Most attractive Sneak peeck of Dastan e dil:

” ہمارے یہاں صرف وٹہ سٹہ ہوتا ہے ۔ اگر آپکا بیٹا میری بہن سے شادی کرنا چاہتا ہے تو بدلے میں مجھے آپکی بیٹی اپنے نکاح میں چاہیے۔” سالار شاہ کے جواب پر سب کو سانپ سونگھ گیا۔ ” ” لیکن ہماری بیٹی تو ابھی کالج میں پڑھتی ہے۔” شمع بیگم نے اعتراض کیا مگر بے سود۔ بلا آخر سالار شاہ کی شرط مان لی گئی عروہ کو اس فیصلے کا پتہ چلا تو وہ کانپ اٹھی۔ ” امی پلیز ۔۔ میں پڑھی لکھی لڑکی ہو کر گاؤں کے جاہل سردار سے کیسے شادی کر لوں؟۔۔۔ ” وہ روتی رہ گئی مگر اسے بھائی کی خوشی کے لیے قربان کر دیا گیا۔ اگلے دن وہ کالج جانے کے لیے رکشے میں بیٹھنے لگی تو بڑی سی کار اسکے سامنے رکی۔ ” بی بی جی۔ آج سے اب گاڑی میں کالج جائیں گی۔ سالار شاہ کا حکم ہے۔”

” آپ کو پتہ ہے آپ کیا کہہ رہی ہیں؟؟ سالار شاہ مجھ سے پورے بارہ سال بڑا ہے پورا گاؤں اس سے خوف کھاتا ہے اس کے اپنے گھر والے اس کے سامنے نظریں اٹھا کر بات نہیں کرتے اور آپ میری شادی اس انسان سے کروائیں گی؟؟ آپ جانتی ہیں نا میں بابا جیسا انسان اپنی زندگی میں چاہتی ہوں ایک متحمل مزاج اور نرم دل شخص سالار شاہ کی طرح سخت مزاج نہیں جس کے اپنے گھر والے اس سے بات کرنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچے۔۔” شمع بیگم کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی وہ وہ دھیمی آواز میں بولی۔۔۔۔

” میں سب جانتی ہوں عروہ مگر تمہارے بھائی نے سب کچھ خود طے کر لیا ہے میں اس کو روکنا چاہتی تھی لیکن وہ خود اپنی مرضی سے ہر بات طے کرتا چلا گیا تھا اور میں کچھ بھی نہیں کر پائی۔۔ ” عروہ نے فوراً نفی میں سر ہلایا تھا۔۔ ” نہیں امی میں نہیں کروں گی شادی کسی جاہل، سخت مزاج انسان کے ساتھ پوری زندگی گزارنا میرے بس کی بات نہیں ھے بھائی کیا فیصلہ کر کے آئے ہیں کیا نہیں اس سے مجھے کوئی سروکار نہیں ہے زندگی بھائی نے نہیں میں نے گزارنی ہے میں ایک ایسے انسان کے ساتھ کیسے شادی کر سکتی ہوں جسے میں نہ جانتی ہوں نہ پہچانتی ہوں آپ کا دماغ ٹھیک ہے امی آپ یہ بات ذہن سے نکال دیں۔۔۔۔” شمع بیگم نے اس کے ہاتھ پکڑ لیے۔۔۔

” عروہ کیا تم اپنے بھائی سے محبت نہیں کرتی؟؟؟ ” وہ فوراً بولی۔ ” میں ان کے لیے ہنستے ہنستے جان دے سکتی ہوں امی لیکن یہ میری زندگی کا سوال ہے میں مانتی ہوں بھائی زینت بھابھی سے بہت محبت کرتے ہیں لیکن میں کیسے اپنی زندگی کا فیصلہ کر دوں امی۔۔۔” شمع بیگم نے بھاری لہجے میں کہا ” جب تم جان دے سکتی ہو تو شادی کرنے میں کیا اعتراض ہے؟؟ میں نے بہت سوچا ہے اتنے امیر لوگ ہیں تمہاری قسمت بدل جائے گی۔۔۔” اچانک ہی ان کا انداز بدل گیا تھا وہ اب کسی بھی طرح اپنی بیٹی کو قائل کرنا چاہتی تھی۔۔۔

