Mohabbat Ka Bereham Safar By PC Novels

Highlights From The Novel

” جن کی اٹینڈنس شارٹ ہے وہ لوگ فور اکلاس سے نکل جائیں مجھے اپنی کلاس میں غیر سنجیدہ اسٹوڈنٹس کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی آپ لوگوں کو ایگزام دینے کا کوئی حق ہے ” پروفیسر تبریز شاہ نے غصے سے اٹینڈنس شیٹ میز پر پٹختے ہوئے کہا تو پورے لیکچر ہال میں گہرا سناٹا چھا گیا۔ ان کی کڑک دار آواز کمرے میں گونجی تھی۔ تمام اسٹوڈنٹس کی سانسیں جیسے سینوں میں اٹک کر رہ گئی تھیں۔

“سر میری صرف ایک کلاس مس ہوئی تھی پلیز…. ” ایک اسٹوڈنٹ نے ہمت کر کے بولنا چاہا لیکن تبریز کی ایک گھوری نے اس کی زبان کو وہیں روک دیا۔ ” میں نے کہانہ۔۔۔۔۔ گیٹ آئوٹ مجھے کوئی وضاحت نہیں سنی۔ جن کے نام بورڈ پر لگے شارٹ اٹینڈنس نوٹس میں شامل ہیں وہ خاموشی سے باہر چلے جائیں۔۔۔” تبریز کا لہجہ برف کی طرح ٹھنڈا اور سپاٹ تھا۔ کلاس کے چند طالب علم چپ چاپ اپنے بیگز اٹھا کر باہر کی طرف قدم بڑھانے لگے لیکن تبریز کی تیز نظریں ابھی بھی پہلی قطار میں بیٹھی ایک لڑکی پر ٹکی ہوئی تھیں جو نیچے منہ کیے اپنے دوپٹے کے کونے کو شدت سے مسل رہی تھی۔۔

” رول نمبر اٹھارہ ” تبریز کی آواز میں بلا کی سختی تھی کون ہے رول نمبر اٹھارہ۔۔ آپ گئی نہیں ابھی تک؟ ” نمرہ کا دل جیسے ایک پل کے لیے دھڑکنا بھول گیا۔ اس نے آہستہ سے سر اٹھایا اور بے بسی سے تبریز کی طرف دیکھا۔ وہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی مکمل طور پر انجان بن رہا تھا جیسے اسے پہچانتا ہی نہ ہو۔ “سر۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔” نمرہ کی آواز گلے میں ہی اٹک کر رہ گئی۔” بولنا نہیں آتا آپ کو؟ یا میری بات سمجھ نہیں آرہی؟ میں نے کہا جن کی اٹینڈنس شارٹ ہے وہ باہر جائیں۔ “

تبریز نے اپنے ہاتھ میں تھاما سرخ پین میز پر رکھتے ہوئے کہا۔ ” وہ سر ۔۔۔۔۔ میری شادی ہو گئی ہے تو میں۔۔۔۔ “نمرہ نے نظریں جھکا کر انتہائی منمناتے ہوئے صفائی پیش کرنی چاہی۔۔۔” اسی لیے پچھلے ہفتے میری کچھ کلاسز مس ہو گئی تھیں۔۔۔۔۔” ” تو پڑھائی چھوڑ دیں ” تبریز نے انتہائی سفاکی سے اس کی بات کاٹ دی ” کس نے کہا تھا آپ سے کہ شادی کے بعد بھی یونیورسٹی آکر پروفیسر اور باقی اسٹوڈنٹس کا وقت برباد کریں؟ اگر آپ کے لیے گھر کے کام کاج اور شادی کی مصروفیات اتنی ہی اہم ہیں تو یہاں بیٹھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔۔۔ “

“سر لیکن میری بات تو سنیں۔۔۔۔ میں نے اسائنمنٹ بھی مکمل کر لیا ہے اور۔۔۔۔ “نمرہ کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی وہ مسلسل منت بھرے انداز میں اسے دیکھ رہی تھی مگر تبریز کا دل پگھلنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ “مجھے آپ کی کوئی کہانی نہیں سنی مس نمرہ یونیورسٹی کے کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں اور وہ سب کے لیے برابر ہیں۔ ” تبریز نے انتہائی بیزاری سے اپنے فولڈر کے صفحات پلٹتے ہوئے کہا ” آج شادی کا بہانہ بنارہی ہیں کل کو بولیں گی پریگنینٹ تھی اس لیے نہیں آئی”

تبریز کے ان سفاکانہ اور بے رحم الفاظ کے ادا ہوتے ہی پوری کلاس کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ ہر اسٹوڈنٹ نے حیرت اور صدمے سے پہلے پروفیسر تبریز اور پھر نمرہ کو دیکھا۔ کلاس میں عجیب سی خاموشی چھا گئی۔سعد نے پہلو بدلتے ہوئے برابر میں بیٹھی عائشہ کی طرف دیکھا اور آہستہ سے بولا ” یار سر تبریز آج کچھ زیادہ ہی سخت نہیں ہو گئے؟؟ اتنی ذلت تو انہوں نے آج تک کسی اسٹوڈنٹ کی نہیں کی۔” عائشہ نے گھبڑا کر نمرہ کو دیکھا جس کا جھکا ہوا سر مزید جھک چکا تھا اور اس کے سرخ ہوتے چہرے پر شرمندگی اور تکلیف کے واضح آثار تھے۔

” سر نمرہ واقعی سچ کہہ رہی ہے اس کی شادی تھی اس لیے وہ۔۔۔۔ ” عائشہ نے ہمت کر کے اپنے دوست کے دفاع میں بولنے کی کوشش کی۔ “مس عائشہ ” تبریز نے گردن موڑ کر عائشہ کو سخت ترین نگاہوں سے گھورا ” اپنے کام سے کام رکھیں۔ اگر آپ کو اپنے رول نمبر کی پروا ہے تو خاموشی سے اپنی نشست پر بیٹھی رہیں ورنہ اگر آپ کو اپنی دوست سے اتنی ہی ہمدردی ہے تو آپ بھی ان کے ساتھ تشریف لے جاسکتی ہیں۔ ڈونٹ ٹرائی ٹو پیچ می ” عائشہ نے فوراً اپنے لب بھینچ لیے اور سعد نے اسے اشارے سے خاموش رہنے کو کہا۔

تبریز نے اٹینڈنس شیٹ اٹھائی اور نمرہ کے رول نمبر ۱۸ کے آگے سرخ پین سے ایک بڑا سا کراس لگا دیا۔ اس کے چہرے پر کسی قسم کا پچھتاوا یا رحم کا کوئی احساس تک نہیں تھا۔ ” گیٹ اؤٹ آف مائی کلاس نکل جائیں اور دوبارہ میری کلاس میں آنے کی زحمت بالکل مت کیجئے گا۔ ” تبریز نے گھڑی پر وقت دیکھتے ہوئے خشک لہجے میں حکم سنایا۔ نمرہ نے لرزتے ہاتھوں سے میز پر رکھا اپنا بیگ اٹھایا۔ اس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ صاف محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے ایک نظر تبریز پر ڈالی جو اب بالکل بے نیازی سے وائٹ بورڈ پر کچھ لکھنے میں مصروف ہو چکا جیسے اس کے لیے نمرہ کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔

نمرہ اپنی سسکیاں دباتی نظریں نیچے کیے سب کے سامنے سے گزر کر کلاس روم کے دروازے کی طرف بڑھنے لگی۔ پوری کلاس کی نظریں اس کے تعاقب میں تھیں۔ وہ اپنے بہتے ہوئے آنسوؤں کو دنیا کی نظروں سے چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ نہ جانے وہ کس بات کا بدلہ لے رہا تھا کس بات کی سزا دے رہا تھا؟ جیسے ہی نمرہ نھ روم کا دروازہ بند کیا تبریز نے ہاتھ میں تھاما مارکر ڈسک پر رکھا اور ڈائس پر جا کر کھڑا ہو گیا۔ ” اوپن یور بکس پیچ نمبر پینتالیس نکالیں سب۔۔۔۔۔” تبریز کے اس نارمل اور خشک لہجے نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ اسے اس ہنگامے اور کسی کی ذات کی تذلیل سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔

Story From The Novel


Professor Tabrez Shah, known for his strict discipline, storms into the lecture hall and orders every student with short attendance to leave immediately, refusing to hear any excuses. The entire class falls silent as several students quietly walk out. However, Tabrez’s attention remains fixed on Nimra Roll No. 18, who sits frozen in fear. Despite clearly recognizing her, he pretends she is just another student and harshly demands that she leave the classroom.

With trembling hands, Nimra explains that she recently got married, causing her to miss a few classes. Instead of showing understanding, Tabrez coldly tells her to quit her studies if marriage is more important, dismissing her efforts and even mocking the possibility of future pregnancy as another excuse. His cruel words shock the entire class, leaving everyone speechless. When Nimra’s friend Ayesha tries to defend her, Tabrez silences her with an intimidating warning.

After marking a large red cross beside Nimra’s attendance record, Tabrez orders her never to return to his class. Fighting back tears and enduring the humiliation of walking past her classmates, Nimra quietly leaves the lecture hall. The moment the door closes behind her, Tabrez calmly resumes teaching as though nothing has happened, making it painfully clear that he has no intention of showing sympathy. Yet beneath his cold behaviour lies an unanswered questionwhy is he punishing Nimra with such personal cruelty, and what secret from their past has turned him into her harshest tormentor?Click Below Download Button To Download The Novel

DOWNLOAD

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *