
Scene From The Novel
“ابھی ہماری رخصتی نہیں ہوئی پلیز یہ غلط ہے ایسا مت کریں ” ہاجرہ نے یزدان کو شرٹ اتارتا دیکھ کر گھبرا کر دور کرنا چاہا۔۔ ” اتنا کیوں ڈر رہی ہو رخصتی بھی جلد ہی ہو جائے گی مجھے آج خود سے دور کرنے کی کوشش مت کرنا میں آج حق جتاؤں گا اپنی مرضی کروں گا۔ ” ہاجرہ کی اس نے ایک نہ سنی دو ماہ بعد ہی ہاجرہ کی طعبیت خراب ہوئی اس کی پریگنسی کا سن کو حویلی میں کہرام مچ گیا یزدان نے تمام حویلی والوں کو اکھٹا کر کے اس پر بدکاری کا الزام لگایا کیونکہ وہ اپنے بھائی کی موت کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حویلی کے بالائی حصے میں واقع ہاجرہ کا کمرہ اس وقت مکمل اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، صرف لیپ ٹاپ کی نیلی سکرین سے نکلنے والی روشنی اس کے معصوم اور دلکش چہرے کو منور کر رہی تھی۔ ہاجرہ بیڈ پر اوندھے منہ لیٹی، تکیے کو سینے سے لگائے، سکرین پر چلنے والی ایک رومانوی مووی میں اس قدر مگن تھی کہ اسے ارد گرد کی خبر تک نہیں تھی۔۔۔۔فلم کا ہیرو جب ہیروئن کے قریب آ کر محبت کا اظہار کر رہا تھا، تو ہاجرہ کے لبوں پر ایک شرارتی اور دلکش مسکراہٹ پھیل گئی۔ “ہائے۔۔۔ کاش حقیقت میں بھی محبت اتنی ہی خوبصورت ہوتی۔۔۔”
اس نے دھیرے سے سرگوشی کی یہ اسے نہیں معلوم تھا کہ کوئی اندھیرے میں اس کی اس معصومیت کا تماشا دیکھ رہا ہے۔ کمرے کا دروازہ کب کھلا اور کون اندر داخل ہوا، ہاجرہ کو اس کا احساس تب ہوا جب اسے اپنے عقب میں کسی کی بھاری سانسوں کی آواز سنائی دی۔ایسے لگا شاید اس کی چھوٹی بہن یا ملازمہ ہو گی۔ اس نے مڑ کر دیکھے بغیر جھنجھلا کر کہا۔” بختو! میں نے کہا تھا نہ کہ مجھے تنگ مت کرنا، بس تھوڑی سی مووی رہ گئی ہے۔ ” مگر جواب میں خاموشی رہی۔ ہاجرہ کو ایک عجیب سی سنسناہٹ محسوس ہوئی۔
اس نے تیزی سے رخ موڑا اور سامنے کا منظر دیکھ کر اس کے ہاتھ سے لیپ ٹاپ پھسلتے پھیلتے بچا۔ سامنے حمزہ کھڑا تھا، یزدان کا چھوٹا بھائی، جو اس سے آٹھ سال بڑا تھا اور جس کی آنکھوں میں اس وقت وہ پرانی شوخی نہیں بلکہ ایک عجیب سا، نپتا ہوا جنون تھا۔”حمزہ ۔۔۔ حمزہ بھیا؟ آپ؟” ہاجرہ نے گھبرا کر بیڈ سے اترتے ہوئے کہا۔ اس نے جلدی سے اپنا دوپٹہ درست کیا جو کندھوں سے ڈھلک گیا تھا۔ “آپ اس وقت یہاں؟ اور ایسے خاموش کیوں کھڑے ہیں؟ آپ نے دستک بھی نہیں دی۔ ” حمزہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ ساکت کھڑا اسے دیکھ رہا تھا، جیسے آج وہ ہاجرہ کو نہیں بلکہ اپنی برسوں کی تڑپ کو دیکھ رہا ہو۔ وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا اس کے قریب آنے لگا۔ ہاجرہ کا دل زور سے دھڑکنے لگا، اسے حمزہ کا یہ روپ بےحد اجنبی اور خوفناک لگ رہا تھا۔”حمزہ بھیا، آپ ٹھیک تو ہیں نہ؟ آپ کی طبیعت تو صحیح ہے؟” وہ ایک قدم پیچھے ہٹی، مگر حمزہ نے ایک قدم اور آگے بڑھایا۔
” آج بھیا مت کہو ہاجرہ۔۔۔ ” حمزہ کی آواز بےحد بھاری اور بدلی ہوئی تھی۔ ” تمہیں اندازہ بھی ہے کہ یہ لفظ میرے کانوں میں سیسے کی طرح اترتا ہے؟” ہاجرہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ ” یہ۔۔۔ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ آپ ہوش میں تو ہیں؟ میں نیچے جا رہی ہوں، آغا جان کو بتانے۔” اس نے سہم کر سائیڈ سے نکلنے کی کوشش کی، مگر حمزہ کی رفتار اس سے کہیں تیز تھی۔ اس سے پہلے کہ ہاجرہ دروازے تک پہنچتی، حمزہ نے ایک ہی جست میں اس کا راستہ روکا اور اسے دیوار کے ساتھ لگانے پر مجبور کر دیا۔ہاجرہ کی پشت دیوار سے لگی تھی اور سامنے حمزہ کا لمبا قد اس پر حاوی تھا۔ حمزہ نے اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر جما کر اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ اس کی نظریں ہاجرہ کے چہرے کے ایک ایک نقش کا جائزہ لے رہی تھیں، جیسے وہ انہیں اپنے اندر اتار لینا چاہتا ہو۔ “حمزہ بھیا! پیچھے نہیں، خدا کا واسطہ ہے، یہ بد تمیزی ہے۔” ہاجرہ کی آواز رونے والی ہو گئی۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ حمزہ کے سینے پر رکھ کر اسے دور دھکیلنا چاہا، مگر وہ کسی چٹان کی طرح اپنی جگہ جما رہا۔۔۔