بیٹے کی محبت بیٹی کی خوشیوں پر بھاری پڑ چکی تھی عروہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔ ” امی پلیز دولت سب کچھ نہیں ہوتی آپ اتنی سمجھدار خاتون ہیں آپ ہمیشہ امن کو پسند کرتی آئی ہیں پھر آپ ایسے کیسے میرا سودا کر سکتی ہیں بھائی کی خوشیوں کے لیے میں اپنا آپ کیسے قربان کروں۔۔۔ امی یہ غلط ہے یہ نہ انصافی ہے، میں ایسے انسان کے ساتھ نہیں رہ سکتی جس سے سب ڈرتے ہوں وہ مجھے بھی ہمیشہ خوف میں رکھے گا۔۔۔” شمع بیگم نے اس کے چہرے پر ہاتھ رکھا۔۔۔

” میری جان میں تمہاری تکلیف سمجھ سکتی ہوں مگر تم جانتی ہو تمہارے بابا کے بعد تمہارا بھائی ہی اس گھر کا سربراہ ہے وہ فیصلہ کر چکا ہے اور ویسے بھی ابھی صرف نکاح ہوگا رخصتی نہیں رخصتی تمہاری پڑھائی مکمل ہونے کے بعد ہوگی تب تک تم اپنا زہن بنا لینا ابھی فلحال میرے لیے اور اپنے بھائی کی خوشیوں کے لیے راضی ہو جاؤ۔۔۔” عروہ نے بے بسی سے اپنی ماں کو دیکھا تھا اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ اب اس کی بات سننے والا کوئی نہیں ھے شمع بیگم خاموشی سے بیٹھی رہیں۔۔

دوسری جانب سالار شاہ ڈرائنگ روم میں بیٹھا سامنے رکھے کاغذات دیکھ رہا تھا اونچا لمبا دراز قد، چوڑی جسامت کسرتی وجود دیکھنے میں وہ بلا کا حسین تھا سفید شلوار قمیض پہنے اس وقت وہ کسی ریاست کا شہزادہ معلوم ہو رہا تھا اس پر سرداری ججتی تھی وہ حکمرانی کے لیے ہی پیدا ہوا تھا، اس کے سامنے میز پر زمینوں کے نقشے کچھ سرکاری فائلیں اور پنچائیت کے فیصلوں سے متعلق دستاویزات رکھی ہوئی تھی اس نے سفید شلوار قمیض کے اوپر سیاہ واسکٹ پہن رکھی تھی جبکہ ایک ہاتھ میں قلم پکڑے وہ کبھی کسی کاغذ پر نظر ڈالتا تو کبھی دوسرے پر۔۔۔۔

صبح پنچائیت میں ایک اہم فیصلہ ہونا تھا اور وہ انہی فائلوں کو ترتیب دے رہا تھا چند لمحے بعد کمرے کا دروازہ کھلا اور نور جہاں بیگم اندر داخل ہوئیں انہیں دیکھتے ہی سالار فوراً اپنی جگہ سے احتراماً کھڑا ہو گیا تھا کہنے کو وہ پورے گاؤں کا سردار تھا حویلی کی سرداری بھی اسی کے زمے تھی لیکن وہ اپنی ماں کے سامنے ایسے جھکتا تھا جیسے وہ اس کی ملکہ ہوں وہ سیدھا ان کی طرف بڑھا اور جھک کر سلام کیا نور جہاں بیگم نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا۔۔

” صبح سے تمہارا انتظار کر رہی ہوں سالار، آج اتنی دیر کیسے ہوگئی؟؟ ” سالار نے آہستہ سے ان کا ہاتھ تھاما اور انہیں صوفے کی طرف لے گیا ” پنچائیت میں تین فیصلے کرنے تھے اماں سائیں پھر وہاں سے سیدھا زمینوں پر چلا گیا تھا اس کے بعد ہسپتال کا دورہ بھی کرنا تھا لیکن وہ ادھورا رہ گیا کل دوبارہ جانا پڑے گا۔۔۔ ” وہ ان کے سامنے بیٹھ گیا تھا اور مزید بولا۔۔ ” لیکن آپ میرا انتظار کیوں کر رہیں تھیں سب خیریت ہے نا طبیعت تو ٹھیک ہے آپ کی؟۔۔۔” نور جہاں بیگم کچھ لمحے خاموش رہیں پھر گہرا سانس لے کر بولی۔۔۔

” مجھے سمجھ نہیں آرہی سالار تم کیا کرنا چاہ رہے ہو؟؟؟ زینت کی شادی تم ایک ایسے لڑکے سے کروا رہے ہو جس کے آگے پیچھے کچھ نہیں ھے نہ کوئی بڑا کاروبار نہ اچھی نوکری تم کیوں اپنی بہن کی زندگی ایسے انسان کے ساتھ باندھ رہے ہو جو اسے سوائے تکلیف کے کچھ نہیں دے سکے گا وہ کم عمر ہے بے وقوفی کر رہی ہے تم اس کا بے وقوفی میں ساتھ کیوں دے رہے ہو؟؟ مجھے تم سے ایسے فیصلے کی بالکل امید نہیں تھی۔۔۔” سالار خاموشی سے سنتا رہا نور جہاں بیگم مزید بولی۔۔۔

” تم کیوں اس لڑکے کی اتنی حمایت لے رہے ہو پورے گاؤں میں تمہیں اس سے بہتر رشتے نہیں ملے تھے۔۔۔ ” سالار نے سکون سے قلم میز پر رکھا اور ان کی طرف دیکھا اور بولا… ” میں سمجھتا ہوں امی آپ کی ٹینشن بالکل درست ہے لیکن آپ بھی غور سے میری بات کو سمجھیں ہر فیصلہ بیٹیوں پر تھوپا نہیں جاتا ہے زینت اس لڑکے کو پسند کرتی ہے اماں سائیں شادی ہم نے نہیں کرنی زینت نے کرنی ہے زندگی اسے گزارنی ہے مجھے یا آپ کو نہیں..” نور جہاں بیگم نے بے چینی سے اس کی طرف دیکھا تھا اور بولی…

” محبت اور پسند اپنی جگہ ہوتی ہے سالار لیکن زندگی صرف پسند سے نہیں چلتی کل کو اگر وہ لڑکا اسےکچھ نہ دے سکا تو؟ اور ہو سکتا ہے وہ اس کی دولت کی وجہ سے اس سے محبت جتا رہا ہو مجھے افسوس تمہاری بہن پر ہو رہا ہے جو اتنی محبت اور عیاشی کے بعد بھی ایک دوسرے مرد میں مبتلا ہوئی۔۔۔” سالار ہلکا سا مسکرایا۔
” خدا کا دیا میرے پاس سب کچھ ہے اگر میں اپنے بہنوئی کو کاروبار کروا دوں گا تو میری ذات میں کوئی فرق نہیں آئے گا اور امی وہ کسی مرد میں مبتلا نہیں ہوئی ہے اس نے کسی کو پسند کیا ہے اور پسند کا اختیار خدا اور اس کے نبی نے ہر عورت کو دیا ہے میں نے زینت کو کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی شادی کے بعد بھی نہیں ہونے دوں گا آپ اتنی فکر مت کریں….” نور جہاں بیگم فوراً بولی

” میں تمہاری بات سمجھ رہی ہوں اور مجھے معلوم ہے تم کبھی بھی زینت کو تکلیف میں مبتلا نہیں ہونے دو گے اور نہ اس کا شوہر تمہارے ہوتے تمہاری بہن کے ساتھ کچھ برا کر پائے گا لیکن یہ وٹا سٹا کی بات کہاں سے آگئی ہے تم ایک بچی کی زندگی اپنے فیصلے کی وجہ سے باندھ رہے ہو۔ وہ لڑکی تم سے بارہ سال چھوٹی ہے سالار۔ کیا یہ سب درست لگتا ہے تمہیں میں تمہارے لیے ایک خوبصورت لڑکی ہی چاہتی تھی لیکن اتنی کم عمر نہیں وہ بہت پیاری ہے تمہاری اور اس کی جوڑی اچھی لگے گی۔۔۔” سالار کے چہرے کے تاثرات ایک لمحے کوہے سخت ہوئے مگر آواز بدستور پرسکون رہی۔۔۔۔۔

اماں سائیں میں نے سب سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے میں زینت کی حفاظت کے لیے اس کی نند اپنے لیے لارہا ہوں کل کو اگر کبھی میری بہن کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی تو سامنے والے کو یاد رہے گا اس کی بہن بھی اسی گھر میں ہے اور وہ میری بہن کے ساتھ کچھ بھی کرنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچیں گے۔۔۔۔” نور جہاں بیگم نے بے یقینی سے اسے دیکھا؟؟۔۔۔” تم رشتے نبھانے جا رہے ہو یا حساب برابر کرنے، یہ ٹھیک نہیں ہے تم اپنی بہن کے لیے کسی اور کی بہن کی زندگی برباد کرنا چاہتے ہو؟؟ ” سالار چند لمحے خاموش رہنے کے بعد بولا۔


“In our family, we only believe in watta satta (exchange marriage). If your son wants to marry my sister, then in return, I want your daughter as my wife.”

At Salar Shah’s words, silence fell over the room.

“But our daughter is still in college,” Shama Begum protested, but her objection was ignored.

In the end, everyone agreed to Salar Shah’s condition.

When Urwa learned about the decision, she was horrified.

“Mom, please… How can an educated girl like me marry an uneducated village chieftain?” she cried.

She kept pleading, but in the end, she was sacrificed for her brother’s happiness.

The next morning, as she was about to get into a rickshaw for college, a large luxury car stopped in front of her.

“Miss, from today onward, you will go to college in the car. It is Salar Shah’s order.”


“Do you even realize what you’re saying?” Urwa exclaimed. “Salar Shah is twelve years older than me. The entire village fears him. Even his own family doesn’t dare look him in the eye while speaking to him. And you want me to marry someone like that? You know the kind of man I’ve always dreamed of—someone like Father: calm, gentle, and kindhearted. Not someone as stern and intimidating as Salar Shah, whom even his own family is afraid to approach.”

Tears welled up in Shama Begum’s eyes as she spoke softly.

“I know all of that, Urwa. But your brother has already finalized everything. I tried to stop him, but he made every decision on his own. I couldn’t do anything.”

Urwa immediately shook her head.

“No, Mom. I won’t marry such an ignorant, hard-hearted man. Spending my entire life with someone like that is beyond me. I don’t care what decisions my brother has made. He’s not the one who has to live this life—I do. How can I marry someone I don’t even know? Please, stop thinking about this.”

Shama Begum held her daughter’s hands.

“Urwa… don’t you love your brother?”

Without hesitation, Urwa replied,

“I would gladly give my life for him, Mom. But this is my entire future. I know he loves Zeenat deeply, but how can I sacrifice my own life for that?”

Shama Begum spoke heavily.

“If you’re willing to give your life for him, then why object to marrying? I’ve thought about it carefully. They’re extremely wealthy. Your destiny will change.”

Her tone had changed. She was now determined to convince her daughter.

A son’s happiness had become more important than his daughter’s dreams.

Tears streamed down Urwa’s face.

“Mom, please… Money isn’t everything. You’re such a wise woman. You’ve always believed in peace and fairness. Then how can you trade my life for my brother’s happiness? This is wrong. It’s unfair. I can’t live with a man everyone fears. I’ll spend my entire life living in fear too.”

Shama Begum gently cupped her daughter’s face.

“My dear, I understand your pain. But after your father’s death, your brother became the head of this family. He has already made his decision. Besides, only the marriage contract (nikah) will take place now. You won’t move into his house until you’ve completed your education. Until then, perhaps you’ll come to accept it. For my sake… and for your brother’s happiness… please agree.”

Urwa looked helplessly at her mother.

She had realized that no one was going to listen to her anymore.

Shama Begum sat there silently.


Meanwhile, Salar Shah sat in the drawing room, studying the documents spread across the table.

He was exceptionally tall, broad-shouldered, and powerfully built. Strikingly handsome, dressed in a crisp white shalwar kameez with a black waistcoat, he looked like the prince of a great kingdom. Leadership suited him naturally—as though he had been born to rule.

Maps of agricultural lands, government files, and documents related to village council decisions lay before him. Holding a pen in one hand, he carefully reviewed each paper.

The village council (panchayat) was scheduled to make an important decision the next morning, and he was organizing the relevant files.

A few moments later, the door opened and Noor Jahan Begum entered.

The moment Salar saw her, he immediately stood up out of respect.

Although he was the chief of the entire village and master of the mansion, he humbled himself before his mother as though she were a queen.

Walking over to her, he respectfully greeted her and bowed slightly.

Noor Jahan Begum affectionately placed a hand on his head.

“I’ve been waiting for you since morning, Salar. Why are you so late today?”

Salar gently held her hand and escorted her to the sofa.

“There were three cases to settle in the village council, Mother. After that, I went straight to inspect the farmland. I was also supposed to visit the hospital, but I couldn’t finish everything. I’ll have to go again tomorrow.”

He sat opposite her and asked,

“But why were you waiting for me? Is everything alright? Are you feeling okay?”

Noor Jahan Begum remained silent for a few moments before sighing deeply.

“I don’t understand what you’re trying to do, Salar. You’re marrying Zeenat to a man who has nothing—no successful business, no respectable job. Why are you tying your sister’s future to someone who may never be able to provide her with anything but hardship? She’s young and foolish. Why are you supporting her mistake? I never expected such a decision from you.”

Salar listened quietly.

She continued,

“Why are you defending that boy so much? Couldn’t you find someone better for your sister in the entire village?”

Calmly placing his pen on the table, Salar replied,

“I understand your concerns, Mother. They’re completely valid. But please try to understand my point of view as well. Not every decision should be forced upon daughters. Zeenat loves this young man. She is the one getting married—not you or me. She is the one who has to spend her life with him.”

Noor Jahan Begum looked at him anxiously.

“Love and personal choice have their place, Salar, but life cannot run on emotions alone. What if he cannot provide for her? What if he only loves her because of her wealth? I feel sorry for your sister. Despite living in comfort and luxury, she still fell in love with another man.”

Salar smiled faintly.

“By God’s grace, I have more than enough. If I help my future brother-in-law establish a business, it won’t diminish me in any way. And Mother, she hasn’t become infatuated with just any man. She simply chose someone she loves. God and His Messenger have given every woman the right to choose whom she wishes to marry. I’ve never allowed Zeenat to lack anything, and I won’t let her suffer after marriage either. Please don’t worry so much.”

Noor Jahan Begum nodded.

“I understand your point, and I know you’ll never let anyone hurt Zeenat. As long as you’re alive, her husband would never dare mistreat her. But where did this idea of watta satta come from? You’re binding another young girl’s future to your own decision. She’s twelve years younger than you, Salar. Do you really think this is right? I always wished for a beautiful wife for you—but not someone so young. She is a lovely girl. The two of you would make a beautiful couple.”

For a brief moment, Salar’s expression hardened, though his voice remained calm.

“Mother… I made this decision after thinking everything through. I’m bringing Zeenat’s sister-in-law into this family to protect my own sister. If anyone ever mistreats Zeenat, they’ll remember that their own sister is living in my house. They’ll think a thousand times before harming my sister.”

Noor Jahan Begum stared at him in disbelief.

“Are you building relationships… or settling scores? This isn’t right. You’re willing to ruin another girl’s life just to secure your sister’s future.”

After remaining silent for a few moments, Salar finally spoke.



Click the button below to download this novel:

Download Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *