
Scene From The Novel
” رخصتی آج ہی ہوگی ورنہ میں ابھی اور اسی وقت شزا کو طلاق دے کر چلا جاؤں گا۔” ” بیٹا وہ تم سے بہت چھوٹی ہے رخصتی دو سال بعد کرنا ٹھیک رہے گا۔” مگر ارتضی ضد پر اڑ گیا۔ ” کیوں؟ جب نکاح ہو سکتا ہے تو رخصتی بھی ہو سکتی ہے۔” اسکی بھری ہوئی دھڑکنوں کو دیکھ کر ارتضی بے قابو ہو چکا تھا۔ وہ معصوم سی شزا کی خصتی کروا کر کے آیا جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا تو دلہن بنی شزا کتابیں کھول کر بیٹھی تھی۔ کل اسکا پیپر تھا۔ ارتضی دھاڑ کر کہنے لگا ” میرا حق ادا کرو لڑکی بہت شوق تھا میری بیوی بننے کا۔” ارتضی کا بھاری وجود دیکھ کر کہنے لگی ” پپ پلیز مم….. میں آپ ب کو کیسے برداشت کروں گی؟…….”” یہ کیا کہہ رہے ہو تم بیٹا ہوش میں تو ہو؟؟ ابھی اور اسی وقت ہم لڑکی والوں پر دباؤ کیسے ڈال سکتے ہیں کل بچی کا پیپر ہے وہ عمر میں تم سے بہت چھوٹی ہے یوں اچانک رخصتی کرنا مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا۔”
اس وقت وہ لوگ خان زادہ ہاؤس کے صحن میں موجود تھے جہاں پر نکاح کا بڑا ہی اچھا انتظام کیا گیا تھا۔ سامنے سٹیج پر معصوم سی دلہن بنی بیٹھی شزا سر جھکا کر بیٹھی تھی جسے دیکھ کر ارتضی کا خون کھول رہا تھا۔ اپنی والدہ کی یہ بات سن کر کہنے لگا ” کیوں امی جان اتنی بھی چھوٹی نہیں ہے وہ اچھے برے کی سمجھ ہے اسے اور یقیناً نکاح ہو رہا ہے تو میاں بیوی کے رشتے کا بھی اسے پتہ ہوگا۔ جب نکاح ہو سکتا ہے تو رخصتی کیوں نہیں ابھی اور اسی وقت مجھے یہ لڑکی اپنے کمرے میں چاہیے۔ دیٹس فائنل۔۔۔۔اس کے علاوہ مجھے کسی کی کوئی بات نہیں سننی۔” پاس موجود مہمان بھی پلٹ پلٹ کر ان تینوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ آخر ایسا کیا ہو گیا تھا جو دولہا نکاح کے فوراً بعد اٹھ کر اپنے ماں اور باپ کے ساتھ کھڑے ہوگیا تھا اور وہ غصے میں کیا باتیں کر رہا تھا۔ وہاں جتنے بھی مہمان موجود تھے ان میں چہ مگوئیاں ہونے لگی۔ تبھی فرخندہ بیگم کہنے لگی
” ناجیہ مجھے تو لگتا ہے ایک بار پھر تمہاری پھوٹی قسمت تمہاری بیٹی پر بھی گندا سایہ کر گئی۔ خود تو تم کبھی زندگی میں ہنسی خوشی رہ نہ سگی لیکن دیکھو تو ابھی ابھی تمہاری بیٹی کا نکاح ہوا ہے اور وہ سامنے کھڑا اس کا شوہر نہ جانے اپنے ماں باپ سے کس بات پر جھگڑ رہا ہے؟؟؟ کہیں اسے پتہ تو نہیں چل گیا تھا کہ تمہاری بیٹی تین راتیں کسی غیر کے ساتھ فلیٹ میں گزار کر آئی ہے۔” فرخندہ اپنی بات ادھوری چھوڑ چکی تھی جبکہ ناجیہ یوں تھی کہ جیسے اس کو دوسرا سانس نہیں آئے گا۔ وہیں شزا کے چہرے کا بھی رنگ بدلا تھا۔ اسے اپنی پھوپھو پر جی بھر کے غصہ آیا تھا جو اتنے مہمانوں کی پیچ اتنا اونچا بول کر اس طرح کی باتیں کر رہی تھی۔ ناجیہ اب فوراً کہنے لگی
