
Highlights From The Novel
“شش۔بہت شور ہو گیا۔۔۔اب کمرہ خالی کرو میں اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا ہوں۔ ” وہ بے باکی سے بولا تو اس کی کزنز کانوں کو ہاتھ لگاتیں کمرے سے باہر چلی گئیں۔ جبکہ وجیہہ خانزادہ گہرا مسکراتے اپنی سیج پر پتھر بنی اپنی دلہن کو دیکھنے لگا۔”آہاں۔۔۔تم خاموش بہت اچھی لگتی ہو ۔ اسی بات پر تمہیں ایک نہیں دو منہ دکھائی کے تحفے۔۔۔” یہ کہتے وہ آگے بڑھا تھا اور اگلے لمحے اس کے منہ پر دو تھپڑ رسید کیے تھے کہ وہ لڑھک کر بیڈ سے نیچے گری تھی۔۔۔اور خون ہوتی نظروں سے وجیہہ کو دیکھنے لگی تھی۔کیا وہ جانتی نہیں تھی کہ اچانک دلہا کیسے غائب ہوا اور عزت بچانے اس کا نکاح وجیہہ سے کیوں کیا گیا؟ یقینا یہ سب وجیہہ خانزادہ کا ہی پلان تھا اس سے بدلہ لینے کا۔”پورے خاندان کے سامنے میرے منہ پر تھوکا تھا نہ تم نے، اب تم اپنا تھوکا ہی چاٹو گی۔۔۔ “
سرخ گلابوں کی تیز سحر انگیز خوشبو پورے کمرے میں پھیلی ہوئی تھی کمرے کے وسط میں موجود شاہی بیڈ جسے سرخ اور سفید پھولوں کی لڑیوں اور مدہم سرخ روشنیوں سے انتہائی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا اس وقت ایک مقتل گاہ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ اس سیج کے عین وسط میں عائزہ خانزادہ خاندان کی اکلوتی اور لاڈلی بیٹی اپنے بھاری سرخ عروسی لہنگے میں ملبوس گھونگھٹ نکالے بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھوں پر لگی گہری مہندی اور زرق برق زیورات اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے تھے لیکن اس گھونگھٹ کے پیچھے چھپا چہرہ خوف غصے اور شدید بے یقینی کے ملے جلے تاثرات سے زرد ہو چکا تھا۔ وہ کسی مورت کی طرح پتھر بنی بیٹھی تھی جس کے اندر سانسیں تو چل رہی تھیں مگر روح جیسے کہیں بہت دور خوف کے اندھیروں میں بھٹک رہی تھی۔ کمرے کے باہر کزنز کا ہنستا گاتا شور مچاتا ہوا ہجوم تھا جو روایتی انداز میں دولہا کو تنگ کر رہا تھا۔ زینب مہرین اور حویلی کی دوسری لڑکیاں اونچی آواز میں قہقہے لگا رہی تھیں اور وجیہہ خانزادہ سے نیگ مانگنے کے لیے بضد تھیں۔ عائزہ کے کانوں میں ان کی آوازیں ہتھوڑوں کی طرح لگ رہی تھیں۔ وہ اندر ہی اندر تڑپ رہی تھی کہ یہ سب کیا ہو گیا؟ چند گھنٹے پہلے تک وہ شہریار کی دلہن بننے کے خواب دیکھ رہی تھی اور اب وہ اس جاہل گنوار جنگلی وجیہہ خانزادہ کے کمرے میں قید تھی۔۔ اچانک کمرے کا دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا اور کزنز کا شور ایک دم دگنا ہو گیا۔ وجیہہ خانزادہ چوڑے شانے چھ فٹ لمبا قد کلف لگے سفید مردانہ سوٹ پر سیاہ واسکٹ پہنے ہاتھ میں اپنی روایتی گھڑی باندھے پورے وقار اور بے باکی سے اندر داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب پراسرار سی مسکراہٹ تھی جسے باہر کھڑی کزنز اس کی خوشی سمجھ رہی تھیں۔ “بھئی وجیہہ بھائی ایسے کیسے کمرے میں جانے دیں گے؟ پہلے ہمارا نیگ نکالیں پھر اپنی ملکہِ عالیہ سے ملنے کی اجازت ملے گی” مہرین نے شرارت سے راستہ روکتے ہوئے کہا۔ وجیہہ نے ایک گہرا سانس لیا اپنی مخصوص رعب دار نظروں سے سب کزنز کو دیکھا اور پھر انتہائی دھیمے مگر کاٹ دار لہجے میں بولا “اشش۔۔بہت شور ہوگیا۔۔اب کمرہ خالی کرو میں اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا ہوں “
