
Highlights From The Story
” شور مت کرنا ایسا نہ ہو تمہارا ہٹلر لالہ جاگ جائے خدا کا غضب ہے۔۔۔ وہ انسان نہیں عذاب الہی ہے۔۔۔” اندھیرے میں آگے بڑھتی وہ سرگوشی میں بولی مگر جیسے ہی پیچھے مڑی دل دہل گیا ارمغان خانزادہ سینے پر ہاتھ باندھے سرد نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔۔۔ ” لل لالہ مم مجھے نیند میں چلنے کی عادت ہے۔۔۔” وہ گھبرا کر بولی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے جبکہ پہلی بار ارمغان کو پیاری لگی تھی۔ “کیا نیند میں میری برائیاں کرنے کی بھی عادت ہے؟؟؟۔۔۔۔۔”
پورے حال میں میوزک گھونج رہا تھا حال کے وسط میں وہ ہاتھ میں مائیک کی شکل میں بوتل پکڑے گلہ پھاڑ رہی تھی بھلے ہی اس کی آواز لاؤڈ سپیکر کی وجہ سے دب رہی تھی مگر پرواہ کسے تھی؟؟؟ وہ تو اپنی ہی دھن میں لگی ہوئی تھی جبکہ اس کی کزنز اس کو یوں دیکھتیں ہنس ہنس کر دوہری ہو رہی تھیں جو پاگل ہونے کا پورا ثبوت دے رہی تھی۔۔ ” پاکیزہ بس کر دو یار ” نور نے سپیکر بند کرتے کہا جبکہ میوزک بند ہونے پر پاکیزہ خان زادہ نے برا سامنہ بنا کر اسے دیکھا تھا۔۔۔۔
” یار کیا ہو گیا ہے؟؟ اب تو موقع ملا ہے گھر پر کوئی نہیں ہے ورنہ یہ مستیاں ہم غریبوں کے نصیب میں کہاں ” پاکیزہ خان زادہ نے منہ کے زاویے بگاڑتے کہا تھا پھر جاکر سپیکر اون کیا اور پھر سے جھومنے لگی اب وہ ساتھ نور خان زادہ، حراخان زادہ اور ہمنہ خان زادہ کو لیے ہوئے تھی باری باری وہ ان تینوں کے ہاتھ پکڑتے انہیں بھی ڈانس پر اکسا رہی تھی تبھی گیراج میں گاڑی آکرر کی تھی جس کے رکتے ہی گارڈ نے بھاگ کر دروازہ کھولا جس سے ارمغان خان زادہ موبائل کان سے لگائے باہر نکلا تھا۔۔۔۔
” جی جی آپ فکر نہ کریں۔۔۔” بات کرتے اس نے ہینڈل گھما کر حال کا دروازہ کھولا تو یوں لگا جیسے ابھی کان کے پردے پھٹ جائیں گے اور وہ قوت سماعت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جائے گا مگر ” یہ میوزک اتنا تیز کس نے چلایا تھا؟؟ ” یہ سوال ذہن میں آتے ہی اس کے ذہن میں اپنے کزن فدا خان زادہ کا خیال آیا تھا کیوں کہ یہ لاؤڈ سپیکر اسی کا شوق تھا مگر جونہی اس نے اندر قدم رکھتے نظر سامنے کی تو غصہ انتہا پر پہنچا تھا۔۔۔۔
ہاتھ کی مٹھیاں سختی سے بھینچے اس نے سامنے دیکھا تھا جہاں خان زادہ حویلی کی لڑکیاں ناچ رھیں تھی اور ارمغان خان زادہ کے لیے یہ سب غیر متوقہ تھا تبھی اس نے گرجتے ہوئے پوچھا تھا۔۔ ” کیا ہو رہا ھے یہاں پر؟؟ ” اس کے سوال پر لاؤڈ سپیکر کے باوجود بھی وہ تینوں اپنی جگہ پتھر ہوگئیں تھیں مگر ایک وہ واحد تھی جو ابھی تک اپنی ہی دھن، میں مگن ناچ رہی تھی ارمغان خان زادہ کو پہلے ہی وہ زہر لگتی تھی اس کا ہر وقت حویلی میں بے فکری سے گھومنا ملازمین کے ہوتے ہوئے بھی اس نے کبھی اپنے حلیے کو درست کرنے کی کوشش نہ کی تھی۔۔۔۔
کبھی کبھی تو اس کو ڈوپٹے کا سرے سے ہی پتا نہ ہوتا اور ارمغان خان زادہ مزاج کا سخت تھا کچھ بچپن میں ہی باپ کا سایہ اٹھ جانے کی وجہ سے وہ اپنی ہی ذات میں اندر ہی اندر رہنے لگا تھا جس سے اس نے اپنے گرد سخت خول چھرہالیا تھا اس کا یہ سخت مزاج کسی کو بھی پسند نہ تھا خاص طور پر پاکیزہ کو، سبھی کہتے تھے نا پاکیزہ خان زادہ کو ارمغان خان زادہ ایک نظر اپنے سامنے برداشت ہوتا ہے اور نہ ہی ارمغان خان زادہ کو پاکیزہ خان زاده۔۔۔۔ ارمغان خان زادہ کو لگتا تھا پاکیزہ خان زادہ حویلی کی باقی لڑکیوں کو بھی خراب کرتی ہے کیوں کہ صرف واحد پاکیزہ خان زادہ تھی جس کے پاس لیپ ٹوپ تھا۔۔۔۔۔
وجہ اس کی میڈیکل کی پڑھائی تھی وہ میڈیکل کے پہلے سال کی سٹوڈنٹ تھی جب سے اس کے پاس لیپ ٹوپ آیا اور جب سے وہ کالج جانے لگی گی تب سے اس کی حرکتیں ارمغان خان زادہ کو ضرورت سے زیادہ بری لگنے لگیں تھیں اس لیے وہ اپنی تینوں بہنوں کو بارہا پاکیزہ خان زادہ سے دور رہنے کی تلقین سختی سے کر چکا تھا اور وہ بھی اپنے ارمغان لالا کی موجودگی میں پاکیزہ سے دور ہی رہتیں تھیں مگر صرف اس کی موجودگی میں ورنہ تو وہ چاروں ایک دوسرے کا سایہ تھیں، ارمغان خان زادہ کا اپنی بہنوں پر سے یقین ٹوٹا تھا جو اس کے دماغ کو ساتویں آسمان پر پہنچا چکا تھا۔۔۔۔
اسی لیے ایک دم ہی اس نے جا کر پاکیزہ خان زادہ کے بازو کو سختی سے پکڑتے اس کا رخ اپنی جانب کیا وہ جو اس قدر سختی کی پکڑ پر چلانے والی تھی سامنے ارمغان خان زادہ کو دیکھ الفاظ اس کے منہ میں ہی دم توڑ گئے ڈر سے اس کا جسم کانپنے لگا تھا اسے پوری حویلی میں صرف ارمغان خان زادہ سے خوف آتا تھا وجہ ماضی کا ایک قصہ تھا ابھی بھی اسے سامنے دیکھ وہ ہولے ہولے کانپ رہی تھی۔۔۔
” تمہاری ہمت کیسے ہوئی ایسی نازیبا حرکت کرنے کی۔۔” ارمغان خان زادہ غرایا تھا جس پر وہ پوری شدت سے کانپ گئی تھی پاکیزہ خان زادہ ارمغان خان زادہ کی سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھتی بے بسی سے بے آواز رونے لگی تھی ارمغان خان زادہ نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا تو وہ منہ کے بل گری تھی بروقت ہاتھ زمین پر نہ رکھتی تو چہرہ بری طرح ماربل سے ٹکڑا جاتا مگر برا یہ ہوا کہ ہاتھ بری طرح ماربل سے لگے تھے جس سے اسے اپنے ہاتھوں میں درد کی لہر اٹھتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
جس پر وہ بیٹھ کر اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی آنسوؤں سے گال بھیگ چکا تھا اس کو اپنے ہاتھ پکڑتے دیکھ ارمغان خان زادہ کا غصہ پل میں جھاگ ہوا تھا وہ اس کے قریب بیٹھا تو وہ دور ہونے لگی تھی جس پر ارمغان خان زادہ نے افسوس سے اسے دیکھا اس کی تینوں بہنیں تو نظر بچاتے بھاگ چکیں تھی ابھی بس وہ دونوں ہی حال میں موجود تھے۔۔۔ ” دکھاؤ کیا ہوا ہے؟؟ ” ارمغان خان زادہ نے سخت لہجے میں کہا تو پاکیزہ خان زادہ نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔۔
ارمغان کو پھر سے غصہ آنے لگا تھا۔۔۔۔۔ ” آپ ان انسان نہ ہی ہیں۔۔۔۔” پاکیزہ نے روتے ہوے ہچکیوں سے کہا تھا پھر مشکل سے اٹھتی بھاگ کر اوپر اپنے پورشن میں جاتی غائب ہو گئی ارمغان خان زادہ جو اسے دیکھ رہا تھا گہرہ سانس لے کر رہ گیا وہ اسے تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا مگر غصے میں اسے تکلیف دے جاتا تھا جبکہ پاکیزہ اپنے کمرے میں جاتی شدت سے رو دی تھی۔۔۔ ” مجھے تم سے نفرت ہے ارمغان خان زادہ، نفرت ہے تم سے، شدید نفرت، تم نے ہمیشہ مجھے دکھ ہی دیے ھیں جب بھی سامنے آتے ہو ایک نئی تکلیف دے جاتے ہو، نفرت کرتی ہوں میں تم سے۔۔۔۔” وہ روتے ہوئے شدت سے اپنے بال نوچتی چلارہی تھی۔۔۔۔
اس کی آواز اس کے پورشن میں ہی دب جانی تھی نہ ارمغان کو اس کے چلانے کا علم ہو نا تھا نہ کسی اور کو، رات کا ڈنر تیار ہوا تو نور خان زادہ اس کو بلانے گئی مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا وہ سمجھ گئی کہ وہ ناراض ہو چکی ہے اسی لیے مایوسی سے واپس نیچے چلی گئی۔۔۔جبکہ پاکیزہ خان زادہ روتے روتے وہی ماربل پر ہی سو چکی تھی ارمغان خانزادہ نے ہمیشہ کی طرح ڈنر خاموشی سے کیا تھا اس نے یہ بات محسوس تو کی کہ اس کی بہنیں اداس ہیں مگر پاکیزہ خان زادہ کی کمی محسوس کر کے دھیان نہ دیا ڈنر کے بعد وہ اٹھا تو جاتے جاتے حر اسے بولا ” مجھے میرے کمرے میں کوفی دے دینا ” اتنا کہتا وہ رکا نہیں تھا نہ ہی اس نے حرا کے جواب کا انتظار کیا تھا حرانے اس کو جاتے دیکھ۔۔ “جی لا لا ضرور کہا تھا۔۔۔۔” پھر بے دلی سے سامنے رکھے کھانے کو دیکھا اور اٹھ کر کوفی بنانے چلی گئی
Story From The Novel
The excerpt introduces a tense yet emotionally layered relationship between Pakeeza Khanzada and Armaghan Khanzada. Pakeeza is the carefree, mischievous girl of the haveli, always laughing and enjoying life with her cousins despite living under the strict rules of the family. In contrast, Armaghan is feared by everyone for his cold personality, disciplined nature, and explosive temper. When he unexpectedly catches the girls dancing loudly in the haveli, his anger erupts, and he publicly humiliates Pakeeza, reinforcing the deep resentment she already carries against him because of painful incidents from their shared past.
Although Armaghan’s harshness leaves Pakeeza physically hurt and emotionally shattered, the moment he notices her injured hands, his anger fades into silent regret. However, his inability to express concern gently only widens the distance between them. Terrified and heartbroken, Pakeeza runs to her room, where she breaks down in tears, declaring her intense hatred for the man who has brought her nothing but pain. Meanwhile, Armaghan is left struggling with guilt, unable to understand why his concern always comes too late.
The chapter highlights the growing emotional conflict between two people who cannot tolerate each other’s presence yet remain deeply affected by one another. Pakeeza’s lively spirit clashes with Armaghan’s rigid personality, creating a relationship filled with fear, misunderstandings, and unspoken emotions. As the night ends in silence, both characters are left carrying emotional wounds that hint at a complicated journey of healing, confrontation, and perhaps unexpected change in the future.Download Novel By Clicking The Download Button Below