” بد تمیزی؟” حمزہ نے ایک تلخ ہنسی ہنستے ہوئے اس کے چہرے کے اور قریب جھک کر کہا۔ ” تمہیں پتہ ہے ہاجرہ، میں نے کتنے سال خود کو روکا ہے؟ یزدان بھائی کے خوف سے، خاندان کی عزت کی خاطر ۔۔۔ مگر اب مجھ میں ہمت نہیں رہی۔ تم اس مووی میں جس محبت کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی، وہ میرے سامنے کھڑی ہے، اور تم مجھے دور جانے کا کہہ رہی ہو؟” ” حمزہ! باز آجائیں، یزدان بھائی آجائیں گے، وہ جان لے لیں گے آپ کی۔ ” ہاجرہ نے آخری حربہ استعمال کرتے ہوئے یزدان کا نام لیا، جس کے نام سے حویلی کا پتہ پتہ کانپتا تھا۔یزدان کا نام سنتے ہی حمزہ کی آنکھوں میں سرخی اتر آئی۔ “یزدان بھائی؟ ہاں، وہ مجھے مار دیں گے، مگر مرنے سے پہلے میں تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تم میری ہو ہاجرہ! صرف میری! ” اس نے ایک دم سے اپنا ہاتھ ہاجرہ کی کمر کے گرد پھیلایا اور اسے جھٹکے سے اپنے قریب کر لیا۔ ہاجرہ کا وجود اس کے مضبوط شکنجے میں کسی نازک کلی کی طرح دب گیا۔ “چھوڑیں مجھے ! حمزہ یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ چھوڑیں! ” ہاجرہ تڑپنے لگی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر حمزہ کے ہاتھوں پر گرنے لگے، مگر حمزہ اس وقت ہوش و حواس کھو چکا تھا۔
Story From The Novel
Hajra is trapped in a painful and complicated marriage with Yazdan, who has already crossed her boundaries despite their marriage not yet being formally consummated. Two months later, when Hajra becomes seriously ill and her pregnancy is discovered, the entire haveli erupts in chaos. Instead of protecting her, Yazdan publicly accuses her of betrayal, using the situation as an opportunity to take revenge for his brother’s death. Hajra is left devastated, unable to understand why the man she trusted has suddenly turned against her.Meanwhile,
Hajra’s situation becomes even more frightening when Hamza, Yazdan’s younger brother, enters her room late at night. He has secretly harbored feelings for her for years, but Hajra has always regarded him as an elder brother and is deeply uncomfortable with his changed behavior. When he confesses his obsession and refuses to respect her wishes, Hajra realizes that she cannot trust him either. She desperately tries to get away and warns him about Yazdan, but Hamza’s emotions have overwhelmed his judgment.The incident leaves
Hajra terrified and confused, while the pregnancy and Yazdan’s accusation threaten to destroy her reputation within the haveli. Behind the family’s anger, however, lies a deeper mystery: Yazdan’s sudden cruelty is connected to his desire for revenge, while Hamza’s obsession may become another dangerous complication in Hajra’s life. As secrets begin to surface, Hajra must find a way to protect herself and uncover the truth behind the accusations before the conflict tears the entire family apart. Download Novel By Clicking Download Button Below