
Highlights From The Story
” پپ۔۔۔ پلیز یہ میری ماں کی آخری نشانی ہے اسے مت چھینیں میرال ڈر سے کانپتی سامنے کھڑے نقاب پوش کی دشت سے بھرپور سب9⁹ز آنکھوں کو دیکھتے بولی تھی وہ یتیم لڑکی اپنے چاچا اور چچی کے رحم و کرم پر اُن کی ٹھوکروں پر جی رہی تھی چچی کے کہنے پر ایک مال میں جاب کیلئے آئی تھی آج اُسکا پہلا دن تھا یہاں جب ڈاکوؤں نے وہاں حملہ کر دیا وجدان آفندی جو اس ڈری سہمی لڑکی کے ماتھے پر گن رکھے کھڑا تھا اُسکی انگلی میں پہنی انگھوٹی دیکھ اُسکی آنکھیں سرخ ہوئی تھی اس انگھوٹی کو وہ کیسے بھول سکتا تھا جسے اُسکی ماں اُسکے سامنے اپنی چھوٹی سی بہو کو پہنائی تھی کچھ ہی منٹوں میں اُسکا سارا ڈیٹا نکال کر وہ اگلے دن اُسکے گھر میں رشتہ لیکر پہنچ گیا تھا جبکہ اپنے سامنے ڈاکو کو دیکھ کر میرال کی جان ہتھیلی پر آئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
شہر کے سب سے مہنگے اور معروف شاپنگ مال کا ٹاپ فلور چکا چوند روشنیوں سے نہایا ہوا تھا۔ گندمی رنگت، بڑی بڑی ہرنی جیسی آنکھیں، ہلکے آسمانی شلوار سوٹ اور بلیک چادر میں لپٹی میرال پاکیزگی، حیا اور دلکش خوبصورتی کا حسین امتزاج لگ رہی تھی۔۔ مخملی صوفے پر بیٹھی خود کو بہت اجنبی محسوس کر رہی تھی۔ اس کے اردگرد موجود لڑکیاں جدید فیشن کے ملبوسات، گہرے میک اپ اور فرفر انگلش بولتی ہوئی اس کے اعصاب پر سوار ہو رہی تھیں۔۔۔۔ میرال نے اپنے دوپٹے کو درست کیا اور نظریں جھکا لیں۔۔ “یا اللہ! بس یہ جاب دلوا دیں، چچی کے روز روز کے طعنوں سے میری جان چھوٹ جائے گی۔ میں بہت محنت کروں گی”۔ اس نے دل ہی دل میں التجا کی۔وہ جانتی تھی کہ یہ جاب اس کے لیے کتنی ضروری ہے۔ چچی کے طنز اور چچا کی بیزاری سے بچنے کا یہی ایک راستہ تھا۔۔اچانک اس کی نظر برابر میں بیٹھی ایک لڑکی پر پڑی جس کا لباس ضرورت سے زیادہ مختصر تھا۔ میرال نے فوراً جھٹکے سے رخ پھیرا اور زیرِ لب استغفار پڑھا۔ “ہائے اللہ! یہ کیا دیکھ لیا میں نے؟ میرال فضول باتیں مت سوچ، تجھے بس اپنے کام سے مطلب ہونا چاہیے”۔ ابھی وہ اپنی گھبراہٹ پر قابو پانے کی کوشش ہی کر رہی تھی کہ ایک اسمارٹ سی لڑکی کیبن سے باہر آئی اور پکارا۔۔ “مس میرال بخش! آپ اندر تشریف لے جائیں، سر آپ کا انتظار کر رہے ہیں”۔ میرال نے ایک لمبا سانس لیا، اپنا بیگ سنبھالا اور جیسے ہی کرسی سے اٹھی، پورے فلور پر ایک زور دار دھماکہ ہوا جس سے شیشے کے بھاری دروازے چکنا چور ہو گئے۔۔ “نیچے جھک جاؤ! کوئی اپنی جگہ سے نہیں ہلے گا!”۔ مال میں افراتفری مچ گئی۔کالے لباس اور نقاب میں ملبوس پانچ چھ مسلح افراد اندر داخل ہوئے۔ ان کے ہاتھوں میں جدید اسلحہ دیکھ کر وہاں موجود سیکیورٹی گارڈز کی بھی ہمت جواب دے گئی۔۔۔ “کوئی اپنی جگہ سے نہیں ہلے گا! جو ہلا، وہ اگلا سانس نہیں لے پائے گا!”۔ ایک گرج دار اور پاٹ دار آواز پورے ہال میں گونجی۔۔ نقاب پوش مسلح افراد ٹاپ فلور پر قابض ہو چکے تھے۔ فیشن ایبل لڑکیاں جو ابھی تک نخوت سے بیٹھی تھیں، چیختے ہوئے میزوں کے نیچے چھپنے لگیں۔۔۔ میرال کا دل حلق میں آ گیا۔ افراتفری اور چیخ و پکار کے بیچ میرال اپنی جان بچانے کے لیے اندھا دھند بھاگ رہی تھی۔ ایکدم سے میرال سخت چٹان نما وجود سے زور دار طریقے سے ٹکرائی۔ توازن برقرار نہ رکھ سکی اور گرتے گرتے بچی۔ سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔ اس نقاب پوش نے گن کی ٹھنڈی نالی اس کی پیشانی پر رکھ دی۔ میرال کا پورا چہرہ خوف سے پیلا پڑا۔ سامنے کھڑے شخص کی سبز آنکھوں کی وحشت اور تپش اسے جھلسا رہی تھی۔۔ “کیوں؟ کیا کسی اولمپک میراتھون ریس میں حصہ لیا ہے تم نے؟ اتنی بے تابی سے کدھر بھاگ رہی تھی، ہرنی؟”۔ نقاب پوش کی آواز دھیمی لیکن کاٹ دار تھی، جیسے پگھلا ہوا سیسہ کانوں میں اتر رہا ہو۔۔ میرال کا حلق خشک ہو گیا، اس کے ہونٹ لرزنے لگے۔ خوف کی ایک لہر اس کے پورے جسم میں دوڑ گئی۔ وہ دو قدم پیچھے ہٹی۔ “پ۔۔۔ پلیز۔۔۔ مجھے مت ماریں۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا، مجھے چھوڑ دیں، میں تو بس یہاں جاب کے لیے آئی تھی،”۔ میرال کی آواز لرز رہی تھی اور آنسو اس کے گالوں پر بہنے لگے۔ نقاب پوش نے گن آہستہ سے نیچے کی، فاصلہ ختم کرتے ہوئے اس کے قریب آیا۔۔۔ “تم۔۔۔ تم میرے پاس کیوں آ رہے ہو؟”۔ وہ ہکلائی، اس کا لہجہ مزید خوفزدہ ہو گیا۔ اس نے مزید پیچھے ہٹنے کی کوشش کی۔۔ نقاب پوش کے چہرے پر نقاب کے باوجود ایک طنزیہ مسکراہٹ کا گمان ہوا۔ وہ رکا نہیں، بلکہ ایک ایک قدم نپے تلے انداز میں اس کی طرف بڑھاتا رہا۔ “آؤں گا۔۔۔ بالکل آؤں گا۔ کیا کر لو گی تم؟”۔ اس کے لہجے میں چیلنج تھا۔۔ میرال پیچھے دیوار سے جا لگی۔ دیوار سے ٹکراتے ہی اس کی کمر میں درد کی ایک شدید لہر اٹھی۔ چچی کے دئیے زخم ابھی تازہ تھے۔۔ وہ بے بسی سے دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی۔”مجھے جانے دیں۔۔۔”۔ اس نے روہانسی آواز میں کہا، اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔۔ نقاب پوش نے اس کے چہرے پر تکلیف اور بے بسی کے رنگ دیکھے، مگر اس کا دل موم نہ ہوا۔ “کیوں؟ آخر تمہارا مجھ سے کیا تعلق ہے کہ میں تمہیں جانے دوں؟”۔ وہ دیوار پر اس کے سر کے دونوں طرف ہاتھ رکھ کر جھکا۔ اسے اپنے حصار میں لے لیا۔۔ “ب۔۔۔ بہن سمجھ لو مجھے”۔ میرال نے آخری حربے کے طور پر کہا۔ اسے امید تھی کہ شاید اس پتھر دل انسان پر اثر کر جائے۔۔ اسکی آنکھوں میں حیرت ابھری۔۔ “استغفر اللہ! مجھے بہنوں کی کمی نہیں ہے، الحمدللہ۔ البتہ۔۔۔”۔ اس نے جھک کر اپنی سبز آنکھیں اس کی خوفزدہ آنکھوں میں گاڑ دیں۔ “الببتہ مجھے ایک بیوی چاہیے، خوبصورت سی، بالکل تمہاری طرح”۔ اس نے ایک آنکھ دبا کر شرارتی انداز میں کہا۔۔ میرال کی روح جیسے فنا ہو گئی۔۔
…..
دیکھو! خبردار اگر تم نے ایسی بات دوبارہ کی۔ میں ویسی لڑکی نہیں ہوں، مجھ سے ‘فری’ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے”۔ وہ بمشکل بولی تھی۔۔ وہ اپنی انگلی اٹھائے ہوئے اسے تنبیہ کر رہی تھی، جب اچانک نقاب پوش کا وجود ساکت ہو گیا۔ اس کی نظریں میرال کی انگلی میں پہنی انگوٹھی پر جم سی گئیں۔ اس کا سانس ایک لمحے کے لیے رک گیا۔۔ “اپنا ہاتھ دکھاؤ”۔ اس نے میرال کے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا۔۔ میرال کی صبیح پیشانی پر شکنیں ابھری۔۔ “کیوں دکھاؤں؟ تم اب حد سے بڑھ رہے ہو، ڈاکو”۔ وہ غصے سے انگلی اٹھا کر گویا ہوئی۔۔” آئی سیڈ ہاتھ دکھاؤ مجھے اپنا”۔ اُسکی رواں انگریزی سن کر میرال چند لمحوں کیلئے حیران رہ گئی۔۔ “ہائے… ڈاکو انگریزی بھی جانتا ہے؟ بڑا پڑھا لکھا ڈاکو ہے بھئی”۔ وہ دل ہی دل میں عجیب سے تاثر سے اُسے دیکھنے لگی مگر اگلے ہی لمحے اُسے غصہ آیا۔۔ وجدان نے بنا کچھ کہے اچانک اُسکی کلائی پکڑ لی۔۔ میرال چونک اٹھی۔۔ “چھوڑو مجھے”۔ وہ اسکی کلائی چھڑوانے کو مچلی۔۔ وہ خاموشی سے اُسکی انگلی میں پہنی چاندی کی انگھوٹی کو بغور دیکھنے لگا۔۔ وہ اسے ہزاروں میں بھی پہچان سکتا تھا۔۔وہ اس انگوٹھی کو کیسے بھول سکتا تھا ؟۔اچانک اُسکے دماغ میں برسوں پرانا منظر ابھرا۔۔ اُسکی ماں مسکراتے ہوئے ایک چھوٹی سی بچی کے ہاتھ میں یہی انگھوٹی پہنا رہی تھیں۔۔ “یہ میری بہو ہے… وجدان کی امانت”۔ وجدان کی آنکھوں کا رنگ پل بھر میں بدلا۔ سبز رنگت میں خون اتر آیا۔۔ میرال خوفزدہ ہوکر مزید دیوار سے لگ گئی۔۔۔” یہ انگوٹھی کہاں سے آئی؟”۔ اس نے دھاڑ کر پوچھا۔ “پپ۔۔۔ پلیز یہ میری ماں کی آخری نشانی ہے، اسے مت چھینیں۔۔۔”۔ میرال ہچکیوں سے روتے ہوئے التجا کرنے لگی۔۔ وجدان نے بغور اسے دیکھا تھا۔ “چھوڑیں مجھے۔۔۔ میرا ہاتھ چھوڑیں! یہ انگوٹھی نہیں دوں گی میں”۔ وہ اس کی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑوانے لگی۔۔۔ وجدان نے اسکی کلائی پکڑ کر اسے جھٹکا دیا۔۔ وہ اس کے کشادہ سینے کا حصہ بنی۔ “میں نے پوچھا کہاں سے آئی یہ انگوٹھی تمہارے پاس؟ بولو!”۔ وجدان نے اسے جھنجھوڑا۔۔ “م۔۔۔ میری ماں نے دی تھی۔۔۔ مرنے سے پہلے”۔ میرال اب پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔اس کے ہاتھ کی گرفت خود بخود ڈھیلی پڑ گئی۔ وجدان نے ایک پل کے لیے میرال کے چہرے کو دیکھا۔۔ “تمہارا نام کیا ہے؟”۔ وجدان نے دبی دبی آواز میں پوچھا۔ “م۔۔۔ میرال۔۔۔ میرال بخش”۔ اس نے ہچکی لیتے ہوئے جواب دیا۔۔ وہ اس نام پر پگھل کر موم کا ڈھیر ہوا۔۔ ‘بخش’۔۔۔ وہی نام جس کی تلاش میں اس نے برسوں خاک چھانی تھی۔ اس نے ایک قدم پیچھے ہٹ کر گن اپنی بیلٹ میں اڑسی۔۔۔ “بھائی! کام ہو گیا، پولیس پہنچنے والی ہے، نکلیں یہاں سے؟”۔ ایک نقاب پوش نے اسے ٹوکا۔۔ “جاؤ تم یہاں سے… کوئی جاب کرنے کی ضرورت نہیں”۔ وجدان نے اس کے بھیگے چہرہ سے نظریں ہٹائے بغیر سرد لہجے میں کہا۔۔ میرال چند لمحے اُسے حیرت سے دیکھتی رہی پھر بےیقینی سے بولی۔ “س۔۔۔ سچ میں؟ جاؤں کیا؟”۔ وجدان نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلایا۔۔ میرال نے ایک سیکنڈ بھی ضائع نہیں کیا۔ سر پٹ وہاں سے بھاگ گئی۔۔ وجدان اُسے جاتا دیکھتا رہا۔۔ “مجھے اس لڑکی کی ساری انفارمیشن چاہیے”۔ وہ دھیمی مگر رعب دار آواز میں بولا۔۔ دوسرے آدمی نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
Story Of The Novel
Surmai Ankho Ka Jadu tells the story of Miral Bakhsh a kind and innocent orphan who lives with her cruel aunt and uncle. Hoping to change her life, she goes to a job interview at a luxurious shopping mall, but her dreams are shattered when armed masked men attack the building. During the chaos, she encounters the mysterious leader, Wajdan Afandi, who is captivated after noticing a silver ring on her finger—a ring that connects her to a forgotten promise from his past.
As Wajdan investigates Miral’s identity, he discovers that she is the same girl his late mother had chosen to be his future wife years ago. Determined to fulfil that promise, he visits her home with his family to ask for her hand in marriage. Although Miral is terrified because she recognises him as the masked man from the mall, Wajdan is determined to protect her from the hardships of her life, including her greedy relatives and a man who constantly harasses her.
The novel follows Miral and Wajdan as they navigate an unexpected relationship filled with misunderstandings, family secrets, dangerous enemies, and emotional challenges. As they spend more time together, fear slowly turns into trust, and their forced connection blossoms into a heartfelt romance. Surmai Ankho Ka Jadu is a gripping blend of romance, suspense, action, and mystery that explores destiny, love, and the power of keeping promises. Click Below Download link To Download The Novel DOWNLOAD