اس کی اس بے باک اور کھلی بات پر زینب اور مہرین نے شرماتے ہوئے اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا۔ حویلی کی دوسری لڑکیاں بھی کھلکھلا کر ہنس پڑیں اور ایک دوسرے کو کہنی مارتی ہوئی وجیہہ کو چھیڑتی ہوئی تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئیں۔ وجیہہ نے دروازہ دھکیلا۔ تو وہ آہستہ سے لاک ہو گیا۔ اس آواز نے عائزہ کے دل کی دھڑکن کو جیسے ایک پل کے لیے روک دیا۔ کمرے میں اب مکمل ہولناک خاموشی چھا چکی تھی دروازہ بند ہوتے ہی وجیہہ خانزادہ کے چہرے سے وہ نرمی اور شرافت کا تاثر ختم ہو گیا۔ اس کے خالی چہرے پر گہری طنزیہ اور سفاک مسکراہٹ ابھر آئی تھی۔ وہ حویلی کا روایتی سردار تھا جس کی ایک آنکھ کے اشارے پر لوگ کٹ مرتے تھے لیکن عائزہ کے سامنے وہ ہمیشہ ایک عاشق بنا رہا تھا۔ پر آج سب کچھ بدل چکا تھا۔ وہ نپے تلے قدموں سے بیڈ کی طرف بڑھنے لگا۔ عائزہ کو گھونگھٹ کے اندر سے اس کے بڑھتے ہوئے قدموں کا عکس صاف نظر آ رہا تھا۔ اس کا پورا جسم خوف سے کانپنے لگا ہاتھ پیر برف کی طرح ٹھنڈے ہو گئے۔ وہ جو خود کو بہت بہادر پڑھی لکھی اور ماڈرن سمجھتی تھی اس وقت وجیہہ کی موجودگی کے سحر اور خوف سے اپنے جسم کو ہلانے کے قابل بھی نہیں پا رہی تھی۔
وجیہہ بیڈ کے بالکل قریب آ کر رک گیا۔ اس نے جھک کر عائزہ کے چہرے سے وہ سرخ ریشمی گھونگھٹ ایک ہی جھٹکے سے الٹ دیا۔ عائزہ نے ڈر کر اپنی آنکھیں بند کر لیں لیکن پھر خود کو سنبھالتے ہوئے اپنی بڑی بڑی آنکھیں کھول کر وجیہہ کو دیکھا۔ وجیہہ نے اس کے خوبصورت بناؤ سنگھار سے سجے چہرے کو دیکھا اور ایک طنزیہ قہقہہ لگایا۔ اس کا لہجہ اب اتنا سرد تھا کہ عائزہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ گئی۔
“اہاں۔۔ تم خاموش بہت اچھی لگتی ہو ۔۔ اسی بات پر تمہیں ایک نہیں دو منہ دکھائی کے تحفے ملیں گے۔۔۔” یہ جملہ کہتے ہی وجیہہ خانزادہ ایک پل کے لیے رکا۔ عائزہ ابھی اس کے اس عجیب جملے کا مطلب سمجھ ہی رہی تھی کہ اگلے ہی لمحے جو ہوا وہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا وجیہہ نے اپنا دایاں ہاتھ فضا میں لہرایا۔
ایک انتہائی زوردار سنسناتا ہوا تھپڑ عائزہ کے نازک بائیں گال پر رسید ہوا۔ عائزہ کے منہ سے ایک چیخ بھی نہ نکل سکی کہ وجیہہ نے اسی رفتار سے اپنا بایاں ہاتھ گھمایا اور دوسرا زوردار تھپڑ اس کے دوسرے گال پر مارا۔ تھپڑ اتنے اچانک اور اس قدر وحشیانہ طاقت سے مارے گئے تھے کہ عائزہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی۔ اس کا سر چکرایا آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور وہ بیڈ سے لڑھک کر نیچے بچھے ہوئے قالین پر جا گری۔ اس کے سر کا بھاری ٹیکا اور جھومر ٹوٹ کر بکھر گئے بالوں کی سیٹنگ خراب ہو گئی اور سہاگ کا جوڑا جیسے مچڑ سا گیا۔۔۔۔ وہ چند سیکنڈ کے لیے بالکل شاک کی حالت میں قالین پر پڑی رہی۔ اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ یہ اس کے ساتھ ہوا ہے۔ وہ عائزہ جس پر کبھی اس کے باپ نے اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی آج اپنی سہاگ رات کے پہلے ہی منٹ میں بیڈ سے نیچے پھینک دی گئی تھی۔ اس کے گالوں پر وجیہہ کی انگلیوں کے سرخ نشان ابھر آئے تھے اور ہونٹ کے کونے سے خون کی ایک باریک دھار نکل کر اس کے ٹھوڑی کی طرف بہنے لگی تھی۔
عائزہ نے اپنے کانپتے ہاتھوں کا سہارا لے کر اپنے جسم کو اوپر اٹھایا۔ اس کا سرخ دوپٹہ اس کے شانوں سے ڈھلک چکا تھا اور بال چہرے پر بکھرے ہوئے تھے۔ اس نے اپنے سر کو جھٹکا اور خون آشام نظروں سے وجیہہ کو دیکھا۔ ان نظروں میں اب صرف درد نہیں تھا بلکہ شدید غصہ صدمہ اور انتقام کی آگ تھی۔ لیکن اسی لمحے جیسے اس کے دماغ کے بند خانے ایک ایک کر کے کھلنے لگے۔ اس کے ذہن میں بجلی کی طرح سچائی کوندتی چلی گئی۔ وہ سوچنے لگی
شہریار۔۔۔ جو اس شادی کے لیے اتنا پرجوش تھا وہ عین وقت پر بھلا غائب کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ بزدل تو تھا پر اتنا بھی نہیں کہ مجھے یوں چھوڑ جاتا۔ اور پھر۔۔۔ حویلی کی عزت بچانے کے نام پر جب بابا اور دادا جان سر پکڑ کر بیٹھے تھے تو یہ وجیہہ خانزادہ اچانک ایک مسیحا بن کر کیسے نمودار ہو گیا؟ اس نے کیوں اتنی آسانی سے مجھ جیسی لڑکی سے نکاح کرنا قبول کر لیا جو اس سے نفرت کرتی تھی؟ عائزہ کی آنکھیں حیرت سے مزید پھیل گئیں۔ اسے سمجھ آ گیا تھا کہ یہ کوئی اتفاق نہیں تھا۔ شہریار کا غائب ہونا خاندانی عزت کا داؤ پر لگنا اور پھر وجیہہ کا اس سے نکاح پڑھوانا۔۔۔ یہ سب کوئی قسمت کا کھیل نہیں تھا بلکہ یہ سب وجیہہ خانزادہ کا ہی ایک انتہائی خوفناک منظم اور شاطرانہ ماسٹر پلان تھا جو اس نے عائزہ سے اپنا بدلہ لینے کے لیے تیار کیا تھا وہ جان چکی تھی کہ وہ اس کے بچھائے ہوئے جال میں بری طرح پھنس چکی ہے۔ وجیہہ خانزادہ نے اسے قالین پر گرے دیکھا تو اس کے چہرے پر کوئی رحم یا پشیمانی نہیں آئی۔ وہ اپنی جگہ سے ہلا اور قالین پر بیٹھی عائزہ کے سامنے گھٹنوں کے بل جھک گیا۔ اس کا چہرہ اب عائزہ کے چہرے کے بالکل قریب تھا۔ اس کی آنکھوں میں عائزہ کے لیے صرف اور صرف وحشت اور نفرت ابال ابال کھا رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ عائزہ کچھ بولتی یا پیچھے ہٹتی وجیہہ نے عائزہ کے سامنے سے بکھرے ہوئے بال مٹھی میں دبوچ لیے۔ اس نے بالوں کو اتنی بے رحمی سے کھینچا کہ عائزہ کا چہرہ اوپر اٹھنے پر مجبور ہو گیا اور اس کے حلق سے درد کی ایک دبی دبی چیخ نکل گئی۔ وجیہہ نے اپنا چہرہ اس کے کان کے قریب کیا اور سخت لہجے میں چبا چبا کر کہا
“پورے خاندان کے سامنے میرے منہ پر تھوکا تھا نہ تم نے اب تم اپنا تھوکا ہی چاٹوگی” اس کے الفاظ عائزہ کے کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح گرے۔ اسے ماضی کا وہ منظر یاد آ گیا جب اس نے وجیہہ کو سب کے سامنے ذلیل کر کے اس کے منہ پر تھوکا تھا اور رشتہ توڑا تھا۔ وجیہہ کی گرفت اس کے بالوں پر مزید مضبوط ہو گئی اور اس کی سرد آنکھیں عائزہ کے وجود کو جھلسانے لگیں۔ عائزہ اس وقت شدید ترین خوف اور زندگی کے سب سے بڑے شاک کی حالت میں پتھر کی مورت بنے اسے دیکھ رہی تھی جہاں نہ وہ رو سکتی تھی اور نہ کچھ کہہ سکتی تھی۔ اس کی زبان جیسے تالو سے چپک گئی تھی۔۔۔
Story Of The Novel
Surmai Ankho Ka Jadu tells the story of Miral Bakhsh a kind and innocent orphan who lives with her cruel aunt and uncle. Hoping to change her life, she goes to a job interview at a luxurious shopping mall, but her dreams are shattered when armed masked men attack the building. During the chaos, she encounters the mysterious leader, Wajdan Afandi, who is captivated after noticing a silver ring on her finger—a ring that connects her to a forgotten promise from his past.
As Wajdan investigates Miral’s identity, he discovers that she is the same girl his late mother had chosen to be his future wife years ago. Determined to fulfil that promise, he visits her home with his family to ask for her hand in marriage. Although Miral is terrified because she recognises him as the masked man from the mall, Wajdan is determined to protect her from the hardships of her life, including her greedy relatives and a man who constantly harasses her.
The novel follows Miral and Wajdan as they navigate an unexpected relationship filled with misunderstandings, family secrets, dangerous enemies, and emotional challenges. As they spend more time together, fear slowly turns into trust, and their forced connection blossoms into a heartfelt romance. Surmai Ankho Ka Jadu is a gripping blend of romance, suspense, action, and mystery that explores destiny, love, and the power of keeping promises.Download Novel By Clicking The Download Button