
Highlights From The Story
“یہ رہی تمھاری بہن کی پریگننسی رپورٹ، لیکن یہ بچہ میرا نہیں، اگر میرا نہیں تو اس سے پوچھو کس کا گند ہے، اس نے اطمینان سے کہتے ایک رپورٹ اپنے ہاتھ سے دور اچھالی تھی۔ جسے دیکھ شاہ میر کا سانس تک تھم گیا تھا۔ تب وہ تیزی سے اس کی جانب پلٹا تھا۔
“گڑیا یہ آدمی جو تمھارا شوہر ہے وہ کچھ کہہ رہا ہے، وہ تم پر تہمت لگا رہا ہے، تم سن نہیں رہیں یا بہری ہو گئی ہو، اس کی بات کا جواب دو، کہو کہ یہ سب جھوٹ ہے، تم تو اپنے کردار پر بات کرنے والوں کا منہ نوچ لیتی ہو ناں، تو آج بھی اس بات کو جھٹلا دو، کہو کہ یہ سراسر الزام ہے، غلیظ بکواس ہے اور کچھ نہیں، کہو،
شاہ میر خانزادہ نے اسے جھنجھوڑ ڈالا تھا۔ مگر وہ جس کے چہرے پر دھوکے کی تاریکی اور سیاہ بختی چھائی تھی نے بے تاثر نگاہیں اٹھا کر اپنے بھائی کو دیکھا تھا۔ اور جب بولی تو اپنے خاندان کو بے موت مارتے ان کی عزت جیتے جی قبر میں اتار گئی۔”یہ سچ کہہ رہے ہیں بھائی، میں ماں بننے والی ہوں، لیکن انھیں کے بچے کی، یہ مجھ پر تہمت لگا رہے ہیں کیونکہ یہ انھیں کا بچہ ہے، اس نے سپاٹ لہجے کہا تھا۔ شاہ میر کا ہاتھ گھوما۔ ایک زناٹے دار تھپڑ لاڈلی بہن کا سر گھما گیا جبکہ وہ ظالم نورزئی اب پر سکون سا کھڑا یہ تماشہ دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔
“اپنی بہن سے پوچھو کیا ثبوت ہے اس کے پاس کہ یہ میرا بچہ ہے، اس نے کہتے اپنی محبت، اپنی محبوب بیوی کے سر سے رہی سہی چادر بھی کھینچتے اسے بھرے مجمعے میں ننگے سر سوا کر دیا تھا۔ واقعی فی الحال وہ تہی داماں تھی کہ اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا کہ یہ بچہ اس کے بے وفا شوہر کا ہے۔ جو انسانیت کے درجے سے انتہائی نیچے گرتا اپنی ہی اولاد کو حرام اور ناجائز ثابت کرنے پر تلا ہوا تھا۔ اس کے خاندان کی عورتیں بین کر کر کے رو رہی تھیں تمام مردوں کے سر جھک چکے تھے۔ جبکہ شاہ میر خانزادہ اسے قتل کرنے اس کی جانب لپک رہا تھا۔ اور کزئی خاندان (جو کہدونوں خاندانوں کا انصاف کرنے بیچ میں ڈالے گئے تھے) کے سب سے بزرگ پر جلال سے سفید داڑھی والی شخصیت نے شاہ میر خانزادہ کو ہاتھ اٹھا کر روکا تھا۔
“ٹھنڈ رکھ جوان، جب تک کچھ ثابت نہیں ہو جاتا یہ جرگہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دے گا، اپنی بہن کو کہو کل تک اپنی پارسائی کا ثبوت لائے، نہیں تو اسے جرگے کے فیصلے کے مطابق اپنی بد چلنی کی سزا بھگتنی ہو گی۔”
بزرگ نے فیصلہ سنایا۔ سب نے اتفاق کیا۔ جرگہ برخاست ہوا تو وہاں سے سب چلے گئے۔ خانزادہ حویلی میں موت کا سا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ در و دیوار سے یوں وحشت ٹپک رہی تھی جیسے گھر کے کسی فرد کے جنازے اٹھنے پر موت کی وحشت در و دیوار پر رقص کرتی ہے۔ اس کی یہ بات ماننے کے باوجود کہ اس کی کوکھ میں موجود بچہ اس کے شوہر کا ہے اس کے ماں نے اسے خوب دھنک ڈالا تھا۔ اس نے جیسے خون کے آنسو بہائے تھے۔ سمجھ نہیں آرہی تھی کیا کرے۔ اس کے شوہر نے اس کے اندر کی عورت کو جیتے جی مار ڈالا تھا۔ اب تو بس ایک زندہ لاش تھی جو سب کے کلیجہ چیرتے طعنے تشنے سہہ رہی تھی۔
Story From The Novel
A family council is thrown into chaos when a husband coldly presents his wife’s pregnancy report and publicly declares that the unborn child is not his. He accuses his wife of infidelity, leaving everyone in shock. Her brother, Shah Meer, desperately begs her to deny the accusation, convinced that she would never betray her honor. Instead, she quietly admits that she is pregnant but insists the baby belongs to her husband, accusing him of deliberately lying. Enraged by what he believes is a disgrace to the family, Shah Meer slaps his sister while the husband watches the humiliation without remorse.
The husband then cruelly demands proof that the child is his, fully aware that she has no way to produce evidence. By denying his own unborn child, he strips his wife of her dignity before both families. The women of her family break down in tears while the men bow their heads in shame. Shah Meer attempts to attack his brother-in-law, but the village elder stops him, announcing that justice will be decided by the jirga. The woman is given until the next day to prove her innocence; otherwise, she will face punishment under the council’s verdict.
When everyone returns home, the mansion is consumed by an atmosphere of grief, as though a funeral has taken place. Despite her repeated insistence that the baby is her husband’s, even her own mother lashes out at her in despair. Crushed by betrayal, humiliation, and the loss of trust, she feels that her husband has destroyed her spirit. She is left as little more than a living shell, silently enduring the accusations and heartbreak while searching for a way to prove the truth.Download Novel By Clicking Download Button Below