Highlights From The Story

” آپی کو چھت سے میں نے دھکا دیا تھا۔ آپ مجھے جیل بھجوا دیں۔ ” ابرش کہتے آنکھیں زور سے میچ گئی تھی کیونکہ۔۔۔وہ بے گناہ تھی پر یہ الزام اپنے اوپر لینے پر مجبور تھی ورنہ اس کی دھوکے سے شاور لیتی ویڈیو پورے سوشل میڈیا پر وائرل ہو جاتی اور یہ سب کرنے والا کوئی اور نہیں اس کے بہنوئی زمان سلطان کا چھوٹا بھائی تھا ، جو اس کی بہن کے ساتھ تعلقات میں تھا اور اب جب وہ اپنی یونی کی لڑکی سے شادی کر رہا تھا تو ہادیہ کی بہن اسے بلیک میل کر رہی تھی۔” تمہیں تو میں اپنے ہاتھوں سے ماروں گا۔ “زمان سلطان دھاڑا۔ ” پر مجھے وجہ جاننی ہے تم نے کیوں مارا اسے؟ “وہ پاگلوں کی طرح چلانے لگا جب زمان کا چھوٹا بھائی درمیان میں بولا۔۔۔” کیونکہ ابرش آپ سے محبت کرتی ہے۔ ” اس کی بات پر زمان کے ساتھ ابرش نے بھی بے یقینی سے اسے دیکھا۔ زمان سلطان نے اثبات میں سر ہلاتے ابرش کو دیکھا۔۔۔

ان دونوں بھائیوں کا استقبال خان حویلی میں زور و شور سے ہوا تھا۔آج صبح ہی وہ دونوں لندن سے پاکستان پہنچے تھے۔
“سچ میں یہاں سب کچھ کتنا الگ ہے۔ہمیں یہاں راجا والا پروٹوکول ملا ہے قسم سے۔۔”صارم تھک کر بیڈ پر لیٹ چکا تھا۔
“ہاں کیونکہ ہم لندن سے پاکستان آئے ہیں۔اگر یہاں کسی برابر گاؤں سے آئے ہوتے تو ایسا کبھی نہیں نا ہوتا۔”سکندر جو اس سے پانچ سال بڑا تھا اسے حقیقت کا پہلا ہمیشہ دکھا دیا کرتا تھا۔
“افف بھائی میں تو یہاں کی خوبصورتی میں کھو چکا ہوں۔۔۔۔”
“ہاں سمجھ رہا ہوں میں۔۔تم۔اس لڑکی کو دیکھ کر جس طرح دروازے پر ہی جم چکے تھے۔۔۔”سکندر طنزیہ بولا تو صارم اپنا کان کھجا کر رہ گیا۔
“ممانی نے سب کا انٹرو کروا دیا مگر اس لڑکی کا نہیں کروایا۔۔وہ سچ میں بہت کیوٹ تھی۔۔لندن میں ایسی لڑکیاں کہاں ملتی ہیں۔۔۔”
“ہم یہاں آغا جان سے ملنے آئے ہیں۔بچپن میں کبھی آنا ہوا تھا اور اب بھی میں آنا نہیں چاہتا تھا یہ تو مما نے اتنا اسرار کیا اور بیماری کی وجہ سے وہ ٹریول نہیں کرنا چاہتی تھی تو ہمیں یہاں بھیج دیا۔۔۔”
ابھی صارم کوئی جواب دیتا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔صارم نے اندر آنے کی اجازت دی۔
حیا ہاتھوں میں سنکیس اور لسی ٹرے میں سجائے اندر داخل ہوئی۔اس نے کچھ نہیں کہا اور ٹرے ٹیبل پر رکھ دی۔حیا وہی لڑکی تھی جسکو دیکھ کر صارم دروازے پر ہی کئی لمحوں تک جم چکا تھا۔
حیا کے سر پر پنک ڈوپٹہ موجود تھا۔پنک ہی کلیوں والی فراک میں ملبوس اس کی دودھیا رنگت چمک رہی تھی۔
اس سے پہلے حیا کہیں جاتی صارم نے اسے آواز دی۔وہ حیا سے بات کرنے کا موقع مس نہیں کرنا چاہتا تھا۔
“سنو ۔۔۔۔تم ۔۔۔”
“جی۔۔۔۔میں۔۔”حیا پلٹی۔صارم نے ایک نظر اسے دیکھا شکل سے وہ ملازمہ تو نہیں لگ رہی تھی۔
“تم کون ہو؟؟؟کیا یہاں کام کرتی ہو ۔”
“نہیں تو یہ میرے آغا جان کی حویلی ہے۔۔”وہ یہاں کام کرنے والی بات پر برا منا چکی تھی۔حیا کے چہرے پر اس کے آثار صاف دکھائی دے رہے تھے۔
“تو اس حویلی کے اعتبار سے تمہارا تعارف۔”
“میرا نام حیا یے۔آپ کے ماموں کی بیٹی۔”
“اوہ تم یعنی جہانگیر ماموں کی بیٹی ہو جن کی ڈیتھ ہوگئی۔۔”صارم روانی میں بولا۔حیا لب بھینچ کر رہ گئی۔اپنے والدین کی ڈیتھ کی بات کرنا یا سننا اس کے لئے ہمیشہ سے مشکل رہا تھا۔
“آئی ایم سوری۔۔میں جلدی میں بول گیا۔۔تم یہاں رہتی ہو تو یہ کام کیوں کر رہی تھیں۔۔”صارم نے فورا بات بدلی۔
“جہاں رہتے ہیں وہاں کام بھی تو کرتے ہیں۔۔”اس کا جواب سادہ سا تھا۔صارم بس یک ٹک اسے دیکھے جا رہا تھا جبکہ سکندر کو اس سب میں کوئی انٹرسٹ نہیں تھا۔
یکلخت دروازے سے آندھی طوفان بنی امرین داخل ہوئی۔سیاہ پینٹ کے ساتھ چست شرٹ میں ملبوس وہ ان دونوں بھائیوں کو ہی کچھ خاص پسند نہیں آئی تھی۔
سکندر نے ایک ناگوار نظر امرین پر ڈالی۔اس کا بغیر کھٹکھٹائے داخل ہونا اسے ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔

Story From The Novel

The story follows Haya, a kind-hearted orphan living in her grandfather’s mansion, where she is treated more like a servant than a family member. When two cousins, Sarm and Sikandar, arrive from London, Sarm is immediately drawn to Haya’s simplicity and gentle nature. He soon asks his family to arrange their marriage, while Sikandar quietly notices the unfair treatment Haya receives from the rest of the household.

Although Haya’s marriage to Sarm is arranged quickly, she has little say in the decision. Sarm genuinely cares for her and respects her values, but Amreen, who secretly wanted Sarm for herself, becomes consumed by jealousy. She constantly insults Haya and tries to convince Sarm that Haya is not as innocent as she appears, hoping to break their relationship.

Amreen eventually sets a dangerous trap by sending Haya to a room under the false pretense that Sarm is waiting for her. Instead, an unknown man is there to ruin Haya’s reputation. Just as the situation turns threatening, Sarm and the family arrive, finding Haya in a compromising situation created by Amreen’s scheme. The incident becomes a major turning point, testing trust, love, and the truth behind the conspiracy.Download Novel By Clicking Download Button Below

DOWNLOAD


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *