Lams Dilbaram By Sadia Khattak

” رومیصہ شاہد ولد شاہد آپ کا نکاح۔۔۔۔۔” رکیں!!! مولوی کے رواں الفاظ کو کسی کی بھاری آواز نے روکا۔ ” اتنی بھی کیا جلدی ہے؟ پہلے میری بات بھی تو سن لیں۔” سب لوگوں نے حیرت سے اس نوجوان کو دیکھا جو بولتا ہوا اسٹیج پر آیا تھا جب کہ رومیصہ تو اسے یہاں دیکھ حیرت کی مورتی بنی ہوئی تھی۔ اس کا یہاں کیا کام تھا؟؟ مگر وہ جس انداز سے مسکرا رہا تھا اسے کچھ غلط ہونے کا احساس فوراً ہوا اور دل ڈر کے سبب زور سے دھڑکنا شروع ہو گیا۔ “کون ہو تم لڑکے؟۔۔۔۔” وہ کوئی امیر رئیس زادہ لگ رہا تھا جب کہ ساتھ موجود چار گارڈ اس بات کو واضح کر رہے تھے کہ وہ کافی امیر شخص تھا۔۔۔” میں؟؟؟ میں وہ شخص ہوں جس سے آپ کی بیٹی پہلے ہی نکاح کر چکی ہے۔۔۔۔۔۔” ایک بم پھوٹا تھا اور سب ریزہ ریزہ ہوگیا۔۔۔۔۔

آج آخر وہ دن آہی گیا جس دن رومیصہ کی بارات تھی۔ اس کی اور امی کی لاکھ کوششوں کے باوجود بابا اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے تھے اور اپنی بات منوانے کی خاطر بابا نے رومیصہ کو دھمکی بھی دے دی تھی کہ اگر اس نے شادی سے انکار کیا تو وہ آمنہ بیگم کو طلاق دے دیں گے۔ ان کی بات پر آمنہ بیگم سکتے میں ہی چلی گئی تھیں اور رومیصہ نے بے بسی سے بابا کو دیکھا تھا اور اپنی ماں کو دیکھ کر وہ شادی کے لیے مان گئی تھی۔ اس کے بابا نے اپنے دوست کے کہنے پر اسی کے طلاق یافتہ بیٹے سے بیاہنے کا فیصلہ کیا تھا جو کہ اس کے باپ کی عمر کا تھا۔ اس نے اس بات کا کافی زیادہ احتجاج کیا مگر اس کا باپ جیسے ضد پر آچکا تھا۔۔۔

وہ بچپن سے ہی اپنے باپ کی بےاعتنائی کا شکار تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے باپ کو لڑکا چاہیے تھا مگر وہ پیدا ہوگئی۔ پھر اس کے بعد آمنہ بیگم کبھی ماں نہ بن سگیں اور دھیرے دھیرے یہ بے اعتنائی بیزاری میں بدلنے لگی۔ وہ کمرے میں دلہن کے لباس میں تیار، غم کی مورت بنخ بیٹھی تھی۔ دلہن بن کر اس پر بہت روپ آیا تھا۔ وہ جو سادگی میں ہی غضب ڈھاتی تھی، تیار ہو کر کسی سلطنت کی شہزادی لگ رہی تھی۔ مگر اس شہزادی کی قسمت ان شہزادیوں سے بہت مختلف تھی۔ اپنی قسمت پر آنسو بہاتی وہ اپنے اللہ سے شکوہ کناں تھی۔

تبھی اچانک امی کمرے میں داخل ہوئیں۔ “رومیصہ! ” وہ اسے پکار تیں، بہت جلدی میں لگ رہی تھیں۔ اس نے امی کی طرف اپنی آنسوؤں سے لبریز آنکھوں سے دیکھا اور اچانک ان کے گلے لگ کر ہچکیوں سے روئیں، ان کو بھی رلا دیا تھا۔ امی نے اسے خود سے پیار سے دور کرتے اس کے آنسو صاف کیے اور اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرا۔ ” میری جان، میری بات دھیان سے سنو، تم ابھی یہاں سے بھاگ جاؤ! ابھی۔۔۔۔” آمنہ بیگم بات پوری کرتیں کہ باہر سے بارات کے آنے کا شور اٹھا تھا۔

آواز پر دونوں ماں بیٹی نے دل پر ہاتھ رکھا۔ اتنی جلدی بارات آگئی، ” ابھی تو وقت تھا نہ بارات آنے میں!۔۔ ” امی نے خوفزدہ ہوتے ہوئے کہا۔ نا جانے کیوں رومیصہ کا دل ناخوش انداز میں دھڑکا تھا۔ ” رومیصہ، میری بات سنو، تم جلدی سے بھاگ جاؤ!۔۔۔۔” ” یہاں کیا کر رہی ہو تم؟ بارات آگئی ہے، باہر آؤ جلدی!۔۔۔” اس سے پہلے امی اپنی بات پھر سے مکمل کرتیں شاہد نے کمرے میں داخل ہوتے کہا۔ امی نے اداس اور نم آنکھوں سے رومیصہ کو دیکھا اور شاہد کے پیچھے ہی کمرے سے باہر نکل گئیں۔ اب تو ان کی آخری امید بھی ٹوٹ گئی تھی اپنی بیٹی کو بچانے کی۔

اب تو شاید ان کی بیٹی کی قسمت میں ہی یہ شادی لکھی تھی مگر وہ نہیں جانتی تھیں کہ کچھ ہی پل کے بعد ان کی بیٹی کی زندگی میں کوئی ایسا شخص آنے والا ہے جو کہ اسے بے انتہا چاہے گا۔ انہوں نے تقدیر پر اپنی بیٹی کا فیصلہ چھوڑ دیا تھا اور اللہ نے ان کی بیٹی کے لیے کچھ اچھا ہی سوچ رکھا تھا۔ پھر اس سے پہلے کہ نکاح ہوتا، ایک شخص نے آکر پکارتے ہوئے اس نکاح کو روکنے کو کہا۔ وہ سب حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے۔گاڑی بڑی سی عمارت کے سامنے رکی تھی۔ ڈرائیور نے جلدی سے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا تھا اور وہ مغرور شہزادہ بڑی آن سے باہر نکلا تھا۔ بلیک تھری پیس پہنے بڑا ہینڈ سم لگ رہا تھا۔ آفس میں داخل ہوتے ہی تمام ورکرز نے اسے سلام کیا تھا جبکہ وہ محض سر کے اشارے سے سلام کا جواب دیتا آگے بڑھ گیا تھا۔

اسکے جاتے ہی تمام ورکرز کا رکا سانس بحال ہوا تھا۔ بے شک وہ مغرور ہونے کے ساتھ غصے کا بھی تیز تھا جو ذرا سی غلطی پر نوکری سے نکال دینے سے پرہیز نہیں کرتا تھا۔ وہ بہت کم عرصہ میں ملک کے مشہور بزنس مین میں سے ہو چکا تھا۔ بے شک خدا نے اسے ہر چیز سے نوازا تھا سوائے ایک کے اور وہ چیز تھی دل۔ ہاں اس حسین شہزادے کے پاس دل نہیں تھا۔ اس کے نزدیک کسی کے بھی جذبات کی کوئی قدر نہ تھی، وہ سب کو جوتے کی نوک پر رکھتا تھا۔ بہت سی لڑکیاں اس کی ایک نظر کی منتظر تھیں پر اس نے آج تک کسی لڑکی میں دلچسپی نہ لی تھی۔ ہاں اس کی اٹھائیس سالہ زندگی میں کسی لڑکی کا کوئی قصہ نہ تھا۔ وہ اکیلا برسوں سے زندگی یوں ہی جی رہا تھا نہ کوئی قصہ تھا۔

ارحم خانزادہ کے والدین جب وہ لندن میں اپنی پڑھائی کے لیے گیا تھا، کار ایکسیڈنٹ میں اپنی زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔ گاڑی کے اچانک بریک فیل ہو جانے کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا تھا جب کہ گاڑی پہاڑی سے گر گئی تھی۔ وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر واپس آیا، یہاں آکر اس نے اپنے بابا کا بزنس سنبھالنا شروع کیا اور جلد ہی اس بزنس کو اس نے آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔ اس کی ان بانشان کی وجہ سے کئی لوگ اس کی طرف مائل ہوتے تھے مگر وہ کسی لڑکی کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتا تھا۔ مگر قدرت نے بھی اس کی زندگی میں کسی کو شامل کرنے کا انتظام کر لیا تھا تاکہ اس کی تنہائی کا کوئی ساتھی ہو سکے۔ اور اسے پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ کچھ دن کے بعد ایک ایسی لڑکی سے ملنے والا ہے جسے وہ خود اپنی زندگی میں شامل کرے گا۔

رومیصہ جو آمنہ بیگم کے ساتھ شاپنگ کرنے مال میں آئی تھی، بھوک کا احساس ہونے پر ان سے اجازت لیتی مال میں ہی بنے فوڈ ایریا کی طرف آئی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ اندر داخل ہوتی،اندر سے آتے انسان سے بڑی طرح ٹکرائی تھی۔ دونوں اپنے دھیان میں ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کو دیکھ نہ سکے تھے۔ ارحم خانزادہ جو یہاں ایک میٹنگ کے سلسلے میں آیا تھا اب واپس جا رہا تھا، فون پر میسج ٹائپ کرتے اپنے سیکریٹری کو ہدایات دے رہا تھا جبکہ زاہد اس کے پیچھے چل رہا تھا کہ اچانک فوڈ کورنر سے باہر نکلتے کسی نازک وجود سے ٹکرایا تھا جس کے بدلے اس کا فون زمین کو سلامی دے گیا تھا۔

