڑکنوں کے درمیان۔
” کس لئے یہ مگر مچھ کے آنسو بہا رہی ہو تم؟ پوری کی
پوری نوٹنکی ہو چالباز عورت۔۔۔ شرافت کا یہ ڈرامہ اس کے سامنے جا کر رچانا جس کو تمہاری حقیقت کے بارے میں معلوم نہیں ہے۔۔۔” وہ زہر خند لہجے میں کہتا ہوا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا اور اپنی واچ اتارنے لگا ۔۔۔ اس کے گھونگھٹ پر نظر ڈالتے ہوئے وہ پھیکے سے انداز میں مسکرا دیا۔۔۔۔
” یہ ایکٹنگ میرے سامنے کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں جانتا ہوں کہ تم ایک چالو عورت ہو۔ اور یہ گھونگٹ کس لیے گرا رکھا ہے؟؟؟ ہاں کون سا یہ تمہاری پہلی سہاگ رات ہے یا پہلی بار کسی کے لیے تیار ہو کر بیٹھی ہو پتہ نہیں اس سے پہلے کتنے ہی تمہارے عاشق آئے ہوں گے انہوں نے تمہارے گھونگھٹ اٹھایا ہوگا اور اب یوں بیٹھی ہو جیسے پہلی بار ہی میرے بستر پر آئی ہو۔۔۔۔” جس قدر غلاظت سے بھرے الفاظ وہ استعمال کر سکتا تھا کر رہا تھا کیونکہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ اس وقت اس لڑکی پر اسے کس قدر غصہ اور حقارت امڈ کرا رہی ہے۔۔۔
” پہلے ہی اس سب کے مزے لے چکی ہو۔ تمہارے لیے تو یہ رات صرف اور صرف ایک فارمیلٹی ہے۔” ہانیہ کا وجود ہولے ہولے لرزنے لگا تھا اس کو جان اپنے وجود سے نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ” یہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ آپ میرے کردار پر اس طرح کے الفاظ کسیں شرم نہیں آتی آپ کو میں جانتی ہوں کہ ہماری شادی جن حالات میں ہوئی ہے مگر اس کے باوجود آپ مجھ سے ایسے بات نہیں کر سکتے ہیں میں آپ کی بیوی ہوں۔۔۔” اس نے ٹوٹے پھوٹے لہجے میں اپنی بات مکمل کرنے کی کوشش کی۔۔۔
اگلے ہی لمحے وہ اس کی طرف بڑھا اور اس کو بازو پکڑتے پھنکارتے ہوئے بولا ” یہ نکاح صرف اور صرف میں نے مما اور ڈیڈ کی وجہ سے کیا ہے ۔ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں تم جیسی لڑکی پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرتا بھائی جان اپنا جو گند میرے حصے میں ڈال کر گئے ہیں اس کو میں بہت جلد صاف کر دوں گا جہاں تک تمہیں اپنی بیوی ماننے کا سوال ہے تو یہ خیال تو اپنے اس چھوٹے سے دماغ سے نکال دو میں نہ تو کبھی تمہیں اپنی بیوی تسلیم کروں گا اور نہ ہی تمہیں کبھی اپنی بیوی کا درجہ دوں گا۔۔۔۔
میرا معیار اتنا گرا پڑا نہیں ہے کہ تم جیسی لڑکی کو بیوی مانوں جی بھر کر ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہونے کے بعد چلی میری بیوی بننے ارے مجھے سے پوچھو کہ میری نظروں میں کیا اوقات رہ گئی ہے تمہاری؟؟؟ تم میری زندگی میں صرف اور صرف میرا دل بہلانے کے لیے رہو گی جب بھی مجھے تمہاری ضرورت پڑے گی میں تمہیں استعمال کر لوں گا اور تم اسی وقت ہی میرے سامنے آیا کرو گی جب میں تمہیں اجازت دیا کروں گا اگر بغیر اجازت کے میرے سامنے آنے کی کوشش کی تو زندہ زمین کے اندر دفن کر دوں گا۔۔۔۔” یہ کہہ کر اس نے زور سے اسے بیڈ پر دھکا دیا تھا ہانیہ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے تھے۔۔۔۔
اس کی سہیلیوں نے تو اس کو کہا تھا کہ تم جس قدر حسین اور پاک دامن ہوتمہارا شوہر تو اپنی قسمت پر رشک کرے گا ۔۔۔ پہلے شہباز اور اب ارمغان وہ دونوں بھائی ایک جیسے تھے وہ جو ارمغان کو اس سے مختلف سمجھتی تھی آج اس کی غلط فہمی دور ہو گئی تھی۔۔
” کیا ساری رات اسی طرح سے یہیں پر بیٹھنے کا ارادہ ہے؟؟ جاؤ جلدی سے چینج کر کے آؤ۔۔۔” اس نے زہر خند لہجے میں کہا اور خود کال سننے کے لیے کمرے سے باہر نکل گیا جب تک وہ فریش ہو کر آئی تب تک وہ کال سے بھی فری ہو گیا تھا اور بیڈ پر نیم دراز تھا وہ کمرے کے بیچچ وبیچ جا کر کھڑی ہو گئی تھی اور اپنی انگلیاں چٹخانے لگی تھی اس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے؟؟؟ ” اب کیا مجھے تمہارے لیے انویٹیشن کارڈ بھیجنا پڑے گا؟؟؟” ارمغان کی آنکھیں ابھی تک بند تھیں اور اس کا پاؤں زور زور سے ہل رہا تھا یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا ہو۔۔۔۔
Story Of The Novel
After his older brother divorced Hania and moved to London to marry someone else, Shaheer’s mother begged him to marry Hania so that her honor and reputation would be protected. Although Shaheer was furious and believed he was being forced into the marriage, he reluctantly agreed out of respect for his parents. However, he entered the wedding night full of hatred and resentment, convinced that Hania had already been his brother’s wife in every sense.
Once they were alone, Shaheer cruelly insulted Hania, accusing her of having a bad character and mocking her as though she had no dignity. He told her that he would never accept her as his wife and claimed she meant nothing more than a burden left behind by his brother. Heartbroken, Hania defended herself, insisting that she had done nothing wrong and that he had no right to question her character. Despite her tears and pleas, Shaheer continued to humiliate and threaten her, making it clear that he intended to make her life miserable.
Hania was devastated by his words. She had once believed that Shaheer would be different from his brother, but she realized that both men treated her with the same cruelty and disrespect. After ordering her to change her clothes, Shaheer left the room to take a phone call. When Hania returned, she stood silently in the middle of the room, unsure of what to do. Without even opening his eyes, Shaheer sarcastically asked if he needed to send her an invitation before she came near him, leaving her feeling even more frightened and helpless. Click Below Download Button To Download The Novel