
Highlights From The Story
” پلیز خالہ!!! اپنے جلاد بیٹے کی شادی کروادیں، قسم سے ہر جگہ پولیس کی طرح چھاپہ مارنے پہنچ جاتے ہیں، بیوی ہوگی تو موصوف کچھ مصروف بھی رہینگے، رومانس کرنے میں۔” اسکی فضول گوئی گھر والے تو ضرور انجوائے کر رہے تھے، لیکن پیچھے ضبط سے کھڑا ریان لغاری کی حد اب جواب دے گئی۔” مما! کہا تھا نہ میں نے، یہ لڑکی مجھے دوبارہ اس گھر میں دکھائی نہ دے۔” اسکی دھاڑ پر ایمان خوف سے اوچھلی، سانس حلق میں اٹک گیا۔ لیکن اسکے غصہ کرنے پر وہ منہ بناتی منٹوں میں غائب ہو گئی۔ ” ناراض کر دیا نا بچی کو۔۔” “سیر یسلی موم۔۔۔ صحیح کہہ رہی تھی وہ ۔۔۔ “ماں وہ۔۔۔”ماں کی ناراضگی پر وہ ذرا ٹھنڈا پڑتا اچانک گہرا مسکرایا۔
” چلیں پھر اسے بنادے میری بیوی۔۔” مصروفیت کے کافی اچھے آئیڈیاز ہیں اسکے پاس۔۔۔” وہ معنی خیزی سے مسکراتا بولا تو صابرہ بیگم نے حیرانی سےاسے دیکھا تھا۔ یہ بات ان کے ذہن میں کیوں نہیں آئی تھی؟ ” کیا تم سیر میں ہو ریان؟؟” ” جی مما، بالکل سیریس ہوں۔۔۔” ” پہلے تو وہ تمہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی، ہر وقت اس سے چڑتے رہتے تھے ؟؟؟” ” وہ تو میں اب بھی چڑتا ہوں، اصل میں عامرہ خالہ سے اس کی اچھی تربیت نہیں ہوئی، میرے پاس آجائے گی تو میں اس کی تربیت اپنے حساب سے کرلوں گا ” وہ ماں کو دیکھتے ہوئے بولا تھا۔
“ٹھیک ہے، شام کو تمہارے بابا آتے ہیں تو میں ان سے بات کرتی ہوں، اور اس کے بعد میں کل ہی تمہاری خالہ سے جا کر اس کا رشتہ مانگتی ہوں۔ وہ تو ویسے بھی اس کا رشتہ دیکھ رہے ہیں، اس سے پہلے کہ وہ کہیں اور کر دیں، میں کرتی ہوں بات۔۔ میں تو تمہاری اور اس کی نوک جھونک کی وجہ سے ڈر گئی تھی، اور ایان ابھی چھوٹا ہے، اس لیے ہم اس کا رشتہ باہر دیکھ رہے تھے۔۔۔” ” کیا مطلب ہے ماما؟ اتنی جلدی خالہ لوگ اس کی شادی ابھی کر رہے ہیں؟؟”
” ارے ہاں بھائی، تمہیں تو پتہ ہے ان کے گھر کے ماحول کا، بس وہ جلد اس فرض سے سبکدوش ہونا چاہتی ہیں تاکہ گھر میں کچھ سکون ہو۔ ادھر صبا اسے سانس نہیں لینے دیتی، اور ادھر آتی ہے تو تم بچی کی جان کے دشمن بن جاتے ہو، مجھے تو ایمان پر بڑا ترس آتا ہے۔” اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے ماما، اس کی حرکتیں ایسی ہیں کہ وہ خود ہی ڈانٹ کھا لیتی ہے۔ آج بھی وہ اپنی فضول دوستوں کے ساتھ گھومنے کی وجہ سے بے عزت ہوئی ہے، اب ایسی حرکتیں ہیں تو ڈانٹ تو پڑے گی ہی۔۔۔ ”
” ارے کیسی حرکتیں؟ اتنی پیاری بچی ہے، اور تمہاری طرح کیا ہر کوئی منہ بنائے گھومتا رہے۔۔ یہی عمر ہے ہنسنے کھیلنے کی۔۔۔” ” ہاں جی، بعد میں تو اس نے جیسے ہلوں پر جت جانا ہے نا۔ اچھا ٹھیک ہے، ہم اب ایک کپ چائے کا میرے کمرے میں بھجوا دیں، سر میں درد تھا اس لیے آفس سے جلدی آ گیا تھا۔” وہ اٹھتا ہوا بولا تھا۔ “اچھا، اب تم اس بات پر پکے ہو نا؟ ” صابرہ بیگم نے دوبارہ بیٹے سے تصدیق کی تھی۔ ” اتنی بار پوچھیں گی تو ہو سکتا ہے میرا ارادہ ڈانواں ڈول ہو جائے۔” ” نہیں نہیں، ٹھیک ہے، بس یہی طے ہے، ایمان اب میری بہو بنے گی۔ ” اور صابرہ بیگم کی تو دل کی مراد پوری ہوئی تھی۔۔۔۔
جبکہ پاس ہی بیٹھے عیان اور امیمہ حیرت سے ماں اور اپنے بھائی کو دیکھ رہے تھے۔” ماما! کیا سچ میں ایمان ہماری بھابھی بنے گی؟۔۔۔۔” امیمہ حیرت سے منہ کھولے ماں کو دیکھ رہی تھی۔” اب دعا کرو تمہارے بابا اور خالہ مان جائیں تو ان شاء اللہ ایسے ہی ہوگا۔ ” ” لیں بابا کو کیا مسئلہ ہوگا؟ ان کو تو ویسے بھی ایمان بڑی پیاری لگتی ہے ، اور مجھے نہیں لگتا خالہ بھی انکار کریں گے، میرے بھائی ریان میں کمی کیا ہے۔” وہ اتراتے ہوئے بول رہی تھی۔
“ماشاء اللہ! یہ تو بالکل ٹھیک کہا۔ چلو تم لوگ بیٹھو، میں ذرا جا کر کچن میں دیکھ لوں۔” وہ خوشی سے اٹھ گئی تھی، جبکہ امیمہ اور ایان آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ پلانز کرنے لگے تھے، اور پھر وہ جھٹ سے موبائل نکالے اپنے مشن پر جت گئے تھے۔ رات کو کھانے کی ٹیبل پر جب صفدر صاحب آئے تو صابرہ بیگم نے بات چھیڑ دی تھی۔ ” وہ میں کہہ رہی تھی، آپ کو ایمان کیسی لگتی ہے؟۔۔” اور ریان کے نوالہ والا ہاتھ وہیں رکا تھا، وہ حیرانی سے ماں کو دیکھ رہا تھا۔ کیا وہ سب کے سامنے بابا سے بات کرنے والی تھی؟۔۔۔۔۔
Story From The Novel
This excerpt sets up a lighthearted enemies-to-lovers family romance with a humorous twist.
After Iman jokes that her aunt should get her “executioner” son Rayan married so he stops policing everyone, Rayan loses his temper and orders that she never be allowed into the house again. Frightened, Iman quickly runs away. However, once she is gone, Rayan unexpectedly surprises his mother by casually suggesting that she should simply make Iman his wife. Although he admits that he still finds her annoying, he says he can “train” her after marriage, leaving his mother pleasantly shocked.
Sabira Begum, who had never considered the match because of their constant arguments, becomes delighted by the idea. She reveals that Iman’s family is already searching for a groom, which makes Rayan visibly concerned that she might marry someone else. While he continues pretending that he only scolds Iman because of her childish behavior, his reactions suggest he has begun to care about her far more than he realizes. Encouraged by his seriousness, his mother decides to discuss the proposal with her husband and then approach her sister with a marriage proposal before another family does.
The rest of the family is equally surprised yet excited. Rayan’s younger siblings immediately begin imagining Iman as their sister-in-law and start making plans. Later that evening, during dinner, Sabira Begum finally raises the topic in front of Safdar Sahib by asking what he thinks of Iman. The question catches Rayan completely off guard, leaving him frozen with a bite of food in his hand as he wonders whether his mother is really about to discuss his marriage in front of everyone.Download Novel By Clicking Download Button