” کہ آپا یہ آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں اور کیوں۔ میری بچی کی عزت خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے ان کی اپنی کوئی ذاتی بات ہوگی۔۔ ” لیکن فرخندہ کہنے لگی کہ ” ارے وہیں جا کر پوچھو تو سہی معاملہ کیا ہے۔” ڈرتے ڈرتے ناجیہ اپنی چادر ٹھیک کرتی جب ازلان کے پاس پہنچی تو وہ ماتھے پر بل ڈال کر کھڑا تھا۔ ناجیہ اس سے کہنے لگی ” کہ بیٹا سب ٹھیک تو ہے نا مہمان طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں کیا کوئی مسئلہ ہو گیا ہے؟؟ ہماری طرف سے رسموں میں کوئی کمی پیشی رہ گئی ہے تو ہمیں بتا دیجیے۔” وہ ڈرتے ڈرتے اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھ کر بولی تو ازلان وہی بات ان کے سامنے کرنے لگا ” آنٹی میں ابھی اور اسی وقت رخصتی کرنا چاہتا ہوں۔” ناجیہ بیگم کے چہرے پر تو کئی رنگ آکر گزرے تھے۔ فرخندہ کے بار بار اکسانے پر اس نے اپنی معصوم سی بچی کا زبردستی نکاح تو کر دیا تھا لیکن اب وہ ہچکچاتے ہوئے کہنے لگی
” بیٹا ہمارے درمیان تو یہی طے ہوا تھا نا کہ رخصتی دو سال بعد ہوگی تو پھر اب اچانک رخصتی کیسے؟؟ میں نے تو اپنی بیٹی کا جہیز بھی تیار نہیں کیا جتنے پیسے تھے آج کے اس فنکشن پر لگا دیے۔ مجھے تھوڑا وقت تو دو۔ اذلان ہتھے سے اکھڑ چکا تھا۔ کہنے لگا۔۔۔” اگر ابھی اور اسی وقت رخصتی نہ کی گئی تو میں اسے یہیں پر چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔ چند منٹ پہلے ہی نکاح ہوا ہے نا مجھے اس رشتے کو ختم کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔” سخاوت اور سجیلا تو اپنے بیٹے کا منہ دیکھتے رہ گئے تھے جو اس قدر ہٹ دھرم اور ڈھیٹ تھا کہ ان کی کسی بات کو خاطر میں لاتا ہی نہیں تھا۔ جب سے انہوں نے اسے پڑھائی کے لیے دوسرے ملک بھیج دیا تھا تب سے تو وہ اور ہی ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ انہیں نہیں پتہ تھا کہ زبردستی وہ اسکی شادی تو کروا رہے ہیں لیکن بدلے میں وہ ان کی ناک یوں کٹواتا پھرے گا۔ نکاح کے بعد فوراً طلاق کی بات سن کر ناجیہ کا خون کھولنے لگا تھا فوراً اس نے رخصتی کے لیے حامی بھر لی۔ جب اپنی بیٹی کو اٹھایا تو وہ تو سمجھی تھی کہ ماں کمرے میں لے کر جانے لگی ہے لیکن ناجیہ اس کا ماتھا چوم کر کہنے لگی ” بیٹا ازلان کو تم اتنی پسند آگئی ہو کہوہ کہتا ہے کہ آج ہی رخصت کر کے تمہیں لے کر جائے گا۔” شزا کے تو ماتھے پر بل پڑے تھے۔ وہ تو کب سے اس فنکشن کے ختم ہونے کا انتظار کر رہی تھی کہ کب فنکشن ختم ہو اور وہ کمرے میں جا کر اپنی پڑھائی کرے۔ کل اس کا سیکنڈ ایئر کا پیپر تھا۔ وہ ایف ایس سی کی سٹوڈنٹ تھی
۔ فوراً بے یقینی سے اپنی ماں کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔ ” ماما یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟؟؟ آپ ہوش میں تو ہیں؟ میری رخصتی وہ بھی آج۔۔۔۔ نہیں میں رخصت ہو کر کہیں نہیں جاؤں گی۔ آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ دو سال سے پہلے آپ میرے سر پر اس طرح کی کوئی ذمہ داری نہیں ڈالیں گی۔ میں رخصت ہو کر نہیں جاؤں گی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔ کل میرا پیپر ہے اور پیپر دینا بھی ضروری ہے۔۔۔۔ ” ” لیکن۔۔۔ ” ناجیہ بیگم اس سے پہلا پھسلا کر رخصتی پر آمادہ کر چکی تھی۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر روئے جا رہی تھی جبکہ ازلان کو اس کے آنسو سکون بخش رہے تھے۔ ماتھے پر بل ڈالے تھے۔۔۔ ” جب میرا سکون میرے ماں باپ نے برباد کر دیا میری خواہشوں کو پورا نہ ہونے دیا تو تم کس کھیت کی مولی ہو؟؟؟ تمہاری خواہشات بھی یوں ہی مٹی میں ملیں گی جیسے میرے گھر والوں نے میری ملائی ہیں۔۔۔۔” وہ ازلان سے خوف کھا رہی تھی۔ رخصت ہو کر ازلان کے گھر چلی گئی۔ سخاوت اور سجیلا بیگم کافی پریشان تھے لیکن یوں اپنی بہو کو گھر لا کر وہ بھی خوش ہوچکے تھے۔
وہ بار بار پھوٹ پھوٹ کر روئے جا رہی تھی۔ سجیلا کے سینے سے لگ گئی اور کہنے لگی کہ ” سجیلا آنٹی آپ نے تو بولا تھا دو سال بعد رخصتی کریں گی کل میرا پیپر ہے اور آپ مجھے یہاں لے آئی ہیں۔” منہ بڑے پیار سے بنا کر کہنے لگی۔۔۔۔ ” ارے میری جان میرا بچہ کیوں روتی ہو ازلان ہے نا خود تمہیں صبح صبح پیپر دلوانے کے لیے لے جائے گا۔۔۔” جبکہ ازلان چہرے پر خباثت بھری مسکراہٹ سجا کر کہنے لگا ” چلنے کے قابل رہے گی تو پیپر دینے جائے گی نا۔ جب مجھے لندن میں میری پڑھائی مکمل نہیں کرنے دی گئی اور زبردستی ڈرامہ رچا کر واپس بلا لیا گیا تو تمہیں کیوں میں اپنی پڑھائی مکمل کرنے دوں گا؟؟ اب تو تم بس دیکھتی جاؤ تمہارے ساتھ کرتا کیا ہوں۔ تمہاری وجہ سے میرا فیوچر خراب ہوا اب تم بھی گھر بیٹھ کر میرے بچوں کو سنبھالو گی۔۔۔” وہ دانت کچکچا کر اندر ہی اندر بڑبڑا رہا تھا۔۔۔
Story From The Novel
Shiza, a young FSc student whose life changes abruptly after her arranged marriage to Azlan. Although both families had agreed that her rukhsati would take place two years later so she could complete her education, Azlan suddenly insists that she leave with him immediately after the nikah. His anger and controlling attitude leave Shiza frightened, especially because she has an important exam the next day. Her mother, pressured by the situation and threats that Azlan might end the marriage, reluctantly agrees to the immediate rukhsati.
At Azlan’s house, Shiza continues to cry and reminds Sajila that she was promised two years before leaving her family home. Sajila tries to comfort her, assuring her that Azlan will take her to the exam in the morning. However, Azlan reveals a much harsher motive: he is bitter because his own parents interrupted his education abroad and forced him to return for the marriage. Instead of understanding Shiza’s situation, he decides to punish her for what happened to him, intending to take away her educational opportunities as well.
The story therefore sets up a tense conflict between Shiza’s innocent dreams and education and Azlan’s anger, resentment, and desire for control. Shiza has done nothing to deserve being punished for the decisions of the adults around them, while Azlan’s actions show how his own frustration is being unfairly transferred onto his new wife. The coming events can focus on whether Shiza manages to protect her education and independence, and whether Azlan eventually realizes the damage caused by his bitterness. Download Novel By Clicking Download Button Below