” واٹ دا ہیل از دس۔۔۔” اس نے غصے سے سامنے والے پر چیختے کہا تھا جبکہ سامنے والا ابھی تک یہی سمجھنے کی کوشش میں تھا کہ وہ کسی انسان سے ٹکرائی ہے یا کسی چٹان سے۔۔۔” سو سوری سر، میں نے دھیان نہیں دیا۔۔۔” رومیصہ اپنی غلطی نہ ہونے کے باوجود معافی مانگ کر آگے جانے لگی۔ اس سے پہلے کہ وہ آگے بڑھتی، ارحم خانزادہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا تھا۔ ” کہاں؟ میرا فون کون اٹھائے گا؟۔۔۔” ارحم خانزادہ نے اس کو روک کر کہا تھا جبکہ اس کے ہاتھ پکڑنے پر رومیصہ کے جسم میں کرنٹ دور گیا تھا۔ اسے کبھی کسی نامحرم نے نہ چھوا تھا تو بس ایک دم سے رومیصہ کا ہاتھ اٹھا تھا اور ارحم خانزادہ کے منہ پر اپنا نشان چھوڑ گیا تھا۔ اور ادھر ارحم خانزادہ کی رومیصہ کے ہاتھ پر گرفت چھوٹی تھی اور آنکھیں غصے سے لال ہوگئی تھیں۔ اس اچانک اٹھنے والے ہاتھ سے رومیصہ کا خود ہاتھ منہ پر گیا تھا۔ اس کا مقصد ایسا بالکل نہ تھا، اس نے تو آج تک کسی مکھی کو بھی نہیں مارا تھا کہاں کسی انسان کو تھپڑ مارنا۔

ارحم خانزادہ کی غصے سے ہوتی لال آنکھیں دیکھ رومیصہ ڈر کر دو قدم پیچھے لیتی واپس بھاگ گئی تھی جبکہ ارحم خانزادہ نے ارد گرد دیکھا تھا۔ وہاں موجود سب لوگوں کی نظریں ارحم خانزادہ پر ہی تھیں۔ ” زاہد۔۔” ارحم خانزادہ اچانک دہاڑا تھا۔ ” جی سائیں!۔۔۔” زاہد خود اس سچویشن میں پریشان کھڑا تھا، ارحم خانزادہ کی آواز پر جلدی سے بولا تھا۔ ” مجھے اس لڑکی کی ساری ڈیٹیل تین دن کے اندر چاہیے، سنا تم نے؟۔۔۔” وہ پھر غصے سے دھاڑا تھا۔ “جو حکم سائیں!۔۔۔۔” زاہد سر کو خم دیتے فوراً بولا جب کہ خانزادہ کی نظریں ابھی بھی اسی راستے پر تھیں۔” تم پچھتاؤ گی، تم وہ پہلی ہستی ہو جس نے ارحم خانزادہ پر ہاتھ اٹھایا ہے اور تم اس کی قیمت چکائوگی۔۔۔۔۔”وہ اس سے تصور میں مخاطب ہوا تھا۔۔۔۔

Rumaisa Shahid’s wedding day arrived despite her desperate pleas for freedom. Her father, Shahid, refused to cancel the marriage and even threatened to divorce her mother, Amina Begum, if she disobeyed him. To protect her mother, Rumaisa reluctantly agreed to marry a divorced man nearly her father’s age, chosen by her father without her consent. Dressed as a beautiful bride, she sat in her room mourning the life she was about to lose while Amina begged her to run away before it was too late. But before they could act, the wedding procession arrived. Just as the imam began performing the nikah, a confident young man walked into the ceremony and stopped it. Introducing himself before the stunned guests, he calmly declared, “I am the man your daughter is already married to,” leaving everyone speechless.

The mysterious man was Arham Khanzada, a twenty-eight-year-old billionaire businessman known for his extraordinary success, commanding personality, and ruthless temperament. After losing both his parents in a tragic car accident while studying in London, Arham returned home to take over his late father’s business, transforming it into one of the country’s largest business empires. Handsome, wealthy, and feared by everyone around him, he had never shown interest in any woman and was often described as a man without emotions. Beneath his cold exterior, however, fate was quietly preparing someone who would eventually change his lonely life forever.

That meeting happened unexpectedly at a shopping mall a few days earlier. Rumaisa had gone to the food court while shopping with her mother when she accidentally collided with Arham, causing his expensive phone to fall to the floor. Although she apologized politely, Arham stopped her by grabbing her wrist and demanded she pick up his phone. Shocked that a stranger had touched her, Rumaisa instinctively slapped him across the face. The entire food court fell silent as Arham, humiliated for the first time in his life, watched her run away in fear. Burning with anger, he ordered his assistant, Zahid, to uncover every detail about the mysterious girl within three days, vowing that she would regret ever raising her hand against Arham Khanzada.

CLICK BELOW DOWNLOAD TO DOWNLOAD COMPLETE NOVEL

DOWNLOAD

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *